افغانستان: طالبان نے قتل کے دو مجرموں کو سرعام سزائے موت دے دی

22 فروری 2024
غزنی شہر میں ایک فٹبال کے میدان میں بھرے مجمعے کے دوران ملزمان کو سزائے موت دی گئی — فوٹو: اے ایف پی
غزنی شہر میں ایک فٹبال کے میدان میں بھرے مجمعے کے دوران ملزمان کو سزائے موت دی گئی — فوٹو: اے ایف پی

افغان طالبان نے غزنی شہر میں قتل میں ملوث دو مجرموں کو سرعام سزائے موت دیتے ہوئے گولیاں مار کر موت کی نیند سلا دیا۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق غزنی شہر میں ایک فٹبال کے میدان میں سپریم کورٹ کے عہدیدار عتیق اللہ درویش نے سزائے موت کے حکمنامے کو بلند آواز میں پڑھ کر سنایا جس پر طالبان کے سپریم لیڈر نے ہیبت اللہ اخوندزادہ نے دستخط کیے تھے۔

عتیق اللہ درویش نے بتایا کہ ان دو افراد پر قتل کا الزام تھا اور عدالتوں میں دو سال تک ٹرائل کے بعد ان کی سزائے موت کے حکمنامے پر دستخط کیے۔

سزائے موت کے موقع پر بچوں اور خواتین سمیت 2 ہزار سے زائد موجود تھے اور اس مرحلے پر متاثرہ خاندانوں کے افراد بھی موجود تھے جن سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ملزمان کو معاف کرنا چاہتے ہیں جس پر انہوں نے معافی دینے سے انکار کردیا۔

متاثرہ خاندان کو خود ملزمان کو سزا دینے کی پیشکش کی گئی تاہم ان کے انکار پر سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے انہیں پیٹھ میں گولیاں مار کر سزائے موت پر عملدرآمد کیا۔

سپری کورٹ کے بیان کے مطابق ملزمان کی شناخت سعید جمال اور گُل خان کے نام سے ہوئی جن پر الزام تھا کہ اںہوں نے بالترتیب ستمبر 2017 اور جنوری 2022 میں چاقو سے قتل کیے تھے۔

بیان میں کہا گیا کہ طالبان کے سپریم لیڈر نے ان دونوں ملزمان کے مقدمات میں بہت زیادہ تحقیقات کے بعد سزائے موت کا فیصلہ سنایا۔

واضح رہے کہ 1996 سے 2001 میں طالبان کے سابقہ دور حکومت میں بھی سرعام سزائے موت دی جاتی تھیں۔

2021 میں اقتدار سنبھالنے والی موجودہ افغان حکومت کے دور میں یہ سرعام سزا دینے کا تیسرا یا چوتھا واقعہ ہے جہاں اس سے قبل جون 2023 میں بھی ایک قتل کے مجرم کو صوبہ لغمان میں سرعام سزائے موت دی گئی تھی۔

تبصرے (0) بند ہیں