پارک لین کیس: آصف زرداری و دیگر ملزمان کے خلاف ضمنی ریفرنس دائر

اپ ڈیٹ 18 اگست 2020

ای میل

سابق صدر آصف علی زرداری—فائل فوٹو:اے ایف پی
سابق صدر آصف علی زرداری—فائل فوٹو:اے ایف پی

قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق صدر آصف علی زرداری اور دیگر کے خلاف پارک لین کیس میں ضمنی ریفرنس دائر کردیا۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں دائر کیے گئے ریفرنس میں سابق صدر آصف زرداری سمیت 19 ملزمان کے نام شامل کیے گئے ہیں۔

ریفرنس میں یہ کہا گیا کہ اقبال میمن اور یونس قدوائی بھی پارک لین میں شیئرہولڈرز تھے۔

مزید پڑھیں: پارک لین ریفرنس: سابق صدر آصف زرداری پر بالآخر فردِ جرم عائد

نیب کی جانب سے دائر کردہ اس ضمنی ریفرنس میں کرپشن کی رقم ڈیڑھ ارب روپے سے بڑھا کر 3 ارب 74 کروڑ روپے کردی گئی جبکہ ‎ضمنی ریفرنس میں وعدہ معاف گواہان کی تعداد بھی بڑھ گئی۔

ضمنی ریفرنس میں مزید 3 ملزمان کو شامل کیا گیا ہے جبکہ ریفرنس کے مطابق گواہان نے نیب کو بیان دیا ہے کہ وہ تمام معاملات پارک لین کی انتظامیہ کے کہنے پر کرتے رہے۔

ریفرنس کے مطابق آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری پارک لین میں 25، 25 فیصد کے شراکت دار ہیں، ریفرنس کے مطابق زرداری اور بلاول نیب کے سامنے شراکت داری کا اعتراف کر چکے ہیں۔

ریفرنس کے مطابق ایڈیشنل رجسٹرار، ایس ای سی پی کے افسران نے پارک لین کے معاہدوں اور جعلی دستاویزات میں مدد کی، جس کے بعد جعلی دستاویزات پر کمپنی نے قرض لیا اور پارک لین نے قرض واپس کرنے سے انکار کردیا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل 10 اگست کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے پارک لین کے مرکزی ریفرنس میں سابق صدر آصف علی زرداری اور شریک ملزمان پر فرد جرم عائد کی تھی۔

پارک لین ریفرنس

خیال رہے کہ آصف علی زرداری پر یہ الزام ہے کہ وہ 'ایم/ایس پارتھینن پرائیویٹ لمیٹڈ، ایم/ایس پارک لین اسٹیٹ پرائیویٹ لمیٹڈ اور دیگر کے ذریعے قرض میں توسیع اور اس کے غلط استعمال' میں ملوث تھے۔

یہ بھی پڑھیں: توشہ خانہ ریفرنس: آصف زرداری عدالت میں پیش

دوسری جانب آصف علی زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور دیگر افراد جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے کرپشن اور پارک لین پرائیویٹ لمیٹڈ اور پارتھینن پرائیویٹ لمیٹڈ کے لیے مالی معاونت میں غبن کے الزامات کا بھی سامنا کررہے ہیں۔

جس پر 4 جولائی 2019 کو نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں سابق صدر آصف علی زرداری اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کے الزام پر ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔

ریفرنس کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ ‘ملزمان پر مبینہ طور پر پارتھینن پرائیویٹ لمیٹڈ، پارک لین پرائیویٹ لمیٹڈ کے لیے حاصل کردہ مالی سہولت میں خورد برد اور جعلی بینک اکاوئنٹس کے ذریعے بدعنوانی کا الزام ہے جس سے قومی خزانے کو مبینہ 3 ارب 77 کروڑ کا نقصان پہنچا’۔