سنکیانگ کے معاملے پر تنقید، چین نے امریکی قانون دانوں پر پابندیاں عائد کردیں

اپ ڈیٹ 13 جولائ 2020

ای میل

ٹیڈو کروز چین کی پابندیوں اور غیرانسانی اقدامات کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں— فوٹو: اے ایف پی
ٹیڈو کروز چین کی پابندیوں اور غیرانسانی اقدامات کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں— فوٹو: اے ایف پی

چین نے سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں سے متعلق اپنائے گئے رویے کو تنقید کا نشانہ بنانے والے تین سینئر ریپبلکن قانون سازوں اور ایک امریکی ایلچی پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق چین کے خلاف سب سے زیادہ بولنے والے سینیٹرز مارکو روبیو اور ٹیڈ کروز کے ساتھ ساتھ کانگریس کے رکن کرس اسمتھ کو بھی نشانہ بنایا گیا اور ساتھ ہی بین الاقوامی مذہبی آزادی کے لیے امریکی سفیر سیم براؤن بیک بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: ایغور مسلمانوں کا معاملہ، امریکا نے چینی عہدیداروں پر پابندیاں عائد کردیں

چین کی جانب سے ان پابندیوں کا اعلان اس وقت کیا گیا جب امریکا نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر سنکیانگ میں کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ چین کینگو سمیت متعدد چینی حکام کے ویزا پر پابندی عائد کرنے کے ساتھ ساتھ اثاثے بھی منجمد کردیئے۔

وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چونئنگ نے بریفنگ میں کہا کہ یہ اقدام امریکا کے غلط اقدامات کے جواب میں اٹھایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم امریکا سے اپنے غلط فیصلے کو فوری طور پر واپس لینے اور چین کے داخلی معاملات میں مداخلت اور چین کے مفادات کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی الفاظ اور اقدامات کو روکنے کی اپیل کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر پیشرفت کو دیکھتے ہوئے اس پر مزید کوئی بیان جاری کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ‘ایغور اقلیت کو حراستی کیمپوں میں قید رکھنا خوفناک ہے‘

چین میں انسانی حقوق پر نگاہ رکھنے والی ایک ایجنسی 'امریکی کانگریشنل ایگزیکٹو کمیشن فار چائنا' پر بھی پابندیوں کا اطلاق ہوگا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے دونوں ممالک ایک دوسرے پر ہانگ کانگ میں سیکیورٹی قانون، تبت اور سنکیانگ میں چینی پالیسیز اور کورونا وائرس کے معاملے پر ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنے کے ساتھ ساتھ تجارتی پابندیاں بھی عائد کرچکے ہیں۔

عینی شاہدین اور انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا تھا کہ چین نے سنکیانگ میں 10 لاکھ سے زیادہ ایغور اور دیگر ترک مسلمانوں کو بڑے حراستی مراکز میں یرغمال بنا لیا ہے جس کا مقصد ملک کی ہان اکثریت کو زبردستی اقلیت میں تبدیل کرنا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ امریکا مغربی خطے میں جبری مشقت، اجتماعی نظربندی اور غیر رضاکارانہ بنیادوں پر آبادی پر قابو پانے جیسے ہتھکنڈوں سمیت تمام خوفناک اور منظم زیادتیاں کرنے والوں کے خلاف کارروائی کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں: سنکیانگ کے کیمپوں میں موجود اکثر افراد کو واپس بھیج دیا، چین

چین نے ان الزامات کو مسترد کردیا تھا لیکن ایغور مسلمانوں کو ووکیشل ایجوکیشنل سینٹرز بھیجنے کا اعتراف کیا تھا جس کا مقصد انہیں مینڈیرن زبان اور کوئی ہنر سکھانا ہے تاکہ خطے میں ہونے والے پرتشدد واقعات کے بعد جنم لینے والی عیحدگی پسندی کی لہر سے انہیں دور کیا جا سکے۔

وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چونئنگ نے پیر کو کہا کہ مجھے یہ بتانا ہوگا کہ سنکیانگ کا معاملہ خالصتاً چین کا داخلی معاملہ ہے اور اس میں امریکا کا مداخلت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین تشدد اور دہشت گردی کی قوتوں، علیحدگی پسند قوتوں اور مذہبی انتہا پسند طاقتوں سے لڑنے کے لیے پرعزم ہے۔