پی پی ایل کرپشن کیس: غیرملکی ملزم کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

اپ ڈیٹ 21 اکتوبر 2020

ای میل

کراچی کی احتساب عدالت میں پی پی ایل کرپشن کیس کی سماعت ہوئی—فائل/فوٹو:رائٹرز
کراچی کی احتساب عدالت میں پی پی ایل کرپشن کیس کی سماعت ہوئی—فائل/فوٹو:رائٹرز

کراچی کی احتساب عدالت نے پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) کے لیے تیل اور گیس تلاش کرنے والی برطانوی کمپنی سے حصص سمیت اثاثوں کی خریداری میں 12 کروڑ 16 لاکھ ڈالر کی مبینہ کرپشن میں ملوث غیر ملکی ملزم کے ایک مرتبہ پھر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔

قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر ریفرنس میں پی پی ایل کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) عاصم مرتضیٰ خان، جنرل منیجر عبدالواحد، ڈپٹی ایم ڈی معین رضا خان، چیف اکنامسٹ راحت حسین، فنانشل ایڈوائزر خاقاب سعداللہ اور پیول ماریک کو ملزمان نامزد کیا گیا ہے۔

کراچی کی احتساب عدالت نمبر 4 کے جج سریش کمار نے کیس کی سماعت کی جہاں تفتیشی افسر عبدالفتح نے برطانوی کمپنی مورواسکے نیفٹوف ڈولی (ایم این ڈی) کے مالک پیول ماریک کے خلاف اس سے قبل جاری ہونے والے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی تعمیلی رپورٹ پیش کی۔

یہ بھی پڑھیں:نیب نے شاہد خاقان و دیگر کے خلاف ایل این جی کیس میں ریفرنس دائر کردیا

تفتیشی افسر نے عدالت سے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ملزم تک وارنٹ گرفتاری نہیں پہنچائے جاسکے اس لیے مزید مہلت دی جائے۔

احتساب عدالت کے جج نے تفتیشی افسر کی درخواست منظور کی اور 7 نومبر تک مزید مہلت دے دی، جج نے افسر کو اگلی سماعت تک ملزم کی گرفتاری اور عدالت کے سامنے پیشی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

نیب نے ریفرنس میں مؤقف اپنایا ہے کہ پی پی ایل کے چیئرمین نے کارپوریٹ اثاثوں کی خریداری میں کرپشن کے الزامات پر مبنی ایک شکایت درج کروائی تھی جس میں ایم این ڈی کے حصص بھی شامل تھے، گیس اور تیل تلاش کرنے والی برطانوی کمپنی کے ڈائریکٹر جمہوریہ چیک کے شہری ماریک تھے جنہوں نے کمپنی اپنے نام پر رجسٹرڈ کروائی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ پی پی ایل کا بارخان بلاک میں کام کرنے والی کمپنی کے ساتھ 3 فیصد حصہ ہے جہاں ایم این ڈی ایک اور کمپنی اوسٹرینچشی مینرل ویروالٹنگ (او ایم وی) کے ساتھ 50 فیصد کی شراکت دار ہے، اسی طرح پی پی ایل کے متعلقہ بلاک کے حوالے سے بنیادی معلومات تھیں۔

ریفرنس میں کہا گیا کہ ایم این ڈی کے اثاثوں کی خریداری کے لیے بولی کے عمل سے قبل 27 فروری 2012 کو ٹیکنیکل کمیٹی کا اجلاس ہوا جہاں شراکت داروں نے تکنیکی اور مالی معاملات سمیت تمام حقائق پر تبادلہ خیال کیا۔

مزید پڑھیں: پارک لین کیس: آصف زرداری و دیگر ملزمان کے خلاف ضمنی ریفرنس دائر

مذکورہ اجلاس کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس وقت بلاک کی مالیت 4 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تھی جن میں سے ایک کروڑ 89 لاکھ ڈالر پی پی ایل، 2 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ایم این ڈی اور 81 لاکھ ڈالر او ایم وی کا حصہ تھا۔

تفتیشی رپورٹ کے مطابق ملزم عاصم مرتضیٰ خان کو پی پی ایل کے ایم ڈی کی حیثیت سے 8 مارچ 2012 کو فرسٹ انرجی کی جانب سے ایک ای میل موصول ہوئی، جو ایم این ڈی کے مالک ماریک کی نمائندہ مالی مشاورتی کمپنی تھی اور اسی نے پی پی ایل کو ایم این ڈی کے اثاثے بیچنے کی پیش کش کی۔

پی پی ایل کے اس وقت کے ایم ڈی نے وہ ای میل بزنس ڈیولپمنٹ شعبے کو بھیج دی، جس کے سربراہ ملزم عبدالواحد تھے، بعد ازاں عاصم مرتضیٰ خان نے عبدالواحد اور ملزم راحت حسین سے مشاورت کرکے کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کرنے کے لیے خط جاری کردیا اور اس خط میں کے اے ایس بی کے نمائندے ملزم خاقان سعداللہ کو بھی شامل کیا گیا۔

تفتیش کے مطابق یہ معاملہ 25 اپریل 2012 کو ہونے والے پی پی ایل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں رکھا گیا۔

ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ ‘اصولی طور پر ایم این ڈی کے پاکستان اور یمن میں موجود اثاثوں کی خریداری کی منظوری دی گئی اور بولی کی قیمت کی منظوری ایک اور اجلاس میں دی گئی جو خاص اسی مقصد کے لیے طلب کیا گیا تھا’۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ خاقان سعداللہ نے مالی مشیر کی حیثیت سے 13 مئی کو عاصم مرتضیٰ خان اور عبدالواحد کو تخمینے کی رپورٹ پیش کی، جس میں انہوں نے قرار دیا تھا کہ ایم این ڈی کے اثاثوں کی مالیت کم از کم 5 کروڑ 6 لاکھ ڈالر اور زیادہ سے زیادہ 7 کروڑ 34 لاکھ ڈالر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بد عنوانی کیس: پی ٹی آئی کے صوبائی وزیر کےخلاف ریفرنس آنے تک حاضری سے استثنیٰ

نیب کا کہنا ہے کہ بولی کے لیے درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 18 مئی تھی اور عاصم مرتضیٰ خان نے مبینہ طور پر بدنیتی سے 17 مئی کو بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس طلب کیا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ایک دن قبل ہی بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں ملزم خاقان سعداللہ نے دیگر ملزمان کے ساتھ مل کر اراکین کو قائل کیا اور 16 مئی کو دوسری رپورٹ پیش کی اور اسی کو سب جاری کیا اور یہ اقدام قانون اور قواعد کی خلاف ورزی تھی۔

نیب نے الزام عائد کیا کہ عاصم مرتضیٰ خان نے عبدالواحد، خاقان سعداللہ اور راحت حسین کے ساتھ مل کر بدنیتی اور جان بوجھ کر معاملات پی پی ایل کے چیف فنانس افسر یا فنانس کمیٹی کے سامنے رکھنے سے گریز کرتے ہوئے براہ راست بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں رکھ دیے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ خاقان سعداللہ نے غیر قانونی طور پر اثاثوں کی مالیت کا تخمینہ کم از کم 16 کروڑ 48 لاکھ 80 ہزار ڈالر اور زیادہ سے زیادہ 17 کروڑ 80 لاکھ 92 ہزار ڈالر لگایا اور دیگر ملزمان کی مدد سے اثاثوں کی مالیت بڑھانے کی بدنیتی سے غیر متوقع طور پر کئی نئی چیزیں شامل کیں۔

تفتیشی رپورٹ میں کہا گیا کہ 17 مئی کو بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس مرحوم ہدایت اللہ پیرزادہ کی سربراہی میں منعقد ہوا تھا اور مستقل اراکین کے علاوہ عبدالواحد، راحت حسین، خاقان سعداللہ اور معیز رضا خان نے مہمان اراکین کے طور پر شرکت کی تھی اور سعداللہ نے اپنی رپورٹ پیش کی تھی۔

مزید پڑھیں:جعلی اکاؤنٹس کیس میں نیب کی پہلی گرفتاری، سیکریٹری کے پی ٹی گرفتار

اجلاس میں پی پی ایل کے اس وقت کے ایم ڈی نے ڈائریکٹرز کو نوٹس بھی جمع کروائے تھے اور بورڈ اراکین کے سوالوں کے جوابات بھی دیے تھے۔

ریفرنس کے مطابق اجلاس کے آخر میں عبدالواحد، راحت حسین اور معیز رضا خان کو ماریک کے حق میں فیصلے لینے میں کامیابی ملی اور بورڈ نے نیلامی کے لیے مزید 17 کروڑ 60 لاکھ 10 ہزار ڈالر سے 18 لاکھ ڈالر تک اضافہ بھی کردیا۔

نیب نے الزام عائد کیا کہ پی پی ایل کے مذکورہ افسران اور ماریک کے گٹھ جوڑ سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا اور اس کے نتیجے میں اثاثوں کو فرضی قیمت میں خریدا گیا۔

احتساب عدالت میں دائر ریفرنس میں بتایا گیا کہ جعلی قیمت سے قومی خزانے کو ابتدائی طور پر 6 کروڑ 72 لاکھ ڈالر کا نقصان پہنچا اور مجموعی طور پر 12 کروڑ 16 لاکھ ڈالر کا نقصان ہوا۔