مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا امریکا سے ڈو مور کا مطالبہ

10 اگست 2019

ای میل

امریکا ایک مضبوط بیان جاری کرسکتا تھا یا اسے کرنا چاہیے تھا، اسد مجید خان — فوٹو: یوٹیوب اسکرین شاٹ
امریکا ایک مضبوط بیان جاری کرسکتا تھا یا اسے کرنا چاہیے تھا، اسد مجید خان — فوٹو: یوٹیوب اسکرین شاٹ

بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر پاکستان نے امریکا سے مزید اقدامات کرنے کا مطالبہ کردیا۔

خطے کو درپیش چیلنجز، دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنے اور امریکا کی معاونت کے لیے واشنگٹن ہمیشہ اسلام آباد سے ڈو مور کا مطالبہ کرتا رہا ہے، تاہم اس مرتبہ کشمیر کے معاملے پر معاونت کے لیے ڈو مور کا مطالبہ پاکستان نے کیا۔

امریکی ویب سائٹ بلوم برگ کو انٹرویو دیتے ہوئے واشنگٹن میں پاکستانی سفیر اسد مجید خان کا کہنا تھا کہ ’امریکا مزید کرسکتا ہے، اسے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کو ختم کروانے کے لیے اقدامات ضرور کرنے چاہئیں، بالخصوص بھارت میں سنجیدگی پیدا کرے۔‘

مزید پڑھیں: بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی

انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے تمام دوست مملک سے اس کی امید کر رہے ہیں، یہ ایک اصولی سوال ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالات ہمیشہ سے ہی کشیدہ رہے ہیں، تاہم بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد یہ ایک اور نئے امتحان میں پڑ گئے ہیں۔

کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے اب تک امریکا کی جانب سے اب تک واضح موقف نہیں اپنایا گیا ہے، تاہم اس معاملے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان مورگن آرٹیگس کا کہنا تھا کہ ’واشنگٹن کی کشمیر کے لیے پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، ہم جنوب مشرقی ایشیا میں ناقابل یقین حد تک مصروف تھے۔‘

یہ بھی پڑھیں: کشمیر کے معاملے پر ہمارے ساتھ کون کون کھڑا ہے؟

امریکا میں پاکستان نے سفیر نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ امریکا ایک مضبوط بیان جاری کرسکتا تھا یا جاری کرنا چاہیے تھا۔

اسد مجید خان نے یہ بھی کہا کہ ’انسانی حقوق کے ایک اہم حامی، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور دنیا میں اہم ملک سمجھے جانے والے بھارت کی جانب سے کشمیریوں کے جذبات کو دبانے کا سلسلہ جو ہم دیکھ رہے ہیں وہ امریکا کو ایک سخت رد عمل دینے کا جواز پیدا کرتا ہے۔

دنیا کا سب سے بڑا قیدخانہ

پاکستانی سفیر اسد مجید خان نے کہا کہ اسلام آباد پاک-بھارت تعلقات اور معاہدوں پر نظر ثانی کرے گا، یہ معاملہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں لے کر جائے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ اس کی فوج کسی بھی مہم جوئی کے لیے تیار رہے۔

انہوں نے کہا کہ ’میں وادی میں مزید کشیدگی دیکھ رہا ہوں، ہم معاملے کو بڑھانا نہیں چاہتے، تاہم اگر ہماری سالمیت کو خطرہ لاحق ہوا تو ہم اس کا منہ توڑ جواب دیں گے۔

مقبوضہ کشمیر میں کشیدگی اور کرفیو کا حوالہ دیتے ہوئے اسد مجید خان نے کہا کہ ’بھارتی فوجیوں کے اقدامات سے پوری وادی جیل کی شکل اختیار کر گئی ہے اور دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل ہوگئی ہے۔

مزید پڑھیں: کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا معاملہ، آئی سی جے کی بھارتی اقدام کی مذمت

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بھارتی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہے، لیکن اسلام آباد وہ حریف نہیں بنے گا جس کی کوئی بھی کارروائی خطے کے امن کو خطرے سے دوچار کردے۔

بھارت نے پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ 7 دہائیوں سے جاری اس مسئلے کے حل کے لیے اس فیصلے کو قبول کرے کیونکہ یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے اور پاکستان اس میں مداخلت نہ کرے۔

تاہم امریکا میں پاکستانی سفیر نے اپنے انٹرویو میں خبردار کیا کہ ’جیسے ہی وادی سے کرفیو اٹھایا جائے گا تو عالمی برادری ایک نسل کشی دیکھے گی۔‘

طالبان مذاکرات

اپنے انٹرویو کے دوران پاکستانی سفیر نے طالبان اور امریکی حکومت کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات پر بھی روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہورہے ہیں جبکہ وزیراعظم اور حکومت پاکستان قیام امن کے لیے پر عزم ہیں۔

پاکستانی سفیر نے کہا کہ ’افغان امن عمل کو آگے لے جانے کے لیے ہم جو کچھ کر سکتے تھے ہم نے کیا۔‘

یہ بھی دیکھیں: کشمیر میں خوف اور بے یقینی کی فضا برقرار

خیال رہے کہ دو دہائیوں سے جاری افغان جنگ کے خاتمے، افغانستان سے اپنے انخلا کے لیے ٹرمپ انتظامیہ طالبان سے امن مذاکرات کر رہی ہے جس کے لیے وہ پاکستان سے مدد طلب کرتی رہی ہے۔

امریکا چاہتا ہے کہ پاکستان طالبان پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے انہیں مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے قائل کرے۔

افغان امن عمل میں امریکا کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد معاہدے کے لیے کوشاں ہیں جس میں امریکی فورسز کا افغانستان سے مشروط انخلا بھی شامل ہے جس میں طالبان یقین دہانی کروائیں گے کہ افغان سرزمین دوبارہ القاعدہ یا داعش جیسی تنظیمیں استعمال نہ کر سکیں۔