عمران خان کا وزیراعظم رہنا ہر پاکستانی کی زندگی کیلئے خطرہ بن چکا ہے، بلاول بھٹو

اپ ڈیٹ 13 جولائ 2020

ای میل

بلاول بھٹو کے مطابق مجبور کیا گیا تو کورونا ہویا نہ ہو ہم سڑکوں پرنکلیں گے— فوٹو: ڈان نیوز
بلاول بھٹو کے مطابق مجبور کیا گیا تو کورونا ہویا نہ ہو ہم سڑکوں پرنکلیں گے— فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے اور اب ہماری معیشت اور جمہوریت کو جو نقصان پہنچا رہے ہیں وہ اب اس نکتے پر پہنچ چکا ہے کہ عمران خان کا وزیراعظم رہنا نہ صرف ہمارے جمہوریت، معیشت بلکہ پاکستانیوں کی زندگی کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔

کراچی میں پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ کشمیر کاز میں صف اول کا کردار ادا کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے کشمیریوں کو یتیم اور لاوارث چھوڑ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ہر فورم پر کشمیریوں کا مقدمہ لڑا اور آج بھی ان کی تقریریں پاکستان اور کشمیر کے عوام یاد کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: اگر اسامہ بن لادن شہید، تو وزیراعظم کا اے پی ایس، آپریشن ضرب عضب پر کیا مؤقف ہے، بلاول

بلاول بھٹو نے کہا کہ جب شہید ذوالفقار علی بھٹو احتجاج کی کال دیتے تھے تو صرف آزاد کشمیر ہی نہیں بلکہ پورا مقبوضہ کشمیر بھی احتجاج میں ساتھ دیتا تھا کیونکہ انہیں پورا اعتماد تھا کہ پاکستان کی قیادت اور پاکستان کے عوام کشمیریوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے ہر فورم پر اور ہر موقع پر کشمیریوں کی آواز اٹھائی اور آج بھی پیپلزپارٹی نے وہی سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

'پیپلز پارٹی پہلے دن سے مودی کی مخالفت کررہی ہے'

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اپوزیشن ہو یا حکومت، میں وہ واحد سیاستدان ہوں جس نے شروع دن سے مودی کی مخالفت کی ہے، پیپلز پارٹی پہلے دن سے مودی کی مخالفت کررہی ہے اور آگے جاکر بھی کریں گے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے کشمیریوں کو یتیم اور لاوارث چھوڑ دیا ہے اور یہ بھی ریکارڈ کا جصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان پاکستان کے پہلے اور آخری وزیراعظم ہیں جنہوں نے پاکستان کے عوام کو کشمیر پر متحد نہیں کیا، جو بھی حکومت ہو آمر، جمہوری، سیلیکٹو یا کٹھ پتلی یا منتخب جب بھی کشمیر کا مسئلہ آتا تھا تو ہم سب اکٹھے ہوتے تھے لیکن یہ نالائق وزیراعظم کشمیر کاز پر بھی اتحاد قائم کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: شاہراہ دستور پر اپوزیشن کا احتجاج، ’حکومت سے چھٹکارا حاصل کرنا ناگزیر ہے‘

چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ یہ وہ وزیراعظم ہیں جس نے مودی کی الیکشن مہم کے دوران اس کی حمایت کی تھی اور کہا تھا کہ مودی جیتے گا تو کشمیر کاز حل ہوجائے گا اور یہ جیسے حل ہورہا ہے پورے پاکستان کے سامنے ہے، اس پر میں حیران ہوں کہ ہمارے کشمیریوں کو لاوارث چھوڑنے، مودی کی حمایت کے باوجود قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر کہتے ہیں کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی عمران کی خارجہ پالیسی سب سے کامیاب رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہر پاکستانی اپنے کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، کشمیر کے عوام کورونا سے پہلے لاک ڈاؤن میں ہیں، ان کے ساتھ جو ناانصافیاں ہورہی ہیں ان پر بات کرنا ہمارا فرض ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے اور اب ہماری معیشت اور جمہوریت کو جو نقصان پہنچا رہے ہیں وہ اب اس نکتے پر پہنچ چکا ہے کہ عمران خان کا وزیراعظم رہنا نہ صرف ہمارے جمہوریت، معیشت بلکہ ہر پاکستانیوں کی زندگی کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ جب دنیا میں عالمی وبا کی وجہ سے کساد بازاری کا خطرہ ہے تو بجٹ پر توجہ مرکوز ہونی چاہیے تھے کہ ان مزدوروں اور محنت کشوں کو ریلیف دیں جن کا ذکر عمران خان کرتے رہتے ہیں، جو ڈاکٹرز اور فرنٹ لائن ورکرز ہمارے لیے جہاد لڑرہے ہیں ان کے لیے سپورٹ دلواتے۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ٹڈی دل کی وجہ سے جس طرح ہر کسان کی فصل اب خطرے میں ہے تو ان کے لیے بھی اس بجٹ میں کوئی خاص سپورٹ پیش نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ نے عوامی بجٹ پیش کیا ہے اور کم وسائل، ناانصافی ہونے کے باوجود وفاقی حکومت کی نالائقی کے باعث ٹیکس شارٹ فال کی وجہ سے صوبے کو 229 ارب روپے کم مل رہے ہیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ جب صوبوں کو سپورٹ کرنا چاہیے تھا تو انہیں کم وسائل دیے جارہے ہیں اور کم وسائل کے باوجود پیپلزپارٹی کی حکومت ایسے پروگرام لائی ہے جس سے عوام کو ریلیف دیا جاسکے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے خلاف لڑنے والے فرنٹ لائن ڈاکٹرز اور ورکرز کو تحفظ اور مراعات دلائی ہیں، وہ کسان جن کی فصلیں خطرے میں ہیں ان کے لیے بھی منصوبے لے کر آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ متاثر ہونے والے سندھ کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں اور دیگر افراد کو قرض دیے جائیں گے، 25 ایکڑ سے کم زمین والے کسانوں کو معیاری بیجوں کی خریداری، فرٹیلائزر کے لیے سبسڈی دی جائے گی اور گندم کی سبسڈی میں بھی اضافہ کیا جائے گا تاکہ زراعت کو سپورٹ کیا جاسکے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ علاقے جہاں پانی کم ہوتا ہے وہاں ڈرپ اریگیشن پر 50 فیصد سبسڈی دی جائے گی اور سولر ٹیوب ویلز پر 100 فیصد سبسڈی دی جائے تاکہ اس مشکل وقت میں کسانوں کی مدد کی جاسکے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ شہری علاقوں میں کورونا لاک ڈاؤن سے متاثرہ افراد کے لیے بھی قرض کا بندوبست کیا ہے۔

'جو لوگ کورونا کا علاج نہیں کراسکتے تو سندھ حکومت ان کا مفت علاج کرائے گی'

اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہم کہتے ٰہیں کہ کورونا سے معیشت متاثر ہورہی ہے اور زیادہ اموات ہوں گی تو معیشت زیادہ متاثر ہوگی کیونکہ اگر ایک خاندان کا واحد کفیل بیمار ہوجائے یا انتقال کرجائے تو پورا گھرانہ متاثر ہوتا ہے، اس حوالے سے سندھ میں معاونت فراہم کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کو فیملی سپورٹ گرانٹ دلوائیں گے اور کوئی کفیل فوت ہوجائے گا تو سپورٹ گرانٹ دی جاتی ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ منفی شرح نمو ہے اور بیروزگار افراد کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہورہا ہے جو مزید ہوگا، صوبائی حکومت نے بیروزگار افراد کے لیے فوڈ سیکیورٹی پروگرام شروع کیا ہے۔

مزید پڑھیں: فضل الرحمٰن کی آصف زرداری اور بلاول سے ملاقات، سیاسی امور میں ساتھ چلنے پر اتفاق

انہوں نے کہا کہ اگرکسی کے پاس ٹیسٹ کروانے کے وسائل نہیں تو ہم ان کا مفت ٹیسٹ کروائیں گے اور جو لوگ کورونا کا علاج نہیں کرواسکتے تو سندھ حکومت ان کا مفت علاج کرائے گی۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ جو لوگ ہم پر گورننس کا الزام لگاتے تھے آج موازنہ کرلیں، سندھ میں کورونا کی ٹیسٹنگ صلاحیت تمام صوبوں سے زیادہ ہے، صرف سندھ کی حکومت کورونا وائرس کے متاثرین کو ڈھونڈ کر ان کے علاج کی کوشش کررہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ سندھ میں انتہائی نگہداشت یونٹس (آئی سی یوز) اور ہائی ڈیپنڈنسی یونٹس (ایچ ڈی یوز) کی تعداد بھی زیادہ ہے۔

'جب ٹیسٹنگ نہیں کریں گے تو گراف خود بخود نیچے جائے گا'

انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان میں کورونا وائرس کے 100 دن کو عجیب بیانات دے کر منایا گیا جبکہ سندھ کی وزارت صحت نے یہ دن وبائی امراض کا ہسپتال فعال کرکے منایا۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ این آئی سی وی ڈی کی طرز پر وبائی امراض کے لیے پورے سندھ میں ہسپتال بنائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم بہت مشکلات کا سامنا کررہے ہیں، پی ٹی آئی کی جہاں حکومت ہے وہاں جان بوجھ کر سازش کے تحت ٹیسٹنگ کم کی جارہی ہے یہ پاکستان کے عوام کی زندگی اور صحت کو مزید خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: موجودہ حکومت 6 ماہ میں چلی جائے گی، بلاول کا دعویٰ

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب جان بوجھ کر ٹیسٹنگ کی صلاحیت کم کی جاتی ہے تو پھر یہ اپنے عوام کے خلاف سازش ہے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ آپ کس کو بیوقوف بنارہے ہیں بلکہ وہ وزیراعظم اور ان کے وزرا اپنا مذاق بنوارہے ہیں جب وہ کہتے ہیں کہ گراف نیچے جارہا ہے جب ٹیسٹنگ نہیں کریں گے تو گراف خود بخود نیچے جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ آپ کو مریض نظر نہیں آئیں گے لیکن اتنے ہی لوگ بیمار ہوں گے اور جاں بحق ہوں گے اور عوام کا نقصان ہوگا۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ حکومت ایسا کرکے ڈاکٹرز، پیرامیڈیکس اور نرسز کو خطرے میں ڈال رہی ہے جو بھی حکمت عملی ہو لیکن بنیادی حکمت عملی ٹیسٹنگ ہی ہے اور اس پر بھی یہ حکومت سمجھوتہ کررہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم اپنے نرسز اور ڈاکٹرز کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں، ہم نے ان کے لیے رسک الاؤنس کا اعلان کیا ہے جو ان کا حق ہے اور مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام صوبوں اور وفاقی علاقوں میں اسے اپنایا جائے۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم ڈاکٹروں کے تحفظ کے حوالے سے قانون سازی کررہے ہیں، وفاقی حکومت صرف فرنٹ لائن ورکرز کو سلیوٹ نہ کرے بلکہ عمل سے بھی ظاہر کرے اور ینگ ڈاکٹرز کے مطالبات پورے کرے۔

انہوں نے کہا کہ جب وفاقی حکومت انہیں ریگولرائز کرنے، تحفظ دینے، رسک الاؤنس دینے اور ٹیسٹنگ کرنے کو تیار نہیں تو پھر کیا کرنے کو تیار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان صرف عوام کو لاوارث چھوڑ رہی ہے اور ان کی سازشیں چل رہی ہیں، ایک طرف سے ہم عالمی وبا تو دوسری طرف ٹڈی دل کا مقابلہ کررہے ہیں، ایک طرف ہم عالمی معاشی نقصان کو دیکھیں جس کے اثرات ہم پر بھی آئیں گے اور دوسری طرف قومی مالیاتی کمیشن ( این ایف سی) ایوارڈ پر سیاست کو بھی دیکھیں ہم اس سب کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب وفاقی حکومت ٹیکس وصولی میں کمی کو رو رہی تھی تب سندھ نے کووڈ-19 کے دوران ٹیکس وصولی میں 8 فیصد اضافہ کیا۔

'پی ٹی آئی کی حکومت تاریخ کی کرپٹ ترین حکومت ہے'

بلاول بھٹو نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت تاریخ کی کرپٹ ترین حکومت ہے، ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے، آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں کہا گیا کہ 270 ارب روپے کی کرپشن ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ مشرف کا پہلا این آر او عمران خان کے لیے تھے، عمران خان نے ماضی کی ہر ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھایا، عمران خان خود کرپشن کے ریکارڈز توڑ رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: حکومت پی ٹی آئی ایم ایف ڈیل پھاڑ کر پھینک دے اور دوبارہ مذاکرات کرے، بلاول

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ اگر ہم ایسے کام کرتے تو ہمارا جینا حرام کردیتے،علیمہ خان کو آپ بھول گئے،سلائی مشین سےنیویارک میں عمارتیں کھڑی ہورہی ہیں، علیم خان کی منی ٹریل کہاں ہے؟

بلاول بھٹو نے کہا کہ پولیو میں کرپشن، حج میں کرپشن، پی آئی اے میں کرپشن کہ اسے شدید نقصان پہنچایا گیا ہے، پورا پنجاب جادو اور کرپشن پر چل رہا ہے، خیبرپختونخوا میں کرپشن کے ریکارڈ ٹوٹ گئے، بلین ٹری سونامی میں کرپشن، مالم جبہ میں کرپشن، فارن فنڈنگ کیس میں کرپشن، بی آر ٹی منصوبہ کرپشن کا سفید ہاتھی ہے، پی ٹی آئی جس چیز کو ہاتھ لگاتی ہے، اس میں کرپشن کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اکبر ایس بابر کہہ کہہ کر تھک گیا لیکن نیب، میڈیا اور الیکشن کمیشن چپ ہے، نیب اور وفاقی ادارے کرپشن کے لیے سہولت کاری کا کردار ادا کررہے ہیں۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ حکومت کے ہر وزیرپر الزام ہے اور نیب خاموش ہے، شوگر، آٹے پر کرپشن ، ہر پاکستانی کےگھر ڈاکا سب خاموش ہیں، پوسٹ آفس اور ریلوےمیں کتنی کرپشن ہورہی ہے،انہوں نےکرپشن کےریکارڈ توڑ دیے ہیں لیکن میڈیا خاموش ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ علی زیدی خود عمران خان کے لیے کرپشن کرتے ہیں،علی زیدی کا فرنٹ مین بی آر ٹی کا کنٹریکٹر ہے، ہم سپریم کورٹ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بی آر ٹی سے حکم امتناع ہٹائے۔

'کراچی میں بجلی آتی نہیں اور بنی گالا سے بجلی جاتی نہیں'

انہوں نے کہا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی رپورٹ ہے، پی ٹی آئی کے ابراج گروپ اور کے الیکٹرک کی کرپشن کو دبایا گیا ہے، اس رپورٹ کو پڑھنا ہے کہ کس طرح ابراج گروپ اور کے الیکٹرک اور پاکستان تحریک انصاف کے مک مکا کی وجہ سے وہ کراچی کے عوام کا خون چوس رہے ہیں۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ کراچی کے عوام کو عذاب میں ڈالا ہوا ہے، لاک ڈاؤن سے لے کر اب تک کراچی میں بل زیادہ آتا ہے اور بجلی آتی نہیں ہے، عوام کس چیز کا بل دے رہے ہیں کہ کراچی میں بجلی آتی نہیں اور بنی گالا سے بجلی جاتی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر میڈیا کا غیر جانبدار بننے کا ارادہ ہے تو ایف آئی اے کی اس رپورٹ پر ایک پروگرام کرکے دکھائے۔

بلاول بھٹو کا پی ٹی آئی کو تیسرا چیلنج

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ ان کوحکومت کرنا نہیں آتی،سیاست بھی نہیں آتی، عوام کو ریلیف دینا بھی نہیں آتا، کب تک ہم انہیں برداشت کرتے رہیں گے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ میں نے 20 جون کوپی ٹی آئی کی حکومت کو چیلنج کیا تھا، آج تک یہ بزدل ہر چیلنج سے بھاگتے ہیں، لیکن جو میرا چینلج تھا کہ این آئی سی وی ڈی جیسا ایک بھی ہسپتال بنایا ہو تو بتادیں لیکن آج تک جواب نہیں دے سکے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے قومی اسمبلی میں چیلنج کیا تھا کہ ٹی وی چینل پر مباحثہ کریں لیکن اس سے بھی بھاگ گئے، تو آج میں پی ٹی آئی کو تیسرا چیلنج دیتاہوں، کورونا کی پر کیپیٹا ٹیسٹنگ سندھ کے برابر کرکےدکھائیں۔

انہوں نے کہا کہ کووڈ کے متاثرین کا پتہ لگانے کی کوشش کریں اور اگر دنیا کی قیادت کررہے تو آج کے چیلنج سے نہیں بھاگیں۔

'جے آئی ٹی کا گیم حکومت کے گلے ہی پڑ گیا ہے'

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ ورکنگ ری لیشن شپ کی بہتری کے لیے اپوزیشن جماعتوں سےمل کرکمیٹی بنا رہےہیں اور اپوزیشن جماعتو سے ملاقات کے بعد ایک لائحہ عمل دیں گے لیکن ہم کسی غیر جمہوری عمل کا حصہ بننے کو تیار نہیں ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ عوامی مسائل کاحل کل بھی جمہوریت میں تھااور آج بھی جمہوریت میں ہے، عوام کے مسائل کا حل صرف پیپلزپارٹی کےپاس ہے۔

مزید پڑھیں: لندن پلان کی خبریں سازش کا حصہ ہیں، بلاول بھٹو زرداری

ان کا کہنا تھا کہ این ایف سی پر حملہ ہوا تو ہم سڑکوں پر نکلیں گے، مجبور کیا گیا تو کورونا ہویا نہ ہو ہم سڑکوں پرنکلیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کا گیم حکومت کے گلے ہی پڑ گیا ہے، کٹھ پتلی جتنی بھی جعلی جےآئی ٹیز لے آئیں ، ہم دباؤ میں نہیں آئیں گے نہ سمجھوتے کرنے کو تیار ہوں گے یہ خود اپنے آپ کو عوام کے سامنے شرمندہ کررہے ہیں۔

لاپتا افراد سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے ہم نے ہر فورم پر کوشش کی ہے لیکن اسے سبوتاژ کیا گیا ہے اس حوالے سے چیئرمین نیب اپنا بیان دیں توبہتر ہے ، نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان سے لوگ لاپتا ہورہے ہیں، اس وقت لاپتا افراد کا معاملہ بند ہونا چاہیے۔