حاملہ خواتین کا کیفین کا استعمال بچوں میں دماغی تبدیلیوں کا باعث قرار

09 فروری 2021
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

حاملہ خواتین کا کیفین والے مشروبات کا استعمال بچے کی دماغی نشوونما پر اثرانداز ہوکر بعد کی زندگی میں رویوں کے مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

یونیورسٹی آف روچسٹر میڈیکل سینٹر کی اس تحقیق میں 9 اور 10 سال کی عمر کے بچوں کے ہزاروں دماغی اسکینز کا تجزیہ کرتے ہوئے حمل کے دوران کیفین کے استعمال سے ان بچوں کی دماغی ساخت میں آنے والی تبدیلیوں کا انکشاف کیا گیا۔

محقین کا کہنا تھا کہ یہ بظاہر معمولی اثرات ہوتے ہیں اور خوفناک نفسیاتی امراض کا باعث نہیں بنتے، مگر اس سے رویوں کے نمایاں مسائل طویل المعیاد بنیادوں پر پیدا ہوسکتے ہیں، جس کی وجہ دوران حمل ماں کا کیفین والے مشروبات جیسے کافی یا چائے کا استعمال ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نتائج کو دیکھتے ہوئے ہم یہ مشورہ دینا چاہتےہ یں کہ دوران حمل کیفین کی معمولی مقدار کا استعمال کوئی اچھا خیال نہیں۔

رویوں کے مسائل جیسے توجہ مرکوز کرنے میں مشکلات اور زیادہ غصہ آنا وغیرہ کا مشاہدہ محققین نے اس بچوں میں کیا۔

طبی جریدے جرنل نیوروفارماکلوجی میں شائع تحقیق کے لیے 9 اور 10 سال کی عمر کے 9 ہزار سے زیادہ بچوں کے دماغی اسکینز کا تجزیہ کیا گیا تھا۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دوران حمل ماں کی جانب سے کیفین کے استعمال سے بچوں کے دماغ کے وائٹ میٹر (white matter) میں واضح تبدیلیاں آئیں۔

اس سے قبل اگست 2020 میں بھی ایک تحقیق میں کہا گیا تھا کہ دوران حمل خواتین کو کیفین والے مشروبات جیسے کافی، چائے اور سافٹ ڈرنکس سے گریز کرنا چاہیے، تاکہ کسی بھی قسم کے نقصان سے بچ سکیں۔

جریدے جرنل بی ایم جے میں 48 تحقیقی رپورٹس کے تجزیے پر مشتمل مقالے میں کہا گیا کہ درحقیقت کیفین کی معمولی مقدار سے بھی حاملہ خواتین کو گریز کرنا چاہیے۔

کیفین سے لوگوں کی دل کی دھڑکن کی رفتار تیز اور بلڈ پریشر بڑھتا ہے، یہ دونوں کیفیات حمل کے دوران بچے پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔

آئس لینڈ کی ریکیاوک یونیورسٹی کے ماہرین نے 2000 کے بعد سے شائع 37 مشاہداتی تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا کا جائزہ لیا جبکہ مزید 11 ایسے مقالوں کو بھی دیکھا جس میں دوران حمل کیفین کے اثرات پر ہونے والے تحقیقاتی کام کا تجزیہ کیا تھا۔

یہ تمام 11 مضامین 1998 کے بعد شائع ہوئے تھے۔

تمام تر ڈیٹا اور حقائق کا جائزہ لینے کے بعد محققین نے تعین کیا کہ حاملہ خواتین کے لیے کیفین کی معمولی مقدار بھی اسقاط حمل، کچھ ہفتوں بعد حمل ختم ہوجانا اور بچے کے وزن میں کمی کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔

خیال رہے کہ امریکا، یورپ اور یورپی کمیشن کی جانب سے جاری سفارشات میں کہا گیا ہے کہ حاملہ خواتین معتدل مقدار میں کیفین (2 کپ کافی کے برابر) استعمال کرسکتی ہیں، جس سے انہیں کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔

ضرور پڑھیں

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

پاکستان ’قراردادِ پاکستان‘ کے بعد طلوعِ آزادی کی جس منزل سے ہم کنار ہوا اس کی داستان نسلِ نو کو سنانی ضروری ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں