نادرا کے پاس جیو فینسنگ، ڈی این اے ٹیسٹنگ کا کوئی مینڈیٹ نہیں، چیئرمین نادرا

اپ ڈیٹ 27 اگست 2021
چیئرمین نادرا طارق ملک — فوٹو: ٹوئٹر
چیئرمین نادرا طارق ملک — فوٹو: ٹوئٹر

اسلام آباد: نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے چیئرمین طارق ملک نے کہا ہے کہ نادرا کے پاس جیو فینسنگ اور ڈی این اے ٹیسٹنگ سے متعلق کوئی مینڈیٹ نہیں ہے کیونکہ یہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) اور پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی (پی ایف ایس اے) سے متعلق ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجرمانہ فرانزک معیارات نادرا کا مینڈیٹ نہیں ہیں۔

وہ صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اسد علی طور پر حملوں سے متعلق ایک سوال کا جواب دے رہے تھے۔

مزید پڑھیں: ڈسکہ کے 'لاپتا' الیکشن عہدیداران سے متعلق جیو فینسگ رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش

چیئرمین نادرا نے کہا کہ اسد طور پر حملہ کرنے والے مجرمان کی شناخت کے شواہد کمزور ہیں، 'فرانزک شواہد کا معیار، جیسے مختلف جگہوں پر فنگر پرنٹس اور فوٹیج، نادرا کے نظام میں مشتبہ افراد کے چہروں کی شناخت کے لیے مناسب نہیں تھے'۔

وہ ایس ایس پی (آپریشنز) اسلام آباد ڈاکٹر سید مصطفیٰ تنویر کے بیان کا جواب دے رہے تھے کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے سابق چیئرمین اور سینئر صحافی ابصار عالم اور اسد طور پر حملے سے متعلق رپورٹ کو جیو فینسنگ، ڈی این اے میچنگ، فرانزک رپورٹ وغیرہ کے لیے نادرا بھیج دیا گیا ہے۔

چیئرمین نادرا نے یہ بھی کہا کہ اسد طور کا محکمہ پولیس سے ریکارڈ کلیئر نہیں کیا گیا۔

قومی اسمبلی کی کمیٹی کے چیئرمین و پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما میاں جاوید لطیف نے سیکریٹری داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ اس معاملے پر ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل، انسپکٹر جنرل اسلام آباد پولیس، چیئرمین نادرا اور پی ایف ایس اے حکام سے بات کریں اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو آئندہ اجلاس میں رپورٹ جمع کرائیں۔

یہ بھی پڑھیں: ‏سپریم کورٹ کا مینار پاکستان واقعے پر نوٹس، رپورٹ عدالت میں جمع

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے وزارت داخلہ کو ہدایت کی کہ تمام صوبوں اور اسلام آباد کے صحافیوں کے خلاف درج ایف آئی آر اور شکایات کی تفصیلات اکٹھی کی جائیں اور انہیں اپنے اگلے اجلاس میں فراہم کی جائیں۔

ایڈیشنل انسپکٹر جنرل سندھ پولیس (اسپیشل برانچ) نے کمیٹی کو صحافی عزیز میمن کے قتل کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی تازہ ترین رپورٹ سے آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ایڈیشنل آئی جی پی، کراچی ریجن کے تحت جے آئی ٹی سندھ کے محکمہ داخلہ نے تشکیل دی تھی۔

انہوں نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق 88 مشتبہ افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کیے گئے، ایک ملزم نذیر ولد بنگل خان ساہیتو کا ڈی این اے مقتول صحافی سے مل گیا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں