'مختلف معاملات پر تنقید'، معاونین خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا، تانیہ ایدروس مستعفی

اپ ڈیٹ 29 جولائ 2020

ای میل

تانیہ ایدروس اور ڈاکٹر ظفر مرزا  نے استعفے کی وجہ مختلف معاملات سے متعلق حکومت پر تنقید کو قرار دیا—فائل فوٹوز: ڈان نیوز
تانیہ ایدروس اور ڈاکٹر ظفر مرزا نے استعفے کی وجہ مختلف معاملات سے متعلق حکومت پر تنقید کو قرار دیا—فائل فوٹوز: ڈان نیوز

وزیراعظم کے معاونین خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اور ڈیجیٹل پاکستان تانیہ ایدروس نے مختلف معاملات پر حکومت پر تنقید کے باعث اپنے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔

معاونین خصوصی کے استعفے حکومت کی جانب سے وزیراعظم کے مشیروں اور معاون خصوصی کے اثاثہ جات اور دوہری شہریت کی تفصیلات جاری کرنے کے بعد اپوزیشن کی تنقید کے تناظر میں سامنے آئے۔

اس حوالے سے تانیہ ایدروس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں کہا کہ میری شہریت کے معاملے پر ریاست پر ہونے والی تنقید ڈیجیٹل پاکستان کے مقصد کو متاثر کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے عوام کے مفاد میں وزیراعظم کی معاون خصوصی کی حیثیت سے اپنا استعفیٰ جمع کرادیا ہے، اپنی بہترین صلاحیت کے ساتھ اپنے ملک اور وزیر اعظم کے وژن کی خدمت جاری رکھوں گی۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم کے 4 معاونین خصوصی دوہری شہریت کے حامل

تانیہ ایدروس نے ٹوئٹ میں وزیراعظم عمران خان کو ارسال کیا گیا استعفیٰ بھی منسلک کیا تھا، جس میں انہوں نے وزیراعظم سے کہا کہ معاون خصوصی کے طور پر کام کرنا میرے لیے اعزاز تھا اور مجھ پر اپنا اعتماد بحال رکھنے پر آپ کی شکر گزار ہوں۔

انہوں نے لکھا کہ وہ ڈیجیٹل پاکستان کے وژن میں کردار ادا کرنے اور اس کی ترقی کے واحد مقصد کے ساتھ پاکستان واپس آئی تھیں۔

تانیہ ایدروس نے اپنے استعفے میں لکھا کہ میں ہمیشہ پاکستانی تھی اور رہوں گی۔

ساتھ ہی تانیہ ایدروس نے مزید لکھا کہ ان کی کینیڈین شہریت، ان کی پیدائش کا نتیجہ ہے اور یہ ان کا انتخاب نہیں ہے جس نے ڈیجیٹل پاکستان کے لیے طویل المدتی وژن کو عملی جامہ پہنانے میں ان کی قابلیت سے توجہ ہٹانے کا کام کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ پاکستانی شہری کی پاکستان کی خدمت کرنے کی خواہش ایسے مسائل کے پیچھے چھپ جاتی ہے۔

تانیہ ایدروس کے مستعفی ہونے کے کچھ دیر بعد معاون خصوصی برائے ڈاکٹر ظفر مرزا نے بھی عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ میں نے وزیراعظم کے معاون خصوصی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں وزیراعظم عمران خان کی خصوصی دعوت پر عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) چھوڑ کر پاکستان آیا تھا، میں نے محنت اور ایمانداری سے کام کیا۔

ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خدمت کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، میں مطمئن ہوں کہ ایسے وقت میں عہدہ چھوڑ رہا ہوں جب قومی کوششوں سے پاکستان میں کورونا وائرس میں کمی آچکی ہے۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم کی ’غیر ذمہ دارانہ‘ رویے پر ڈاکٹر ظفر مرزا کی سرزنش

انہوں نے مزید کہا کہ معاونین خصوصی کے کردار سے متعلق منفی بات چیت اور حکومت پر تنقید کے باعث استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔

ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام کو صحت کی بہتر سہولت کی ضرورت ہے اور میں نے اس حوالے سے سنجیدگی سے کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک مضبوط نظام صحت کے ساتھ کووڈ-19 کے مسائل سے باہر نکل آئے گا۔

بعدازاں کابینہ ڈویژن نے وزیراعظم کی جانب سے دونوں معاونین خصوصی کے استعفے منظور کرنے کے علیحدہ علیحدہ نوٹی فکیشن جاری کیے۔

نکال دیا درست لفظ نہیں، عہدے سے علیحدہ کر دیا بہتر ہے، ڈاکٹر شہباز گل

دونوں معاونین خصوصی کے مستعفی ہونے اور استعفوں کی منظوری کے بعد ان پر ہونے والی تنقید پر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی رابطہ کار ڈاکٹر شہباز گل نے اپنا بیان جاری کیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ جب کوئی استعفی دے یا اس سے لیا جائے تو میری آپ سے گزارش ہے کہ ان کی تحقیر مت کیا کریں۔

انہوں نے کہا کہ نکال دیا درست لفظ نہیں، عہدے سے علیحدہ کر دیا بہتر لفظ ہے، ہمارے نبی صلى الله عليه وآله وسلم کی بھی یہی تلقین ہے کہ کسی کی تحقیر مت کرو، ہاں اگر کسی نے کرپشن یا بد دیانتی کی تو اس پر ضرور بات کریں۔

دوہری شہریت کا معاملہ

خیال رہے کہ 18 جولائی کو کابینہ ڈویژن نے وزیراعظم کے 20 مشیروں اور معاونین خصوصی کے اثاثوں اور دوہری شہریت کی تفصیلات جاری کی تھیں جس کے مطابق 19 غیر منتخب کابینہ اراکین میں سے وزیراعظم کے 4 معاونین خصوصی دوہری شہریت کے حامل تھے۔

دوہری شہریت رکھنے والے وزیراعظم کے 4 معاونین میں تانیہ ایدروس کا نام بھی شامل تھا اور کابینہ ڈویژن کے مطابق وہ کینیڈا کی شہریت کی حامل ہیں اور سنگاپور میں ان کی مستقل رہائش بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈیجیٹل پاکستان ویژن کی سربراہ تانیہ ایدروس کون ہیں؟

کابینہ ڈویژن کی ویب سائٹ پر جاری تفصیلات کے مطابق تانیہ ایدروس امریکا، برطانیہ اور سنگاپور میں جائیداد کی ملکیت رکھتی ہیں۔

علاوہ ازیں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا بھی چھتر اور اسلام آباد میں ایک گھر اور جائیداد کے مالک ہیں، اس کے علاوہ 2 کروڑ روپے اور ڈی ایچ اے راولپنڈی اور ٹیکسلا میں ڈیڑھ، ڈیڑھ کروڑ روپے مالیت کے 2 پلاٹس بھی ہیں۔

ڈاکٹر ظفر مرزا کے خلاف الزامات

خیال رہے کہ مارچ 2020 میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے ڈاکٹر ظفر مرزا اور ڈپٹی ڈائریکٹر ڈریپ غضنفر علی کے خلاف 2 کروڑ ماسکس کی اسمگلنگ کی شکایت ملنے پر تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔

بعد ازاں ڈاکٹر ظفر مرزا نے پریس کانفرنس کے دوران اس الزام کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ الزام لگانے والے کے خلاف قانونی کارروائی پر غور کر ہے ہیں۔

جس کے بعد رواں برس 13 اپریل کو چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کورونا وائرس پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران وفاقی حکومت کی سرزنش کرتے ہوئے حکومت کو ڈاکٹر ظفر مرزا کو ہٹانے کا بھی کہا تھا۔

مزید پڑھیں: نیب کی ظفر مرزا کے خلاف شکایت کی جانچ پڑتال، عامر کیانی سے متعلق انکوائری کی منظوری

اس کے بعد وزیراعظم نے سپریم کورٹ میں پیشی کے موقع پر ’غیر ذمہ دارانہ‘ رویہ اختیار کرنے اور کورونا وائرس کے حوالے سے وفاقی حکومت کا مقدمہ درست طریقے سے پیش نہ کرنے پر ڈاکٹر ظفر مرزا کی سرزنش بھی کی تھی۔

بعدازاں جون میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیر صحت عامر محمود کیانی کے خلاف انکوائری اور معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کے خلاف شکایت کی جانچ پڑتال کی منظوری دے دی تھی۔

نیب نے ڈاکٹر ظفر مرزا کے خلاف کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے دوران 2 کروڑ فیس ماسکس اور دیگر پرسنل پروٹیکٹو ایکوئپمنٹ(پی پی ای)کی اسمگلنگ اور بھارت سے جان بچانے والی ادویات کی درآمد کی آڑ میں وٹامنز، ادویات اور سالٹس کی درآمد میں ملوث ہونے کے الزام کے تحت کارروائی کی منظوری دی تھی۔

خیال رہے کہ ڈاکٹر ظفر مرزا کو اپریل 2019 میں نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اور کوآرڈینیشن کی ذمہ داریاں تفویض کی گئی تھیں اور وہ عالمی وبا کورونا وائرس کے خلاف حکومت کے ردعمل کی نگرانی میں مصروف عمل تھے۔

معاون خصوصی بننے سے قبل وہ مشرقی بحیرہ روم (Eastern Mediterranean) میں عالمی ادارہ صحت کے ریجنل آفس میں ہیلتھ سسٹم ڈیولپمنٹ کے ڈائریکٹر کے طور پر کام کررہے تھے۔

کمپنی بورڈ میں تانیہ ایدروس کی شمولیت پر تنازع

خیال رہے کہ رواں برس جون میں ڈیجیٹل پاکستان سے منسلک ایک کمپنی کی بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل تانیہ ایدروس کی شمولیت پر سوال اٹھایا گیا تھا۔

اسی مہینے ڈیجیٹل پاکستان فاؤنڈیشن (ڈی پی ایف) کے نام سے غیر منافع بخش کمپنی کو حکومت کے ڈیجیٹل پاکستان اقدام کی تعریف کے لیے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے سیکشن 42 کے تحت رجسٹرڈ کرایا گیا تھا۔

ایس ای سی پی کی ویب سائٹ کے مطابق فاؤنڈیشن کے بانی ڈائریکٹرز میں تانیہ ایدروس، پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیر ترین (جنہیں سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیا تھا)، آن لائن ٹیکسی کمپنی کریم کے سی ای او مدثر الیاس اور جہانگیر ترین کے وکیل سکندر بشیر مہمند شامل تھے۔

بورڈ آف ڈائریکٹرز میں تانیہ ایدروس کی شمولیت اور فاؤنڈیشن کے فنڈز اور کاموں کے حوالے سے شفافیت کی کمی نے خدشات کو جنم دیا اور یہ خاص طور پر مفاد کے تصادم کا باعث بنا تھا۔

ان خدشات پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے تانیہ ایدروس نے ڈان کو بتایا تھا کہ ’کسی بھی معاون خصوصی کے غیر منافع بخش کمپنی کے بورڈ میں شامل ہونے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ پرائیوٹ لمیٹڈ کمپنی نہیں ہے مسئلہ اس وقت پیدا ہوگا جب کمپنی منافع بخش ہوتی‘۔

تانیہ ایدروس کون ہیں؟

تانیہ ایدروس 20 سال پہلے پاکستان سے بیرون ملک چلی گئی تھیں اور انہوں نے پہلے امریکا کی برانڈیز یونیورسٹی سے بائیولوجی اور اکنامکس میں بی ایس کی ڈگری حاصل کی تھی اور پھر میساچوسٹس انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی سے ایم بی اے کیا۔

بعد ازاں انہوں نے ایک اسٹارٹ اپ کلک ڈائیگنوسٹک کی بنیاد رکھی اور اس کی ڈائریکٹر کے طور پر کام کیا تھا۔

مزید پڑھیں: وزیر اعظم کے ڈیجیٹل پاکستان یونٹ سے منسلک کمپنی نے تنازع کھڑا کردیا

بعد ازاں انہوں نے گوگل کی جنوبی ایشیا کی کنٹری منیجر کے طور پر 2008 سے 2016 تک کام کیا اور پھر انہیں گوگل کے پراڈکٹ، پیمنٹ فار نیکسٹ بلین یوزر پروگرام کی ڈائریکٹر بنادیا گیا۔

وزیراعظم نے دسمبر 2019 میں تانیہ ایدروس کو ڈیجیٹل پاکستان ویژن کی سربراہ مقرر کیا گیا تھا اور بعدازاں فروری 2020 میں انہیں معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل پاکستان مقرر کیا گیا تھا۔