‘یہ کورونا ختم تو نہیں ہوگا ناں مام؟’

04 اپريل 2020

ای میل


قرنطینہ


‘صحتیاب ہوکر گھر جارہے ہیں، کیسا لگ رہا ہے؟’

نرس نے بڑے میاں کو قرنطینہ کے مرکز سے رخصت کرتے ہوئے بڑے پیار سے پوچھا۔

سفید سر جُھکا اور درد میں لپٹی ہنسی کراہ اٹھی۔

‘تبدیلی کا احساس ہی نہیں ہوا۔ میں تو پہلے بھی قرنطینہ ہی میں تھا۔ گھر کے ایک کمرے میں بے کار سامان کی طرح پڑا۔’


تعلق


‘یہاں کھڑے کیا سناٹا دیکھ رہے ہیں؟’

بیوی نے پیچھے سے آکر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔ بالکونی سے پرے متلاشی آنکھوں کا رُخ بیوی کے چہرے کی طرف ہوگیا۔

‘یار دیکھ رہا ہوں شاید کوئی سگریٹ پیتا بندہ نظر آجائے تو اس سے سگریٹ لے لوں۔’

نظریں دوبارہ خالی سڑک پر رواں ہوگئیں۔

‘ارے پڑوس سے لے لیں ناں، وہ باپ بیٹے دونوں سگریٹ پیتے ہیں۔’

‘واہ بھئی تمہیں پڑوس کی بڑی خبر ہے۔’

‘کیوں نہ ہو 15 سال سے یہیں رہ رہے ہیں، دونوں یہیں گیلری میں کھڑے سگریٹ پھونک رہے ہوتے ہیں۔’

‘اچھا ان سے جاکر مانگتا ہوں۔’

دروازے کی طرف بڑھتے قدم یکایک رک گئے۔

‘یہ تو بتاﺅ پڑوسی کا نام کیا ہے؟’

اس نے مُڑ کر سوال کیا تو بیوی سوچ میں پڑگئی۔


سوال


‘مام! آج ڈیڈی گئے نہیں؟’

8 سالہ شیری نے بیڈ پر سوتے باپ کو دیکھ کر حیرت سے پوچھا۔ بزنس کو بڑھانے میں مصروف باپ رات کو جب گھر میں قدم رکھتا تو شیری سوچکا ہوتا تھا۔

‘آج سے ڈیڈی گھر پر رہیں گے، حکومت نے حکم دیا ہے سب گھر پر رہیں کورونا کی وجہ سے۔’

شیری نے کورونا کے بارے میں کچھ اسکول میں سنا تھا، کچھ ٹی وی سے جانا تھا، بوتیک میں پیسہ بڑھانے اور جم میں چربی گھٹانے کی سرگرمیوں میں مصروف ماں کو بچے کو کچھ بتانے کی فرصت کب تھی، بس کورونا کا سرسری سا تذکرہ کرکے ایک ہدایت نامہ جاری کردیا تھا۔

‘تو آپ بھی نہیں جائیں گی مام؟’

وہ بستر سے اچھل کر ماں کے سامنے کھڑا ہوگیا۔

‘نہیں’، ماں نے موبائل سے نظریں ہٹائے بغیر جواب دیا۔

‘واﺅووو۔’

بچے نے تالی بجائی۔

پھر کچھ سوچ کر ماں کی ٹھوڑی پر ہاتھ رکھ کر بولا:

‘کورونا ختم تو نہیں ہوگا ناں مام؟’

جانے وہ کیا کہنا چاہتا تھا۔


ایک دن کیا ہُوا


ہر طرف سناٹا تھا مگر میرے پورے وجود میں 2 جملے شور مچارہے تھے، جن میں سے ایک میرے دوست نے اس وقت بولا تھا جب میں نے اس کے سامنے اپنے بیٹے کے ملائم گالوں کو زوردار تپھڑوں سے سرخ کردیا تھا، بس اس بات پر کہ اس کے ننھے ہاتھوں میں تھمی پیالی سے چائے چھلک گئی تھی جو وہ میرے دوست کے لیے ڈرائنگ روم میں لایا تھا۔

‘بچوں سے اتنی سختی اچھی نہیں ہوتی، باغی ہوجاتے ہیں۔’

میں نے سنی ان سنی کردی تھی۔

یہ تو میرا روز کا معمول تھا۔ دفتر کی تلخیاں، بسوں کے دھکے، کم آمدنی کا رنج سب غصہ بن کر مجھ میں دھاڑتے رہتے اور میں بیوی، 10 سال کے بیٹے اور 8 سالہ بیٹی پر چنگھاڑتا رہتا۔

میں بیوی کو جھاڑنے اور بچوں کو مارنے کے بہانے ڈھونڈتا تھا۔ سو جب میں شام ڈھلے گھر میں داخل ہوتا تو ڈری ہوئی بیوی اور سہمے ہوئے بچے لرزتے سلام سے میرا استقبال کرتے پھر اتنے محتاط ہوجاتے کہ ان سے کوئی غلطی سرزد ہوکر ہی رہتی اور میرے دن بھر کے دبے غصے کو پھوٹ نکلنے کا موقع مل جاتا۔ جانتا تھا غلط کر رہا ہوں، اندر سے بار بار آواز اٹھتی کہ اپنا رویہ بدل لو، مگر جس خول میں خود کو بند کرچکا تھا اسے توڑنا اپنے بس کی بات نہیں لگتی تھی۔

آج دفتر سے ہدایت ملی تھی کہ کورونا کی وبا کے باعث اب گھر پر رہ کر ہی کام کرنا ہے۔ میں نے گھر پہنچتے ہی سپاٹ آواز میں اعلان کردیا ‘کل سے مجھے جلدی مت اٹھانا۔ اب کئی دنوں تک آفس نہیں جانا’۔

بیوی کے منہ سے بس ‘جی اچھا نکلا’۔ ماں اور بچوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور خاموشی چھاگئی۔

میں کھانا کھاکر لیٹ گیا۔ پھر خیال آیا سگریٹ خریدکر رکھ لوں جانے کل ملے نہ ملے۔ کمرے سے بار نکلتے ہی کانوں میں پڑنے والی آواز نے میرے قدم روک لیے۔

‘امّی اب تو ابّو سارا دن گھر پر ہوں گے، مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے، ہم دونوں کو نانی کے ہاں بھیج دیں۔’

میرا بیٹا ماں کا دامن پکڑے التجا کر رہا تھا۔

‘ہاں امّی پلیز’، بیٹی نے بھائی کی تائید کی۔

مزید کچھ سنے بغیر میں تیزی سے باہر نکل گیا۔

اس وقت سے دوست اور بیٹے کے جملے مجھ میں چیخ رہے تھے۔

اگلے دن ناشتہ کرتے ہی میں باہر نکل گیا۔ واپس آیا تو میرے ہاتھ میں لوڈو تھا۔

‘آؤ بھئی لوڈو کھیلیں۔’

میری آواز پر دونوں بچے آنکھوں میں حیرت لیے میرے پاس آبیٹھے۔ ‘تم بھی آﺅ یار، چھوڑو کام وام ہوتے رہیں گے’۔

میرے بلانے پر بیوی بھی آکر بیٹھ گئی۔ کچھ ہی دیر میں سارا گھر ہمارے شور اور قہقہوں سے بھر رہا تھا۔

اچانک بیوی کا موبائل بج اٹھا۔

‘جی امّی’ کہہ کر وہ کال سننے لگی، پھر اچھا امّی کہتے ہوئے موبائل ایک طرف رکھ دیا۔

‘تمہارے ماموں تم دونوں کو لینے آرہے ہیں’، اس نے بچوں کو مخاطب کیا۔ میرے دل پر گھونسا سا لگا۔

‘منع کردیں ہمیں کہیں نہیں جانا۔’

بیٹے نے گوٹیں جماتے ہوئے فیصلہ سنادیا۔

‘ہاں ہم اپنے گھر پر ہی رہیں گے’

بیٹی تیزی سے اٹھی اور پیچھے سے آکر میرے کندھوں پر جھول گئی۔

اور ہم سب ایک ساتھ ہنس دیے۔


ضرورت


‘ابّو میں کچھ کتابیں لے لوں؟’

میرا بیٹا میرے کمرے کی دیوار سے لگے بُک شیلف کے پاس کھڑا پوچھ رہا تھا۔ پتا نہیں میں حیران زیادہ ہوا یا خوش۔

ابھی پچھلے ہفتے ہی تو وہ اور اس کی بیوی ڈرائنگ روم کو وسعت دینے کے لیے میرے کمرے کا رقبہ گھٹانے کا منصوبہ بنارہے تھے۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں تھا، مگر جب میرا کتابوں سے بھرا بک شیلف اس منصوبے کی راہ میں رکاوٹ بنا تو بیٹے نے جھٹ حل پیش کیا ‘ان کتابوں کا کیا کرنا ہے سب ابّو کی پڑھی ہوئی تو ہیں، بیچ دیتے ہیں’، ‘ہاں یہ ٹھیک ہے، ہے ناں ابّو؟’ ہر معاملے میں ایک دوسرے کی مخالف کرتے میاں بیوی اس تجویز پر متفق تھے۔ ‘ہرگز نہیں’ کہتا میں کھانے کی میز سے اٹھ کھڑا ہوا۔

اور آج وہی بیٹا.... ’ہاں ہاں لے جاﺅ’ میں نے مسکرا کر اجازت دی تو وہ 8، 10 موٹی موٹی کتابیں اٹھا کر کمرے سے نکل گیا۔

‘چلو گھر پر رہنے کی پابندی کا یہ فائدہ تو ہوا کہ صاحبزادے نے بیزاری مٹانے کے لیے کتابوں کا رخ کیا’ میں جھوم اٹھا۔

‘ٹھک ٹھ،ٹھکااااا ٹھکاک ٹھکاک’ سماعت چٹخاتی کرخت آوازیں میرے مطالعے میں مخل ہونے لگیں۔

‘یہ معیز اور سنی ہوں گے۔ دونوں چچا بھتیجے کو ہر شور سے بھرا مشغلہ پسند ہے’ سوچتا ہوا میں چھوٹے بیٹے کے کمرے کی طرف بڑھا، مگر آواز بڑے بیٹے کے بیڈروم سے آرہی تھی۔ میں نے کمرے میں قدم رکھے تو سامنے بیڈ پر کیرم دھرا تھا جس کے چاروں طرف دونوں بیٹے، بہو اور پوتا بیٹھے اپنی اپنی باریاں لے رہے تھے۔ کیرم بورڈ کو اونچا کرنے کے لیے بڑے سلیقے سے کتابیں اوپر تلے رکھ کر چھوٹی سی میز بنالی گئی تھی۔