بنگلہ دیش: ایک ہفتے میں دوسری فیکٹری میں بدترین آتشزدگی سے متعدد ہلاکتیں

15 دسمبر 2019

ای میل

بنگلہ دیش میں فیکٹریوں میں آتش زدگی کے واقعات اکثر پیش آتے ہیں—فائل/فوٹو:اےا یف پی
بنگلہ دیش میں فیکٹریوں میں آتش زدگی کے واقعات اکثر پیش آتے ہیں—فائل/فوٹو:اےا یف پی

بنگلہ دیش کے ضلع غازی پور میں 4 روز کے اندر دوسری فیکٹری بدترین آتش زدگی کا شکار ہوگئی جہاں کم ازکم 10 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔

خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق غازی پور کے صنعتی علاقے میں پنکھے بنانے کی ایک فیکٹری میں آگ لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے شعلے بلند ہوگئے تاہم فائر فائٹرز نے دو گھنٹے تگ و دو کے بعد آگ پر قابو پالیا۔

فائر سروس کے ترجمان ظل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ عملے کو فیکٹری کے ملبے سے 10 لاشیں ملی ہیں اور تلاش کا کام جاری جہاں مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔

مزید پڑھیں:بنگلہ دیش: عمارت میں آتشزدگی سے 19 افراد ہلاک

انتظامیہ تاحال یہ بتانے سے قاصر ہے کہ جب آگ لگی تھی تو فیکٹری کے اندر کتنے افراد موجود تھے جبکہ فیکٹری چھوٹی اور مختصر رقبے پر قائم تھی۔

حکام کے مطابق فیکٹری میں آگ لگنے کی وجہ بھی تاحال معلوم نہ ہوسکی۔

اس سے قبل 12 دسمبر کو ہی ڈھاکا کے باہر پلاسٹک کی غیرقانونی فیکٹری میں آگ لگنے سے کم ازکم 17 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش کے صنعتی علاقے میں فیکٹریوں میں آگ لگنے کے واقعات عام ہیں خاص کر سردیوں کے دوران خشک موسم کے رات زیادہ واقعات پیش آتے ہیں جبکہ فیکٹریوں میں حفاظتی اقدامات کی بھی نامکمل ہوتے ہیں۔

رواں برس فروری میں ڈھاکا کی تاریخی مغل بلڈنگ میں بدترین آگ لگی جس کے نتیجے میں 70 سے زائد افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش: کیمیائی گودام میں آتشزدگی، 69 افراد ہلاک

عہدیدار کا کہنا تھا کہ آگ شہر کے پرانے علاقے چوک بازار میں ممکنہ طور پر گیس سیلنڈر سے لگی اور وہاں موجود کیمیائی مواد کی وجہ سے آگ نے تیزی سے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

آگ کی شدت کی وجہ سے شعلے قریبی متصل 4 عمارتوں میں بھی پہنچ گئے، مذکورہ عمارتوں کو بھی کیمیائی گودام کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔

بنگلہ دیش میں نومبر 2012 میں بھی ایک گارمنٹ فیکٹری میں آتش زدگی کا شکار ہوئی تھی جہاں کم ازکم 111 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے اور اس واقعے کو بنگلہ کی تاریخ میں آتش زدگی کے بدترین واقعات میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔

ڈھاکا کے پرانے علاقے میں ہی 2010 میں کیمیائی گودام کے طور پر استعمال ہونے والی عمارت میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 120 سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔