امن فاؤنڈیشن کو فعال رکھنے کیلئے 17 کروڑ 90 لاکھ روپے جاری کرنے کی ہدایت

اپ ڈیٹ 18 اکتوبر 2019

ای میل

امن فاؤنڈیشن ایمبولینس سروس عطیات کی بل بوتے پر چلائی جاتی تھی لیکن اب یہ صوبائی حکومت کی فنڈنگ پر انحصار کرتی ہے—تصویر فیس بک
امن فاؤنڈیشن ایمبولینس سروس عطیات کی بل بوتے پر چلائی جاتی تھی لیکن اب یہ صوبائی حکومت کی فنڈنگ پر انحصار کرتی ہے—تصویر فیس بک

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبائی محکمہ خزانہ کو سنگین معاشی بحران کا شکار امن فاؤنڈیشن کے لیے 17 کروڑ 90 لاکھ روپے جاری کرنے کی ہدایت کردی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’حکومت کو ایمبولینس سروس کو آئندہ بدھ تک فنڈز فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے‘۔

اس سے قبل امن فاؤنڈیشن ایمبولینس سروس عطیات کے بل بوتے پر چلائی جاتی تھی لیکن اب یہ صوبائی حکومت کی فنڈنگ پر انحصار کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ حکومت اور امن فاؤنڈیشن کے مابین ایمبولینس کی فنڈنگ کا معاہدہ

جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق ’وزیراعلیٰ ایک ایسا نظام تشکیل دے رہے ہیں جس کے تحت امن فاؤنڈیشن کو وقت پر اس کے فنڈز مل جائیں گے‘۔

اسی حوالے سے سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے اس تاثر کو رد کیا کہ ایمبولینس سروس بند کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فنڈز کے لیے وزیراعلیٰ کو سمری فراہم کردی گئی ہے اور ان کی منظوری کے فوراً بعد فنڈز جاری کردیے جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہنا تھا کہ ’یہ شہریوں کے لیے بہترین سروس ہے‘ اور سندھ حکومت چاہتی ہے کہ فاؤنڈیشن شہریوں کو سہولت فراہم کرتی رہے۔

مزید پڑھیں: زندگی بچ سکتی ہے . . .

تاہم امن فاؤنڈیشن کے ذرائع کا کہنا تھا کہ صوبائی محکمہ صحت نے سروس کے واجبات ادا نہیں کیے جس کی وجہ سے ایمبولینس سروس اس وقت معطل ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ فاؤنڈیشن اور حکومت کے درمیان مئی میں سمجھوتے پر دستخط ہوئے تھے جس کے تحت حکومت کو 45 کروڑ روپے ادا کرنے تھے۔

اسی معاہدے کے مطابق امن فاؤنڈیشن کی 60 ایمبولینسز سندھ ریسکیو اینڈ میڈیکل سروس کے تحت چلائی جانی تھی لیکن فاؤنڈیشن 60 ایمبولینسوں کا مکمل دستہ فراہم کرنے میں ناکام رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایمبولینس سروس اُس وقت سے مشکلات کا شکار ہے جب سے اس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو لندن میں گرفتار کیا گیا تھا، اور اس سروس سے منسلک عملے کو جولائی میں محض نصف تنخواہوں کی ادائیگی ہوسکی تھی۔