رہبر کمیٹی کا عید کے بعد اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی بلانے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 09 اگست 2019

ای میل

سینیٹ کے الیکشن میں بھی اسٹیبلشمنٹ نے ہمیں ہرایا، اکرم درانی— فوٹو: ڈان نیوز
سینیٹ کے الیکشن میں بھی اسٹیبلشمنٹ نے ہمیں ہرایا، اکرم درانی— فوٹو: ڈان نیوز

اپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی نے عید کے بعد مولانا فضل الرحمٰن کی سربراہی میں آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلانے کا فیصلہ کر لیا۔

رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم درانی نے کمیٹی کے اجلاس کے بعد دیگر رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'ہم حکومت کو بھاگنے نہیں دیں گے، انہیں پکڑیں گے اور ساتھ چلائیں گے۔'

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ اپوزیشن کو جذباتی کر کے ان کے سامنے ایسے فیصلے لائے کہ وہ الگ ہو جائے۔

رہبر کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ ہم کشمیر پر الگ نہیں ہو سکتے، باقی چیزوں پر ہم حکومت کی کسی ایسی بات میں ان کا ساتھ نہیں دیں گے۔

اکرم درانی نے کہا کہ مخصوص ایجنڈے نے 'سی پیک' کو سبوتاژ کیا اور امریکا کی وجہ سے چین جیسا دوست ناراض ہو گیا، وہ سی پیک جو نے اس ملک کی تقدیر بدل رہا تھا اب اس پر بھی کام رک گیا ہے۔

مزید پڑھیں: تحریک عدم اعتماد: اپوزیشن کا شکست قبول کرنے سے انکار، اے پی سی بلانے کا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ سی پیک کو سبوتاژ کرنے کی کوشش تو سلیکٹڈ وزیر اعظم نے پہلے ڈی چوک پر کی تھی جب چین کے صدر نے یہاں آنا تھا اور عمران خان نے 9 مہینے یہاں دھرنا دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت ملک دشمن ہے، انہوں نے تاجروں کا جو حال کیا، یہاں پر بیروزگاری کی، اتنے لوگوں کے گھروں کو مسمار کیا اور کہتے تھے ایک کروڑ نوکریاں دیں گے۔

اکرم درانی نے کہا کہ میں خیبر پختونخوا میں ابھی 83 ہزار نوکریاں ختم کی گئیں، وہاں کرپشن کی انتہا ہے، بلین ٹری اور بی آر ٹی میں کرپشن ہوئی لیکن ادارے خاموش ہیں۔

رہبر کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ ہمارے تو لوگ جو اپنے والد سے ملنے جاتے ہیں انہیں جانے نہیں دیتے اور جن لوگوں نے تباہی نے کی ان کی طرف دیکھ بھی نہیں رہے۔

انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے الیکشن میں بھی اسٹیبلشمنٹ نے ہمیں ہرایا اور وہ لوگ جو اس بات کا اپنی زبان سے اظہار کر رہے ہیں تو ان کی زبان پر بھی تالا لگا دیا ہے۔

اکرم درانی نے کہا کہ اس ملک میں آپ کوئی بات بھی نہیں کر سکتے، جس طرح چینلز بند کیے جارہے ہیں، جس طرح صحافیوں کی زبانوں کو خاموش کروا کر ان کے ہاتھوں سے قلم نکال کر پھینکا جارہا ہے اور دھمکیاں دی جارہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے خلاف تبدیلی کی تحاریک ناکام

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا میڈیا کے ساتھ پرانا واسطہ ہے، ہم ابھی بھی لحاظ کر رہے ہیں ورنہ میڈیا کو بھی اتنی غلامی نہیں کرنی چاہیے جو آج کل وہ کررہے ہیں، انہوں نے بھی آزادی کے لیے نکلنا ہے۔

رہبر کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ اس ملک کے ساتھ جو کھیل کھیلا جارہا ہے، اس میں اگر صحافیوں کا قلم اور سوچ ہمارے ساتھ نہ ہو تو مستقبل میں ہمارے بچے بھی آزاد نہیں رہیں گے۔

اکرم درانی نے کہا کہ ہم نے متفقہ طور پر عید کے بعد مولانا فضل الرحمٰن کی سربراہی میں آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلانے کا فیصلہ کیا ہے، اے پی سی کی تاریخ کا فیصلہ مشاورت سے ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں دہشت گرد پھر سے منظم ہو رہے ہیں حکومت اس پر خاموش کیوں ہے، لاعلم ہے یا پھر کوئی منصوبہ بندی ہورہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ رہبر کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام اپوزیشن جماعتیں سینیٹ میں شکست کی تحقیقات کریں گی اور جن 14 افراد نے اپنی جماعت کی پالیسی کے خلاف اپنی رائے دی ہے ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

سلیکٹڈ وزیراعظم امریکا میں کشمیر ہار کر یا اس کا سودا کر کے آئے ہیں،احسن اقبال

اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ تمام اپوزیشن کا متفقہ خیال ہے کہ حکومت نئی انتقامی کارروائیوں کی لہر برپا کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت، مسئلہ کشمیر سے عوام کی توجہ ہٹانا چاہتی ہے اور سلیکٹڈ وزیر اعظم دورہ امریکا میں کشمیر کو ہار کر یا اس کا سودا کر کے آئے ہیں۔

احسن اقبال نے کہا کہ ہم انہیں کشمیر کے مسئلے سے پیچھے نہیں ہٹنے دیں گے، 72 سال سے کشمیر کے عوام اور پاکستان نے قربانیاں دی ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ یہ ایک سوالیہ نشان ہے کہ جو قدم بھارت 72 سال سے نہیں اٹھا سکا وہ اب اٹھالیا، پاکستان میں کمزور اور مضبوط حکومتیں آئیں لیکن کبھی بھارت کو یہ جرات نہیں ہوئی تھی کہ وہ اتنا بڑا قدم یک طرفہ طور پر اٹھا سکے۔

مزید پڑھیں: ’حکومت پے درپے حماقتوں سے بی جے پی کو سیاسی فائدہ پہنچارہی ہے‘

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا یہ قدم اٹھانا ازخود اس بات کی گواہی ہے کہ اس سلیکٹڈ حکومت نے کشمیر پر سودے بازی کی ہے اور ہم اس کا سودا نہیں ہونے دیں گے۔

احسن اقبال نے کہا کہ عوامی رابطے کے لیے سفارشات پیش کی ہیں اور آل پارٹیز کانفرنس میں عوامی رابطہ مہم کو اگلے مرحلے میں لے جانے کے لیے اعلان کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ یہ حکومت معاشی میدان میں پٹ چکی ہے، یہ معیشت کو تباہ کرچکی ہے، اسٹاک مارکیٹ 5 سال سے پیچھے جاچکی جبکہ تاریخ کی سب سے زیادہ مہنگائی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما کا کہنا تھا کہ حکومت معاشی ناکامی کی ذمہ داری میں قومی اداروں کو شامل کر رہی ہے، نیشنل ڈیولمپنٹ کونسل کے اجلاس میں مسلح افواج جن کا دائرہ کار ملکی دفاع تک ہے انہیں معیشت میں شامل کر کے یہ حکومت اپنی معاشی ناکامی کی بدنامی میں انہیں شامل کرنا چاہتی ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ بحیثیت پاکستانی ہم سمجھتے ہیں کہ معیشت کی ناکامی سے مسلح افواج کو دور رہنا چاہیے، فوج ہمارا قومی ادارہ ہے اس پر کسی معاشی کارکردگی کا الزام نہیں آنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مسلح افواج اپنا دائرہ کار دفاع سے باہر نہ بڑھائیں، ہم نہیں چاہتے پاک افواج بدنام ہوں۔