ہمیں ہر صورت ڈراما مصنفین کو بدلنے کی ضرورت ہے، ثانیہ سعید

اپ ڈیٹ 27 جون 2021
ثانیہ سعید کے مطابق گر اچھا اسکرپٹ ہی نہیں تو وہ کچھ نہیں کرسکتیں—فائل فوٹو: فیس بک
ثانیہ سعید کے مطابق گر اچھا اسکرپٹ ہی نہیں تو وہ کچھ نہیں کرسکتیں—فائل فوٹو: فیس بک

پاکستان ڈراما انڈسٹری کی مقبول اداکارہ ثانیہ سعید نے ڈراموں کی کہانی اور اسکرپٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں ہر صورت ڈراما کے مصنفین کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

اردو نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ثانیہ سعید نے کہا ہے کہ 'میں اچھی اداکاری کر سکتی ہوں میرے تجربات اچھے ہو سکتے ہیں لیکن اگر اچھا اسکرپٹ ہی نہیں تو میں کچھ نہیں کرسکتی نہ ہی کچھ الگ کر سکتی ہوں'۔

ثانیہ سعید نے کہا کہ ڈراما سیریل 'رقیب سے' کی مثال لے لیں، اس ڈرامے میں ہدایت کار نے اداکاروں سے بہت ہی عمدہ کام لیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہدایت کاری ایک ایسا کام ہے جسے سمجھنا آسان نہیں، ایک اداکار نہیں سمجھ سکتا کہ ہدایت کار کس نظریے سے کس کردار اور اس کی زندگی کو دیکھتا ہے اور کس ڈھنگ سے کہانی سنانا چاہتا ہے۔

مزید پڑھیں: حنا الطاف اور ثانیہ سعید 'ڈور' میں ساتھ نظر آئیں گی

ثانیہ سعید نے کہا کہ کوئی بھی اداکار اچھی اداکاری کرتا ہے تو اس کی آنکھیں بولتی ہیں اور اگر ہدایت کار ان کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہی نہیں کر رہا تو پھر اکیلا اداکار کیا کر سکتا ہے؟

تھیٹر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ثانیہ سعید نے کہا کہ کسی بھی اداکار نے اگر تھیٹر کیا ہو تو اسے فائدہ ضرور ہوتا ہے لیکن اگر نہیں بھی کیا تو کوئی بات نہیں دنیا میں بہت سے اداکار ایسے ہیں جنہوں نے کبھی تھیٹر کیا ہی نہیں لیکن اس کے باوجود وہ بہت بہترین اداکار ثابت ہوئے۔

— فوٹو:اسکرین شاٹ
— فوٹو:اسکرین شاٹ

نئے فنکاروں کے حوالے سے ثانیہ سعید کا کہنا تھا کہ وہ آج کل کے اداکاروں کی اداکاری کو بہت پسند کرتی ہیں حالانکہ ان کو اچھے سکرپٹس نہیں دیے جارہے اس کے باوجود وہ کیسے کمال دکھا رہے ہیں اس پر میں بہت حیران ہوتی ہوں۔

ثانیہ سعید نے کہا کہ انہیں اچھے اسکرپٹ اور اچھے ڈائریکٹرز نے تربیت دی ہے لیکن آج کے نوجوان اداکاروں کو جو اسکرپٹ دیے جارہے ہیں ان میں بعض اوقات فضول سی باتوں کو بیان کیا جا رہا ہوتا ہے اس کے باجود اگر وہ اداکار ناظرین کو ڈراما دیکھنے پر مجبور کر رہے ہیں تو یہ ان کا کمال ہے، ہمیں ہر صورت رائٹرز بدلنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ زیادہ تر اسکرپٹس اچھے نہیں آرہے لیکن اس کے باوجود اسی دور میں ’رقیب سے‘ اور ’میری گڑیا‘ جیسے ڈرامے بھی بن رہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ثانیہ سعید نے کہا کہ اگر دیکھنے والے کو کسی بھی اداکار کی اداکاری اور چہرے پر اطمینان نظر آئے تو اس کا مطلب ہے کہ اس کی پریکٹس اور تجربہ بہت زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک دم سے تو کوئی بھی اداکار یہ کمال ہنر نہیں دکھا سکتا، یہ فن سیکھنے کے لیے نشیب و فراز سے گزرنا پڑتا ہے، غلطیوں سے سیکھنا پڑتا ہے، اچھے اساتذہ اور اچھے اسکرپٹ کسی بھی اداکار کو بہت کچھ سکھا دیتے ہیں۔

ثانیہ سعید نے کہا کہ الگ الگ نقطہ نظر اور نظریات کے لیے اداکاروں کو اپنا دل و دماغ کھلا رکھنے کی ضرورت ہوتی ہےاور یہی کسی بھی اداکار کا سب سے بڑا فائدہ کا ہوتا ہے اور یہ کسی بھی فیلڈ میں کسی بھی پروفیشنل کے پاس ہو نہ ہو ان کو فرق نہیں پڑتا۔

اداکارہ نے کہا کہ اسکرین پر جو بھی اچھی چیز نظر آرہی ہوتی ہے اس میں کسی ایک شخص کی نہیں بلکہ بہت لوگوں کی محنت شامل ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حدیقہ کیانی کی ثانیہ سعید کے ساتھ سیٹ پر گانا گانے کی ویڈیو وائرل

انہوں نے کہا کہ کوئی اگر ماضی اور حال کے ڈراموں کا موازنہ کر کے تنقید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ پہلے ہمارے ڈرامے بہت اچھے تھے اور اب نہیں ہیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ پرانے لکھاریوں کا مسئلہ صرف لکھنے کا نہیں تھا وہ نظریاتی لوگ تھے وہ جو سوچتے تھے ان کی کوشش ہوتی تھی کہ لوگوں تک پہنچایا جائے۔

ثانیہ سعید نے کہا کہ پرانے لکھاریوں کو صرف مشہور ہونے کا شوق نہیں تھا ان کے اندر ایک وبال تھا کہ ان کی سوچ کیا ہے انہیں سنا جائے، حسینہ معین اور انور مقصود کے اسکرپٹ پی ٹی وی پر تو بہت چلے لیکن باقی لوگوں کے ساتھ ان کی بات نہ بنی حالانکہ کے رائٹرز تو وہی تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بات آج یا کل کی نہیں ہے بس آپ جس نظریے سے سوچتے ہیں اس سے ہٹ کر اگر آپ کو سوچنے پر مجبور کر دیا جائے تو یہی ڈراما ہے اور یہی ڈرامے کا کام ہے پھر وہ ڈراما آج کا ہو یا ماضی کا۔

تبصرے (0) بند ہیں