پاکستان نے بچوں سے جنسی زیادتی کا مجرم برطانیہ کے حوالے کردیا

اپ ڈیٹ 30 جنوری 2020

ای میل

42 سالہ چوہدری اخلاق کو حکام کی جانب سے حوالے کرنے کے بعد منگل کے روز برطانیہ لے جایا گیا —فائل فوٹو: بی بی سی
42 سالہ چوہدری اخلاق کو حکام کی جانب سے حوالے کرنے کے بعد منگل کے روز برطانیہ لے جایا گیا —فائل فوٹو: بی بی سی

لندن: اسلام آباد اور برطانیہ میں اتھارٹیز کی کامیاب کوششوں کے بعد 21ویں صدی کے پہلے عشرے کے اوائل میں بچوں سے جنسی زیادتی کرنے والے مجرم کو برطانوی حکام کے حوالے کردیا گیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق گریٹ مانچسٹر پولیس (جی ایم پی) نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ 42 سالہ چوہدری اخلاق کو حکام کی جانب سے حوالے کرنے کے بعد منگل کے روز برطانیہ لے جایا گیا۔

برطانیہ میں ٹرائل کے دوران فرار ہو کر پاکستان آنے والے مذکورہ مجرم کو 4 سال بعد جنوری 2019 میں فیصل آباد کے علاقے سانگلہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

چوہدری اخلاق حسین پر اپریل 2016 میں بچوں کے ساتھ 3 مرتبہ جنسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام ثابت ہوا تھا، جس میں 2 دفعہ ریپ اور ایک دفعہ ریپ کی سازش شامل تھی، جس پر مجرم کو 19 سال قید کی سزا بھگتنے کے لیے برطانیہ کے حوالے کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاک- برطانیہ مشترکہ آپریشن، بچوں سے زیادتی کا مجرم گرفتار

مذکورہ شخص 2016 میں ایک لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے ان 10 افراد میں سے ایک تھا، جن کا تعلق پاکستان، بنگلہ دیش اور افغان نژاد شہریوں پر مشتمل ایک گروہ سے تھا، جنہیں درجنوں نو عمر لڑکیوں کا جنسی استحصال کرنے پر سزا ہوئی۔

عدالت میں بتایا گیا تھا کہ یہ افراد لڑکیوں کو تحائف دے کر بہلاتے اور پھر انہیں دوسرے مردوں کے ساتھ جنسی عمل پر مجبور کرنے سے قبل شراب پلاتے اور نشہ آور ادویات دیتے تھے۔

ان مجرمان کا ٹرائل برطانیہ کے ’آپریشن ڈبلیٹ‘ کے تحت کیا گیا جو 2003 سے 2013 کے درمیان بچوں کا جنسی استحصال کرنے کی رپورٹس کی تحقیقات کرنے کے لیے 2012 میں شروع کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ اخلاق حسین نے ٹرائل کے دوران جج سے برطانیہ میں ہی ایک عزیز کے جنازے میں شرکت کی اجازت مانگی تھی جس کے ملنے کے بعد وہ پاکستان فرار ہوگیا تھا اور گزشتہ برس برطانوی اور مقامی حکام کی مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں گرفتار ہونے تک وہ مفرور تھا۔

مزید پڑھیں: برطانیہ میں 1400 بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی، رپورٹ

مجرم کی حوالگی کے بعد ’آپریشن ڈبلیٹ‘ کے ایک سینئر تفتیش کار جیمی ڈینیئل کا کہنا تھا کہ ’اخلاق حسین ایک جنسی شکاری ہے جسے یہ غلط گمان ہوا کہ وہ انصاف سے بچ کر کسی دوسرے ملک میں جاکر اچھی زندگی گزار سکتا ہے جب کہ اس کی متاثرہ خواتین اس کے غلط کاموں کے اثرات کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مذکورہ شخص کی حوالگی اس بات کا اظہار ہے کہ جب بچوں کے جنسی استحصال کے مجرموں کا پیچھا کرنے کی بات آئے گی تو ہم انہیں پوری دنیا میں تلاش کریں گے‘۔

جیمی ڈینیئل نے کہا کہ ’اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کتنے برس گزر گئے ہم اخلاق حسین جیسے خطرناک مجرموں کو پکڑنے اور ان کو گھناؤنے جرم کے بعد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ہر وہ چیز کریں گے جو ہمارے اختیار میں ہوئی‘۔

دوسری جانب پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر ڈاکٹر کرسچیئن ٹرنر کا کہنا تھا کہ اخلاق حسین کی حوالگی برطانیہ اور پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قریبی تعاون کی تازہ مثال ہے۔

مجرم کی تلاش اور گرفتاری

واضح رہے کہ پاکستانی حکام نے بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث برطانیہ کے مطلوب ترین شخص کی تلاش کا کام برطانیہ کی جانب سے مقامی پولیس کو فراہم کردہ صرف ایک تصویر کی مدد سے کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ: بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں 44 افراد گرفتار

برطانوی حکام کی جانب سے مجرم کی حوالگی کی درخواست موصول ہونے کے فوراً بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اسلام آباد کے ایڈیشنل مجسٹریٹ کی عدالت سے 12 دسمبر 2017 کو اخلاق حسین کے ناقابل ضمانت وارنٹ حاصل کیے تھے۔

جس کے بعد ایف آئی کے ڈائریکٹر نے مجرم کے وارنٹ گرفتاری جاری کروانے کے لیے پولیس کے تعاون کی درخواست کی تھی۔

اس بارے میں ایک پولیس افسر نے ڈان کو بتایا کہ مقامی پولیس کو مجرم کی صرف ایک تصویر فراہم کی گئی تھی جس پر اسپیشل برانچ کی مدد سے تلاش کی گئی اور اس کی موجودگی کی معلومات جاننے میں کامیابی حاصل ہوئی۔

سینئر افسر کا کہنا تھا کہ مجرم سانگلہ ہل کے علاقے صدر کے ایک گاؤں میں 3 منزلہ عمارت میں چھپا ہوا تھا، جسے گزشتہ برس جنوری میں گرفتار کرنے کے بعد ایف آئی اے کے حوالے کردیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں؛ برطانیہ: کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال کے الزام میں 20 افراد کو قید

بعد ازاں منگل کے روز اخلاق حسین کو سخت سیکیورٹی میں راولپنڈی منتقل کیا گیا جس کے بعد ایف آئی اے کی ٹیم نے مجرم کو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچا کر برطانیہ کی سیکیورٹی ایجنسیز کے حوالے کردیا تھا۔