• KHI: Zuhr 12:38pm Asr 5:20pm
  • LHR: Zuhr 12:09pm Asr 5:02pm
  • ISB: Zuhr 12:14pm Asr 5:11pm
  • KHI: Zuhr 12:38pm Asr 5:20pm
  • LHR: Zuhr 12:09pm Asr 5:02pm
  • ISB: Zuhr 12:14pm Asr 5:11pm

سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دے دیا

شائع October 23, 2023
جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی — فائل فوٹو: سپریم کورٹ ویب سائٹ
جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی — فائل فوٹو: سپریم کورٹ ویب سائٹ

سپریم کورٹ نے 9 مئی کے پرتشدد مظاہروں میں ملوث ہونے پر گرفتار عام شہریوں کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف دائر درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے اسے کالعدم قرار دے دیا۔

سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ‏سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف درخواستیں منظور کرتے ہوئے سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم قرار دے دیا۔

سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے کیس کا 6 صفحات پر مشتمل مختصر فیصلہ جاری کر دیا، جس میں کہا گیا کہ آرمی ایکٹ کی سیکشن ڈی2 کی ذیلی شقیں ایک اور دو کالعدم قرار دی جاتی ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ آرمی ایکٹ کی سیکشن 59(4) بھی کالعدم قرار دی جاتی ہے۔

سپریم کورٹ کے 1-4 کے اکثریتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ فوجی تحویل میں موجود تمام 103 افراد کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں نہیں ہوگا۔

عدالت عظمیٰ نے کہا کہ 9 اور 10 مئی کے واقعات کے تمام ملزمان کے ٹرائل متعلقہ فوجداری عدالتوں میں ہوں گے اور سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ہونے والے کسی ٹرائل کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوگی۔

فیصلہ 1-4 کی اکثریت سے سنایا گیا، جسٹس یحیٰی آفریدی نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا۔

سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلے کے خلاف ریاست کی جانب سے فل کورٹ کے سامنے اپیل کی جاسکتی ہے جہاں حتمی فیصلہ ہوگا۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ سنہرے حروف میں لکھا جائے گا، اعتزاز احسن

درخواست گزار اعتزاز احسن نے فیصلے آنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ سنہرے حروف میں لکھا جائے گا، سپریم کورٹ نے ایک اہم کیس میں بہت اہم فیصلہ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فیصلہ جمہوریت، آئین، قانون کے سارے نظام کو مستحکم کرے گا اور سپریم کورٹ یہ بھی ثابت کردیا کہ بالادستی قانون اور آئین کی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ جس طرح ایک انگریز آرچ بشپ نے بادشاہ کو کہا تھا کہ آپ بادشاہ اس وجہ سے ہیں کہ قانون آپ کو بادشاہ بناتا ہے لیکن قانون آپ سے بالادست ہے، یہ اتنا اہم فیصلہ ہے کہ تمام اداروں کو یہ اطلاع ہوجانی چاہیے کہ سپریم کورٹ نے واضح الفاظ میں بتادیا کہ آپ جتنے بھی اعلیٰ عہدوں پر ہوں، یا جتنے بھی طاقت ور ہوں لیکن قانون آپ سے بالاتر ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ ہم فوجی عدالتوں میں سویلنز کے ٹرائل کے خلاف تھے، ہم نے اس کے خلاف بحث کی اور جدوجہد رہی اور سپریم کورٹ کے اس فیصلے میں ہمارے وکلا نے بحث کی۔

ان کا کہنا تھا کہ کل کی خبر تھی کہ فوجی عدالتوں میں کارروائی شروع ہوگئی ہے اور حکومت نے بھی درخواست دی تھی انہوں نے کارروائی شروع کردی ہے جبکہ خود حکومت اور اٹارنی جنرل نے مؤقف دیا کہ جب تک سپریم کورٹ کو اطلاع نہ دیں کارروائی شروع نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے اطلاع ٹرائل شروع کرنے کے بعد دی لیکن سپریم کورٹ نے اس کو رد کردیا اور فوجی عدالتوں کے بارے میں جو تشریح حکومت چاہتی تھی کہ فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل ہوسکتا ہے تو وہ بھی ختم کردیا۔

درخواست گزار اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم کورٹ نے خاص کہا کہ 9 مئی اور 10 مئی کے واقعات کے جو ملزمان ہیں اور حکومت نے جو الزام لگایا ہے وہ سب فوجی عدالت میں ٹرائل نہیں ہوسکتا اور مقدمہ سویلین عدالت میں چلے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کا اہم فیصلہ قانون اور آئین کی بنیادوں کو مستحکم کرے گا، جمہوریت اور سویلین اداروں میں اعتماد آئے گا اور ان کو اپنی کارکردگی بھی بہتر کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ میں شکرگزار ہوں کہ سپریم کورٹ نے تمام فریقین کو بڑے حوصلے سے سنا اور سب کو موقع دیا، ہمیں شکایت تھی کہ جواب دینے نہیں دیا لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ انہوں نے بہترین فیصلہ دیا ہے اور تفصیلی فیصلہ دیں گے تو اس سے مزید رہنمائی ہوگی، عوام، وکلا اور سول سوسائٹی مزید مضبوط ہوگی۔

سپریم کورٹ میں سماعت

قبل ازیں جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک پر مشتمل 5 رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل نے عدالت سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ میں فوجی عدالتوں کے قیام کے حوالے سے آئینی ترمیم کرنے اور نہ کرنے کے حوالے سے بات کروں گا، میں اس نکتے پر بھی بات کروں گا کہ موجودہ کیس میں آئینی ترمیم کی ضرورت کیوں نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں میں ٹرائل کریمنل کورٹس کے تمام تقاضے پورے کرتا ہے، اب ملٹری کورٹس میں ٹرائل کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے، فوجی عدالتوں کے فیصلے میں وجوہات بھی لکھی جائیں گی۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں گزشتہ سماعت کا خلاصہ دوں گا، میں بتاؤں گا کہ موجودہ ٹرائل کے لیے کیوں آئینی ترمیم ضروری نہیں تھی، میں آرٹیکل 175 پر بھی بات کروں گا، لیاقت حیسن کیس کا پیرا گراف بھی پڑھوں گا، 21 ویں آئینی ترمیم کے فیصلے کی روشنی میں بھی دلائل دوں گا، ممنوعہ علاقوں اور عمارات پر حملہ بھی ملٹری عدالتوں میں جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل میں فوجداری مقدمہ کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے، 9 مئی کے ملزمان کا ٹرائل فوجداری عدالت کی طرز پر ہوگا، فیصلے میں وجوہات دی جائیں گی شہادتیں ریکارڈ ہوں گی، آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت شفاف ٹرائل کے تمام تقاضے پورے ہوں گے، ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں اپیلیں بھی کی جا سکیں گی۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ دلائل کے دوران عدالتی سوالات کے جوابات بھی دوں گا، عدالت کو آگاہ کروں گا کہ 2015 میں آئینی ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتیں کیوں بنائی تھیں، عدالت کو یہ بھی بتاؤں گا کہ اس وقت فوجی عدالتوں کے لیے آئینی ترمیم کیوں ضروری نہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ ماضی کی فوجی عدالتوں میں جن کا ٹرائل ہوا وہ کون تھے؟ کیا 2015 کے ملزمان عام شہری تھے، غیر ملکی یا دہشت گرد؟

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ملزمان میں ملکی و غیر ملکی دونوں ہی شامل تھے، سال 2015 میں جن کا ٹرائل ہوا ان میں دہشت گردوں کے سہولت کار بھی شامل تھے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ دہشت گردوں کا ٹرائل کرنے کے لیے آئینی ترمیم ضروری تھی عام شہریوں کے لیے نہیں؟ میں آپ کے دلائل کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ مسلح افواج سے ملزمان کا براہ راست تعلق ہو تو کسی ترمیم کی ضرورت نہیں، ملزمان کا آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشن 2 (1) (ڈی) کے تحت ٹرائل کیا جائے گا، سوال پوچھا گیا تھا کہ ملزمان پر چارج کیسے فریم ہو گا۔

جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ آپ اپنے دلائل کو آئین کے آرٹیکل 8 (3) سے کیسے جوڑیں گے؟ آئین کے مطابق تو قانون میں مسلح افواج سے تعلق ضروری ہے، آپ کی تشریح کو مان لیا تو آپ ہر ایک کو اس میں لے آئیں گے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کہا کہ قانون واضح ہے پھر ملزمان کا تعلق کیسے جوڑیں گے؟ آئین بنیادی حقوق کو تحفظ دیتا ہے۔

دریں اثنا اٹارنی جنرل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا گیا، عدالت نے ریمارکس دیے کہ ممکن ہے مختصر فیصلہ سنا دیں۔

عدالتی عملے نے بتایا کہ کیس کا محفوظ فیصلہ آج دوپہر 3 بجے سنایا جائے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی حکومت نے سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل شروع ہونے سے متعلق سپریم کورٹ کو متفرق درخواست کے ذریعے آگاہ کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کے 3 اگست کے حکمنامے کی روشنی میں عدالت کو ٹرائلز کے آغاز سے مطلع کیا جا رہا ہے۔

متفرق درخواست میں بتایا گیا تھا کہ 9 اور 10 مئی کے واقعات کی روشنی میں 102 افراد گرفتار کیے گئے، زیر حراست افراد کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹرائل کیا جا رہا ہے اور جو فوجی عدالتوں میں ٹرائل میں قصوروار ثابت نہ ہوا وہ بری ہوجائے گا۔

قبل ازیں 20 اکتوبر کو عدالت عظمیٰ کی جانب سے جاری کردہ کاز لسٹ میں بتایا گیا تھا کہ فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کے خلاف کیس کی سماعت آج 23 اکتوبر بروز پیر سے شروع ہوگی۔

یاد رہے کہ فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کے خلاف کیس کی آخری سماعت 3 اگست کو ہوئی تھی، جس کے دوران اُس وقت کے چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے تھے کہ مسلح افواج کو ’غیر آئینی اقدامات‘ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ اس سے قبل عدالت عظمیٰ نے مقدمے کی سماعت کے لیے فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد کردی تھی۔

کیس کی سماعت سابق چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس عائشہ اے ملک پر مشتمل 6 رکنی لارجر بینچ نے کی تھی۔

چیئرمین پی ٹی آئی، سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ، معروف قانون دان اعتزاز احسن اور سول سوسائٹی کی جانب سے عام شہریوں پر مقدمات آرمی ایکٹ کے تحت فوجی عدالتوں میں چلانے کے خلاف درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔

20 جون کو جواد ایس خواجہ نے اپنے وکیل ایڈووکیٹ خواجہ احمد حسین اور ایڈووکیٹ عزیر چغتائی کے توسط سے دائر درخواست میں استدعا کی تھی کہ عام عدالتیں ہوتے ہوئے ملٹری عدالتوں کے ذریعے عام شہریوں کا ٹرائل غیر آئینی قرار دیا جائے اور آرمی ایکٹ کے مختلف سیکشنز آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق سے متصادم ہیں، جنہیں کالعدم قرار دیا جائے۔

اس درخواست سے قبل مختلف شہروں سے سول سوسائٹی کے 5 ارکان نے اپنے وکیل فیصل صدیقی کے ذریعے 9 مئی کے تشدد کے سلسلے میں فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کو غیر قانونی قرار دینے کی درخواست دائر کی تھی۔

اسی طرح 18 جون کو پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر وکیل اعتزاز احسن نے 9 مئی کے واقعات میں ملوث شہریوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

اعتزاز احسن کی جانب سے وکیل سلمان اکرم راجا نے دائر درخواست میں کہا تھا کہ وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کور کمانڈر فیصلے پر ربر اسٹمپ کا کردار ادا کیا، سویلین کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 اور 59 آئین سے متصادم ہیں، آرمی ایکٹ قانون کے سیکشن 2 اور 59 کو کالعدم قرار دیا جائے۔

21 جون کو سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے فوجی عدالتوں میں آرمی ایکٹ کے تحت عام شہریوں کے مقدمات چلانے کے خلاف دائر 4 درخواستوں کو سماعت کے لیے مقرر کرتے ہوئے اپنی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا۔

21 جولائی کو فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے تھے کہ سپریم کورٹ کو آگاہ کیے بغیر فوجی عدالتوں میں ملزمان کا ٹرائل شروع نہیں کیا جائے، حکم کی خلاف ورزی پر ذمہ داروں کو طلب کریں گے۔

9 مئی کی ہنگامہ آرائی اور بعد کے حالات

خیال رہے کہ رواں برس 9 مئی کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو پیراملٹری فورس رینجرز کی مدد سے القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا، جس کے بعد ملک بھر میں ہوئے پُرتشدد احتجاج کے دوران مشتعل افراد نے فوجی تنصیبات، بشمول کور کمانڈر لاہور کی رہائش گاہ اور پاکستان بھر میں ریاستی املاک کو نقصان پہنچایا۔

اس واقعے کے بعد فوج نے اس دن کو ملکی تاریخ کا ایک ’سیاہ باب‘ قرار دیا تھا اور توڑ پھوڑ میں ملوث تمام افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا عزم کیا تھا۔

بعد میں مزید سخت قدم اٹھاتے ہوئے حکومت نے سول اور فوجی تنصیبات پر حملے اور آتش زنی کرنے والوں کو پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ سمیت متعلقہ قوانین کے تحت انصاف کے کٹہرے میں لانے کا فیصلہ کیا۔

اس فیصلے کی قومی سلامتی کمیٹی نے بھی توثیق کی تھی، جو قومی سلامتی کے امور کے لیے ملک کا اعلیٰ ترین فورم برائے رابطہ کاری ہے۔

بعد ازاں 20 مئی کو آرمی چیف نے کہا تھا کہ مئی کے سانحے میں ملوث منصوبہ سازوں، اکسانے والوں، حوصلہ افزائی کرنے والوں اور مجرموں کے خلاف مقدمے کا قانونی عمل آئین سے ماخوذ موجودہ اور قائم شدہ قانونی طریقہ کار کے مطابق پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت شروع ہو گیا ہے۔

خیال رہے کہ 26 مئی کو ایک نیوز کانفرنس میں اُس وقت کے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ 9 مئی سے متعلق صرف 6 مقدمات میں 33 ملزمان کو فوجی حکام کے حوالے کیا گیا ہے۔

بعد ازاں اس وقت کے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا تھا کہ فوج کے قوانین کے تحت مقدمات بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تقاضوں کو پورا کرتے ہیں، جو منصفانہ ٹرائل کی بنیاد ہیں۔

کارٹون

کارٹون : 19 جولائی 2024
کارٹون : 17 جولائی 2024