کراچی: طالبہ گینگ ریپ کے مزید دو ملزمان گرفتار

14 فروری 2021
پولیس نے تین ملزمان کو پہلے ہی گرفتار کر لیا تھا—فائل/فوٹو: کریٹیو کامنز
پولیس نے تین ملزمان کو پہلے ہی گرفتار کر لیا تھا—فائل/فوٹو: کریٹیو کامنز

کراچی پولیس نے گلشن حدید می فرسٹ ائیر کی طالبہ کو ریپ کا نشانہ بنانے کے ںعد ڈیفنس میں بے ہوشی کی حالت پھینکنے والے مزید دو ملزمان کو گرفتارکر لیا۔

ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر کا کہنا تھا کہ مزید دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جس کے بعد گرفتار ملزمان کی تعداد 4 ہوگئی ہے۔

مزید پڑھیں: کراچی میں فرسٹ ایئر کی طالبہ کا گینگ ریپ، 3 ملزمان گرفتار

ان کا کہنا تھا کہ گرفتار دو ملزمان کا تعلق گلشن حدید سے ہے جبکہ ایک ملزم کا تعلق لاہور سے ہے۔

ایس ایس پی نے بتایا کہ ملزمان کے ڈین اے کے لیے نمونے حاصل کیے جاچکے ہیں اور ان سے تفتیش بھی کی جا رہی ہے، اس کے علاوہ سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے کی بھی کوشش کی جارہی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ 3 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے اور بعد ازاں تینوں ملزمان کا ریمانڈ حاصل کیا گیا تھا۔

فرسٹ ایئر کی طالبہ کے گینگ ریپ کے حوالے سے ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر نے بتایا تھا کہ گلشن حدید میں ملزمان نے لڑکی کو اغوا کیا تھا۔

جس کے بعد اسے مجرمانہ حملے کا نشانہ بنایا گیا اور پھر ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں کار سے پھینک دیا گیا۔

پولیس کے ترجمان نے کہا تھا کہ ایس ایس پی نے تحقیقاتی ٹیم کے ہمراہ لڑکی کی رہائش گاہ کا دورہ کیا اور لڑکی کے والد سے مل کر انہیں انصاف کی یقین دہانی کروائی۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: فرسٹ ایئر کی طالبہ کا گینگ ریپ، ملزمان کا جسمانی ریمانڈ منظور

دوسری جانب سینئر پولیس افسر پر مشتمل ایک خصوصی ٹیم تشکیل دے دی گئی تھی جو ممکنہ طور پر روزانہ کی بنیاد پر اپنی رپورٹ حکام کو پیش کرے گی۔

ایس ایس پی ملیر کا کہنا تھا کہ جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کی ایک خاتون میڈیکو لیگل افسر سے لڑکی کا طبی معائنہ کرایا گیا۔

صحافیوں کو متاثرہ لڑکی کے والد نے بتایا تھا کہ پولیس اہل خانہ کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے، جب وہ اسٹیل ٹاؤن تھانے گئے تو فوری طور پر ایف آئی آر درج کرلی گئی اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے گئے۔

انہوں نے امید ظاہر کی تھی کہ جمعے کو ان کے گھر آنے والے سینئر پولیس افسران ملزمان کے لیے مثالی سزا یقینی بنا کر ان کے خاندان کو انصاف دلائیں گے۔

پولیس نے گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کیا تھا جہاں جوڈیشل مجسٹریٹ (ملیر) نے ملزمان سمیع اللہ، فواد اور عادل کو 22 فروری تک پولیس کے حوالے کیا تھا۔

پولیس نے بتایا تھا کہ حراست میں لیے گئے ملزمان کے دو ساتھیوں کو گرفتار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

واضح رہے کہ 9 فروری کو لڑکی گلشن حدید میں کالج جانے کے لیے مبینہ طور پر گھر سے نکلی تھی کہ اسے کار میں سوار ملزمان نے اغوا کرلیا تھا۔

بعد ازاں اگلے روز ڈیفنس پولیس کو لڑکی ملی تھی جس نے اسٹیل ٹاؤن پولیس کو لڑکی کی بازیابی سے متعلق آگاہ کیا تھا۔

جس پر اسٹیل ٹاؤن پولیس نے لڑکی کے والد کی شکایت پر 3 ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی اور ان تینوں کو گرفتار کر لیا تھا۔

تبصرے (0) بند ہیں