سندھ: 10 سالہ طالبہ کا ’ریپ‘، ملزم کے خلاف مقدمہ درج

اپ ڈیٹ 08 اکتوبر 2020

ای میل

ترجمان سول ہسپتال داود نے بتایا کہ لڑکی کو طبی امداد فراہم کی جاری ہے—فائل فوٹو: رائٹرز
ترجمان سول ہسپتال داود نے بتایا کہ لڑکی کو طبی امداد فراہم کی جاری ہے—فائل فوٹو: رائٹرز

سندھ کے ضلع داود میں بااثر ملزم نے 10 سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر ریپ کا نشانہ بنا ڈالا۔

دادو کے سیکشن تھانہ میں ریپ کے ملزم راشد پنھور کے خلاف ایف آئی آر درج ہونے کے بعد اس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

مزید پڑھیں: سندھ: 'ریپ' کے ملزمان کی مبینہ بلیک میلنگ پر لڑکی کی خودکشی

دادو کے سیکشن تھانہ میں متاثرہ بچی کے والد کی مدعیت میں ملزم راشد پنھور کے خلاف درج مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 376، 34 شامل کی گئی ہیں۔

متاثرہ بچی کے والد نے بتایا کہ ان کی بیٹی اسکول سے گھر آرہی تھی جب علاقے کے بااثر شخص راشد پنھور نے طالبہ کو اغوا کیا اور ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد چھوڑ دیا۔

انہوں نے ایف آئی آر میں کہا کہ اطلاع ملنے پر وہ فوراً اپنی بیٹی کے پاس پہنچے اور اسے گھر لے آئے۔

پولیس نے بتایا کہ داود پولیس نے ملزم راشد پنھور کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے تلاش شروع کردی۔

متعلقہ پولیس نے متاثرہ لڑکی کا طبی معائنہ کرانے کے لیے داود کے سول ہسپتال کو مراسلہ بھی لکھ دیا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: 5 سالہ بچی کا ریپ کے بعد قتل، متعدد مشتبہ افراد گرفتار

سول ہسپتال داود کے ترجمان ڈاکٹر عبد الحمید میرانی نے بتایا کہ لڑکی کے طبی نمونے لے لیے گئے ہیں اور انہیں جامشورو میں لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (ایل یو ایم ایچ ایس) کو روانہ کردیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ہسپتال کی رپورٹ کے بعد ہی تصدیق کی جاسکے گی کہ لڑکی کا ریپ ہوا یا نہیں۔

تاہم ترجمان سول ہسپتال داود نے بتایا کہ لڑکی کو طبی امداد فراہم کی جاری ہے اور اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

سیکشن تھانے کے ایس ایچ او نور مصطفیٰ پٹھان نے بتایا کہ جب لڑکی کو ہسپتال پہنچایا گیا تب اس کی حالت بہت خراب تھی۔

انہوں نے کہا کہ پولیس ملزم کو گرفتار کرنے کے لیے چھاپے مار رہی لیکن تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

مزید پڑھیں: سیہون: چیمبر میں لڑکی کا 'ریپ' کرنے والا جوڈیشل مجسٹریٹ معطل

واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں ضلع تھرپارکر میں مبینہ ریپ کے مقدمے میں نامزد ملزمان کی جانب سے مبینہ بلیک میلنگ سے تنگ آکر 17 سالہ لڑکی نے خودکشی کرلی تھی۔

متاثرہ لڑکی کے اہلخانہ نے کہا کہ 'ملزمان نے لڑکی کا ریپ کیا تھا'۔

ہندو گھرانے سے تعلق رکھنے والی لڑکی نے گاؤں دالان میں کنویں میں چھلانگ لگا کر اپنی جان لے لی۔