2024 سے پہلے دنیا میں ہر ایک تک کورونا ویکسین کی فراہمی ناممکن قرار

14 ستمبر 2020

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کی وبا کو کب تک قابو میں کیا جاسکتا ہے، اس بارے میں کچھ کہنا ممکن نہیں۔

مگر تمام ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اس وبا کی روک تھام کسی موثر ویکسین سے ہی ممکن ہوسکے گی جس کی تیاری پر دنیا بھر میں کام بھی ہورہا ہے۔

تاہم کسی کامیاب ویکسین کی تیاری کے بعد دنیا بھر کے لوگوں تک اسے پہنچانا بھی ایک بہت بڑا چیلنج ہے اور اس کے لیے بھی کئی برس لگ سکتے ہیں۔

یہ بات مختلف اقسام کی ویکسینز تیار کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی سیرم انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ نے ایک انٹرویو میں کہی۔

سیرم انسٹی ٹیوٹ کے چیف ایگزیکٹیو ادار پونا والا نے فنانشنل ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دوا ساز کمپنیوں نے اپنی پروڈکشن کی صلاحیت کو اتنی تنزی سے نہیں بڑھایا کہ دنیا میں ہر ایک کو 2024 سے پہلے کورونا ویکسین فراہم کی جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ 'دنیا میں ہر ایک کو ویکسین فراہم کرنے میں 4 سے 5 سال لگ سکتے ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ اگر کووڈ 19 ویکسین کے حوالے سے بھی خسرے کی ویکسین کی طرح 2 ڈوز کی ضرورت ہوئی تو دنیا کو 15 ارب ڈوز درکار ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میں جانتا ہوں کہ دنیا کو امید کی ضرورت ہے، مگر میں نے کسی کو بھی اس وقت منزل کے قریب آتے نہیں دیکھا'۔

سیرم انسٹی ٹیوٹ سرمایہ کاروں سے 60 کروڑ فنڈز کے لیے مذاکرات کررہی ہے تاکہ کمپنی کی پروڈکشن گنجائش کو بڑھایا جاسکے اور ایک ارب ڈوز تیار کرنے کا ہدف حاصل کیا جاسکے۔

ادار پونا والا کے مطابق 'ہم سرمائے کے حصول کے لیے کام کررہے ہیں تاکہ اگلے ایک یا 2 برسوں میں اتنے بڑے پیمانے پر کام کرنے کے لیے خام مال اور آلات کا حصول یقینی بناسکیں'۔

سیرم انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے 5 دیگر کمپنیوں بشمول آسترا زینیکا اور نووا واکس کے ساتھ مل کر کام کیا جارہا ہے تاکہ کورونا وائرس کے خلاف ویکسین کو تیار کیا جاسکے۔

اس کے علاوہ وہ روس کے گامیلیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ سپوتنک ویکسین کی تیاری کے حوالے بھی شراکت داری کرسکتی ہے۔

سیرم انسٹی ٹیوٹ اس وقت 170 سے زائد ممالک کے ہر سال ڈیڑھ ارب ویکسین ڈوز تیار کرتی ہے تاکہ مختلف امراض سے تحفظ فراہم کیا جاسکے۔

خیال رہے کہ اس وقت دنیا بھر میں 9 کورونا ویکسینز کے ٹرائلز تیسرے مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں، جن میں سے 4 چین کی ہیں۔

گزشتہ دنوں شائع ہونے والی برطانوی روزنامے ٹیلیگراف کی رپورٹ کے مطابق چین کی جانب سے حالیہ دنوں میں کورونا وائرس کی روک تھام کی ویکسین کے حوالے سے کئی مثبت اعلانات کیے گئے ہیں اور وہ بھی اس وقت جب ایک رضاکار کی نامعلوم بیماری کی وجہ سے اس دوڑ میں سب سے آگے سمجھے جانے والی آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویکسین کا ٹرائل کچھ روز تک التوا کا شکار رہا۔

گزشتہ ہفتے ائنا نیشنل بائیوٹیک گروپ (سی این بی جی جو چین کی سرکاری ویکسین کمپنی ہے) نے اپنی 2 ویکسینز کے تیسرے مرحلے کے ابتدائی ڈیٹا کے بارے میں اعلان کیا تھا کہ وہ رضاکاروں میں کووڈ 19 کو بچانے کے لیے موثر ثابت ہوئی ہیں۔

سی این بی جی کے سیکرٹری زاؤ سونگ نے چائنا نیشنل ریڈیو کو بتایا کہ اب تک لاکھوں شہریوں کو کمپنی کی 2 تجرباتی ویکسینز دی گئیں، جو اس وقت کلینکل ٹرائلز کے تیسرے مرحلے سے گزر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا 'ویکسین استعمال کرنے والے کسی بھی فرد میں کوئی مضر اثر نظر نہیں آیا اور نہ ہی کوئی کووڈ سے متاثر ہوا'۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ویکسین سے ایک فرد کو ممکنہ طور پر 3 سال تک کورونا وائرس سے تحفظ مل سکے گا۔

ان کا کہنا تھا 'جانوروں پر ہونے والے تجربات کے نتائج اور دیگر تحقیقی نتائج سے یہی عندیہ ملتا ہے کہ ویکسین سے ملنے والا تحفظ ایک سے 3 سال تک برقرار رہ سکتا ہے'۔

چین کی جانب سے کامیاب ویکسین کو دیگر ممالک کو بھی فراہم کرنے کے وعدے کیے گئے ہیں اور چینی کمپنیوں کی جانب سے وہاں ویکسین کے ٹرائلز بھی کیے جارہے ہیں۔