الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی سماعت

اپ ڈیٹ 26 نومبر 2019

ای میل

پی ٹی آئی کے منحرف بانی رکن اکبر ایس بابر نے 2014 میں مذکورہ کیس دائر کیا تھا —فائل فوٹو: اے پی پی پی
پی ٹی آئی کے منحرف بانی رکن اکبر ایس بابر نے 2014 میں مذکورہ کیس دائر کیا تھا —فائل فوٹو: اے پی پی پی

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی اسکروٹنی کمیٹی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور مسلم لیگ (ن) کے خلاف فنڈنگ کی تحقیقات کے اجلاس کا آغاز کردیا۔

ای سی پی میں پاکستان تحریک انصاف کے رکن فرخ حبیب کی درخواست پر مسلم لیگ (ن) کی فنڈنگ کی تحقیقات کے لیے اسکروٹنی کمیٹی کا ان کیمرہ اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں درخواست گزار فرخ حبیب اور مسلم لیگ (ن) کے وکیل جہانگیر جدون پیش ہوئے، الیکشن کمیشن اسکروٹنی کمیٹی نے مسلم لیگ (ن) کو سوالنامہ دیا جس میں آمدن اور فنڈنگ کی تفصیلات طلب کی گئیں ہیں۔

اسکروٹنی کمیٹی نے سوالنامے پر مسلم لیگ (ن) سے جواب طلب کرلیا جس کا آئندہ اجلاس جمعہ کو ہو گا۔

پی ٹی آئی کی درخواست چور کی داڑھی میں تنکا ہے، رہنما مسلم لیگ

اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما محسن شاہنواز رانجھا کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے تمام تفصیلات الیکشن کمیشن کو فراہم کی ہیں۔

انہوں نےمطالبہ کیا کہ چیف الیکشن کمشنر اپنی مدت ختم ہونے سے پہلے تحریک انصاف کی غیر قانونی فنڈنگ کا معاملہ نمٹائیں.

یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ خود کرے، اکبر ایس بابر

رہنما مسلم لیگ (ن) نے مزید کہا کہ تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کو غیر فعال کرنے کی کوشش کی ہے اور فرخ حبیب کی درخواست چور کی داڑھی میں تنکے کے برابر ہے۔

محسن شاہنواز رانجھا کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو ملک کے لیے سیکیورٹی رسک قرار دیا جا رہا ہے، پی ٹی آئی نے ایسے لوگوں سے فنڈز لیے جنہوں نے ملک سے وفاداری کا کوئی حلف نہیں لے رکھا تھا۔

مسلم لیگ (ن) کو لینے کے دینے پڑگئے، فرخ حببیب

دوسری جانب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے پارلیمانی سیکریٹری اور درخواست گزار فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے اپنے 40 ہزار عطیات دہندگان کا ریکارڈ اسکروٹنی کمیٹی کے پاس جمع کروایا ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے پاس اپنے 400 ڈونرز کا بھی ریکارڈ موجود نہیں۔

فرخ حبیب کا مزید کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے لوگوں نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ ان سے یہ سوالات کیے جائیں گے اور پی ایم ایل این یو کے فارن فنڈنگ کے زمرے میں آتا ہے جس کا انہیں 2 روز میں جواب دینا پڑے گا۔

مزید پڑھیں: غیر ملکی فنڈنگ کیس: تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کردیا

رہنما پی پی پی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی فنڈنگ کی جب تفصیلات سامنے آئیں گی تو ہم ان سے مزید سوالات کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) والے چیئرمین سینیٹ عدم اعتماد تحریک، آزادی مارچ اور فارن فنڈنگ کیس کی صورت میں پی ٹی آئی کے لیے گڑھا کھود رہی تھی جس میں انہیں لینے کے دینے پڑ گئے اور اب خود اپنا حساب بھی پڑ رہا ہے۔

فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے حنیف عباسی کیس میں دیے گئے فیصلے میں لکھا تھا کہ تمام پارٹیوں کے خلاف بغیر کسی امتیاز کے شفاف طریقے سے جانچ پڑتال کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اسکروٹنی کمیٹی کا اجلاس روزانہ کی بنیاد پر ہوتا کہ قوم کے سامنے ان کی اصل حقیقت کھل کر سامنے آجائے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے رکنِ اسمبلی فرخ حبیب نے بھی اپوزیشن کی 2 مرکزی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے خلاف الیکشن کمیشن میں فارن فنڈنگ کیس دائر کردیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ اس کی سماعت بھی ان قواعد و ضوابط پر کی جائے جن پر پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ کیس کی سماعت کی جارہی ہے۔

قبل ازیں پی ٹی آئی کے خلاف فارن فنڈنگ کیس دائر کرنے والے اکبر ایس بابر نے 23 نومبر کو ایک اور درخواست دائر کی تھی جس میں الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ کمیشن اسکروٹنی کمیٹی سے اسٹیٹ بینک اور دیگر بینکوں میں موجود پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس کی تفصیلات منگوائے اور کمیٹی سے تمام ریکارڈ طلب کرکے خود فیصلہ کرے۔

مذکورہ درخواست میں کہا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن پہلے ہی 70 مرتبہ سماعتیں کرچکا ہے لیکن پھر بھی پی ٹی آئی، الیکشن کمیشن اور اسکروٹنی کمیٹی میں کوئی ریکارڈ فراہم کرنے میں ناکام رہی۔

واضح رہے کہ الیکشن ایکٹ کے مطابق اگر کوئی سیاسی جماعت ممنوعہ ذرائع سے فنڈز وصول کرنے کی مرتکب ہوئی تو پارٹی تحلیل ہوجائے گی اور قومی اسمبلی، سینیٹ، صوبائی اسمبلی کے ساتھ ساتھ مذکورہ پارٹی کے ٹکٹ پر بلدیاتی انخاب لڑنے والے اراکین بھی بقیہ مدت کے لیے نااہل کردیے جائیں گے۔

الیکشن ایکٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پارٹی تحلیل کرنے کے اعلامیے کے 15 روز کے اندر حکومت ہی معاملہ سپریم کورٹ میں بھجوائے گی جس کے بعد سپریم کورٹ اس فیصلے کو برقرار رکھے گی کہ اس قسم کی پارٹی کو فوراً تحلیل کرنا چاہیے۔

پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس میں اب تک کیا ہوا؟

خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے منحرف بانی رکن اکبر ایس بابر نے 2014 میں مذکورہ کیس دائر کیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ غیر قانونی غیر ملکی فنڈز میں تقریباً 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی طریقے 'ہنڈی' کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔

مزید پڑھیں: اپوزیشن کا الیکشن کمیشن سے غیرملکی فنڈنگ کیس منطقی انجام تک پہنچانے کا مطالبہ

ان کا یہ بھی الزام تھا کہ جو فنڈز بیرونِ ملک موجود اکاؤنٹس حاصل کرتے تھے، اسے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں پوشیدہ رکھا گیا۔

جس پر گزشتہ برس مارچ 2018 میں ایک اسکروٹنی کمیٹی قائم کی گئی تھی جسے ایک ماہ میں پی ٹی آئی کی غیر ملکی فنڈنگ کا آڈٹ کرنے کا حکم دیا گیا تھا بعدازاں اس کی مہلت میں غیر معینہ مدت تک توسیع کردی گئی تھی۔

رواں برس یکم اکتوبر کو ای سی پی نے غیر ملکی فنڈنگ کیس کی جانچ پڑتال میں رازداری کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے دائر 4 درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

مزید پڑھیں: ہائی کورٹ کا پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کے ذرائع ای سی پی کو فراہم کرنے کا حکم

10 اکتوبر 2019 کو الیکشن کمیشن نے اسکروٹنی کمیٹی کے ذریعے تحریک انصاف کے اکاؤنٹس کے آڈٹ پر حکمراں جماعت کی جانب سے کیے گئے اعتراضات مسترد کردیے تھے۔

چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے اسکروٹنی کمیٹی کو کام جاری رکھنے کا حکم دیا تھا۔

23 اکتوبر کو پی ٹی آئی وکیل 10 اکتوبر کے فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے اسکروٹنی کمیٹی کے اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے تھے۔

7 نومبر کو پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کے مذکورہ فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ الیکشن کمیشن کی تشکیل مکمل نہ ہونے کے باعث 10 اکتوبر کے حکم کا کوئی قانونی جواز نہیں لہٰذا اسے معطل کر کے غیر ملکی فنڈنگ کی اسکروٹنی کے لیے قائم خصوصی کمیٹی کو بھی کام سے روکا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن نےتحریک انصاف کےخلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنادیا

بعد ازاں اسکروٹنی کمیٹی کے 12 نومبر کو مقرر کردہ اسکروٹنی اجلاس سے ایک روز قبل پی ٹی آئی نے غیر ملکی فنڈنگ کے ذرائع کی تحقیقات روکنے اور ای سی پی کا 10 اکتوبر کا حکم معطل کرنے کی ایک اور درخواست دائر کردی تھی۔

12 نومبر کو پی ٹی آئی نے کمیٹی کو بتایا کہ جب تک اسلام آباد ہائی کورٹ پٹیشن پر فیصلہ نہیں کردیتی وہ کمیٹی کی سماعت میں شریک نہیں ہوسکتی اور نیا وکیل مقرر کرنے کے لیے مزید وقت بھی درکار ہے حالانکہ عدالت نے حکم امتناع بھی نہیں دیا تھا۔

پی ٹی آئی کی جانب سے اسکروٹنی کا عمل روکنے کی درخواست جسٹس محسن اختر کیانی کے ایک رکنی بینچ میں 20 نومبر کو سماعت کے لیے مقرر کی گئی تھی، تاہم پی ٹی آئی وکیل شاہ خاور کے عدم موجودگی کے باعث سماعت 16 دسمبر تک ملتوی کردی گئی۔