کورونا وائرس:ایران میں صورتحال سنگین ہے، امریکا پابندیاں ختم کرے، پاکستان

اپ ڈیٹ 21 مارچ 2020
ایران میں وائرس سے اب تک ایک ہزار 284افراد ہلاک ہو چکے ہیں— فائل فوٹو: اے ایف پی
ایران میں وائرس سے اب تک ایک ہزار 284افراد ہلاک ہو چکے ہیں— فائل فوٹو: اے ایف پی

وزیر اعظم عمران خان نے کورونا وائرس کے تناظر میں عالمی برادری سے ایران پر عائد پابندیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔

ایک پریس بریفنگ کے دوران عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میں دباؤ ڈالوں گا اور عالمی برادری پر زور دوں گا کہ وہ ایران پر عائد پابندیاں ختم کرے'۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بہت ناانصافی ہے کہ ایک طرف تہران اتنی بڑی وبا کا سامنا کررہا ہے اور دوسری طرف انہیں بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا ہے‘۔

مزیدپڑھیں: امریکا نے ایرانی وزیر اطلاعات پر پابندی عائد کردی

واضح رہے کہ ایران کے صدر حسن روحانی نے گزشتہ ہفتے وزیر اعظم عمران خان سمیت دنیا بھر میں اپنے ہم منصبوں کو خطوط لکھے تھے جن میں انہیں یہ بتایا تھا کہ امریکی پابندیوں سے کورونا وائرس کے خلاف ان کے ملک کی لڑائی کس طرح متاثر ہورہی ہے۔

اپنے خط میں حسن روحانی نے دیگر ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ ان کے ملک کے خلاف امریکی پابندیوں کا مشاہدہ بند کریں۔

ادھر ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے بھی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو خط لکھ کر مطالبہ کیا تھا کہ امریکی پابندیاں ختم کی جائیں۔

دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی ایران کی صورتحال کو “سنگین” قرار دیتے ہوئے امریکی پابندیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ تہران کو وبائی امراض سے لڑنے اور جان بچانے میں مدد فراہم کی جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ پوری عالمی برادری ایک وبائی بیماری کا مقابلہ کر رہی ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ ایسے بڑے چیلنج اور دشواری کے وقت میں بطور لیڈر ہمدردی کا اظہار کریں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا نے ایران کے 8 اعلیٰ عہدیداروں پر پابندی کا اعلان کردیا

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ خطرے کے اس لمحے میں ایران کے خلاف پابندیوں کو ختم کرنا ہوگا تاکہ تہران قیمتی انسانی جانوں کو بچانے کے لیے اپنے وسائل بروئے کار لاسکے۔

وزیر خارجہ نے ایران کے اعدادوشمار کے حوالے سے یہ بتایا گیا کہ ایران میں ہر 10 منٹ میں ایک شخص کورونا وائرس سے ہلاک ہورہا ہے اور صورتحال 'سنگین' ہے۔

واضح رہے کہ ایرانی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ روز تک ایران میں کورونا وائرس سے ایک ہزار 433 افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ 19 ہزار 644 افراد اس وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں۔

دریں اثنا اسلام آباد میں ایران کے سفارتخانے نے ایک بیان میں کہا کہ تہران کے خلاف امریکی پابندیاں اس مرض پر قابو پانے کی ایرانی کوششوں میں رکاوٹیں کھڑی کررہی ہیں، ساتھ ہی متنبہ کیا کہ اس سے خطے کے دوسرے ممالک کے شہریوں کی صحت کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ پابندیاں نہ صرف انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین اور بین الاقوامی عدالت انصاف کے فیصلوں کے خلاف ہیں بلکہ ایران کو طب، طبی سامان تک رسائی سے محروم رکھنا اور ایران کے عوام کے لیے صحت کی دیکھ بھال اور زندگی کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

علاوہ ازیں سفارت خانے نے متنبہ کیا کہ وائرس کے فوری پھیلنے کے پیش نظر پابندیوں سے تمام علاقائی ممالک اور دنیا کی صحت کی حفاظت خطرے میں پڑ جائے گی۔

مزید پڑھیں: ایران میں کورونا وائرس سے ہر 10 منٹ میں ایک شخص ہلاک

سفارتخانے کا کہنا تھا کہ ایران کو خصوصی صحت کی دیکھ بھال کرنے والے دنیا کے 10 ممالک میں شامل ہونے کے باوجود خصوصی حفاظتی لباس اور سامان کی کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے ایران میں طبی عملہ اس بیماری کا مقابلہ کرتے ہوئے زیادہ خطرے کا شکار ہے اور ان میں سے متعدد اس وائرس کا شکار ہوگئے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی پابندیاں کے نتیجے میں ایران غیر ملکی ممالک میں اپنے مالی وسائل تک رسائی اور برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی کے استعمال سے محروم ہے جس کے نتیجے میں سازو سامان، اشیا اور ادویات کی تیاری اور درآمد، مریضوں کا علاج، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور تحقیق کا فقدان ہوگیا ہے۔

دوسری جانب امریکا نے پابندی ختم کرنے کے ایرانی رہنماؤں کے مطالبے کو مسترد کردیا اور کہا کہ کورونا وائرس کے پھیلنے سے وہ ان پابندیوں سے نہیں بچ سکے گا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی امور کے لیے امریکی خصوصی نمائندے برائن ہک نے کہا کہ حکومت پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی ہماری پالیسی جاری ہے۔

خیال رہے کہ امریکا نے دو روز جنوبی افریقہ، ہانگ کانگ اور چین میں قائم 9 اداروں کے علاوہ 3 ایرانی افراد کو ہدف بنانے پر ایران پر اضافی پابندیاں عائد کردی تھیں۔

علاوہ ازیں پاکستان میں ایران کے سفیر سید محمد علی حسینی نے بھی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو ایک خط لکھا جس میں ان سے اپیل کی گئی کہ وہ پابندیوں کو ختم کرنے کے لیے دباؤ بڑھانے میں مدد کریں۔


یہ خبر 21 مارچ 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی

تبصرے (0) بند ہیں