لاہور: نجی اسکول میں ہراسانی کے واقعات کی تحقیقات کیلئے 'خصوصی کمیٹی' تشکیل

اپ ڈیٹ 07 جولائ 2020

ای میل

وزیر تعلیم پنجاب کے مطابق حکومت، پرائیویٹ اسکولز اینڈ ٹیچرز لائسنس ایکٹس میں انسداد ہراسانی کی شقیں شامل کرے گی 
— فوٹو: ڈان آرکائیو
وزیر تعلیم پنجاب کے مطابق حکومت، پرائیویٹ اسکولز اینڈ ٹیچرز لائسنس ایکٹس میں انسداد ہراسانی کی شقیں شامل کرے گی — فوٹو: ڈان آرکائیو

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے لاہور کے نجی اسکول میں طالبات کے ساتھ مبینہ ہراسانی کی تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی کی تشکیل کا حکم دے دیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سرکاری ذرائع کے مطابق کمیٹی کی تشکیل سے متعلق نوٹی فکیشن منگل (آج) کو جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ طالبات کو ہراساں کرنے میں ملوث عناصر کو کٹہرے میں لایا جائے گا۔

مزید برآں پنجاب کے وزیر تعلیم مراد راس نے کہا کہ حکومت، پرائیویٹ اسکولز اینڈ ٹیچرز لائسنس ایکٹس میں انسداد ہراسانی کی شقیں شامل کرے گی۔

مزید پڑھیں: لاہور ہراسانی کیس: طالبات کے مطالبات پیش، اسکول کے مزید 2 عہدیدار معطل

انہوں نے چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو (سی پی ڈبلیو بی) کی چیئرمین سارہ احمد کی جانب سے منعقدہ اجلاس کے شرکا سے خطاب میں مذکور بیان دیا۔

یہ اجلاس نجی اسکول میں جنسی ہراسانی پر تبادلہ خیال کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔

وزیر تعلیم اور سی پی ڈبلیو بی کی چیئرپرسن نے اسکولوں میں ہراسانی کے خلاف مشترکہ کوششوں اور اس میں ملوث افراد کے خلاف ایکشن پر اتفاق کیا۔

ڈاکٹر مراد راس نے کہا کہ اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نجی اسکولوں میں ہراسانی کے واقعات روکنے کے لیے قانون لارہے ہیں اور ٹیچرز لائسنس ایکٹ میں انسداد ہراسانی کی شقیں بھی شامل کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ لاہور گرامر اسکول کے اساتذہ اور انتظامیہ لاپتا ہیں اور جنسی ہراسانی کے کیسز پر کام کرنے عہدیداروں کو جواب نہیں دے رہے۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور: نجی اسکولوں کی طالبات کے اساتذہ پر جنسی ہراسانی کے الزامات، وزارت انسانی حقوق کا نوٹس

ڈاکٹر مراد راس نے کہا کہ ہم انہیں چھپنے کی اجازت نہیں دیں گے اور اس پر سخت کارروائی کی جائے گی۔

وزیر تعلیم پنجاب نے کہا کہ ہراسانی کے مقدمات میں ملوث اساتذہ کو کہیں بھی پڑھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اگر ان میں سے کسی کو بھی دیگر کسی اسکول میں ملازمت ملی تو وہ خود سخت کارروائی کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہراسانی میں ملوث افراد کے لیے ہمارے معاشرے میں کوئی جگہ نہیں۔

سارہ احمد نے کہا کہ انہوں نے لاہور گرامر اسکول میں ہراسانی کے واقعات میں ملوث اساتذہ کے خلاف کیس کے اندراج کے لیے پولیس سے رجوع کیا تھا، مقدمہ درج ہوگیا ہے اور اس معاملے پر خاموشی اختیار کرنے پر انتظامیہ کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ اور سی پی ڈبلیو اسکولز میں بچوں کو ایک محفوظ ماحول فراہم کریں گے تاکہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔

مزید پڑھیں: لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب کا نجی اسکول کی طالبات کو ہراساں کرنے کے واقعات کا نوٹس

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر لاہور کے ایک بڑے تعلیمی ادارے لاہور گرامر اسکول کی طالبات کی جانب سے اساتذہ پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات سامنے آئے تھے۔

جس کے بعد لاہور کے علاقے غالب مارکیٹ میں قائم ایل جی سی 1 اے 1 برانچ نے 8 طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور انہیں نازیبا تصاویر بھیجنے کے الزام میں 4 اساتذہ کو نوکری سے فارغ کردیا تھا۔

طالبات کی جانب سے جن اساتذہ پر الزامات لگائے گئے اور ان میں سے ایک کی نجی تصاویر کے اسکرین شاٹس بھی شیئر کیے گئے تھے اور وہ طلبہ کو اسکول مباحثہ اور سیاست پڑھاتے تھے۔

رپورٹس کے مطابق وہ تقریباً 4 سالوں سے نوجوان لڑکیوں کو اس قسم کی تصاویر اور تحریری پیغامات بھیج رہے تھے اور اسکول کی تقریباً ہر شاخ کی طالبات کی جانب سے ان پر الزامات سامنے آئے۔

سوشل میڈیا پر ایک کے بعد ایک طالبہ کی جانب سے اس قسم کی شکایات موصول ہونے پر وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے بھی اس کا نوٹس لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں لاک ڈاؤن کے دوران آن لائن ہراسانی کی شکایات میں 189 فیصد اضافہ

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے سی سی پی او لاہور کو ہراسانی کے واقعات کی غیر جانبدارانہ انکوائری کا حکم دیا تھا۔

اسی طرح لاہور کی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی نے بھی نجی اسکول کی کئی طالبات کی جانب سے اساتذہ کے خلاف ہراسانی کے الزامات کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی۔

علاوہ ازیں صوبائی وزیر تعلیم مراد راس نے یقین دہانی کروائی تھی کہ اس کیس کو قانون کے تحت باقاعدہ نتیجے تک پہنچایا جائے گا۔