حکومت کا بیل آؤٹ پیکج کیلئے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 08 اکتوبر 2018

ای میل

وزیر اعظم ہاؤس میں منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس کے دوران عمران خان وزیر خزانہ اسد عمر سے گفتگو کر رہے ہیں— فوٹو: اے پی پی
وزیر اعظم ہاؤس میں منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس کے دوران عمران خان وزیر خزانہ اسد عمر سے گفتگو کر رہے ہیں— فوٹو: اے پی پی

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے اعلان کیا ہے کہ ملک کو درپیش معاشی بحران کے حل کے لیے حکومت نے بیل آؤٹ پیکج کے حصول کے لیے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے پاس جانے کا فیصلہ کرلیا۔

وزیر خزانہ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے آج اقتصادی ماہرین اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد بیل آؤٹ پیکج کے لیے آئی ایم ایف کے پاس جانے کی منظوری دی۔

مزید پڑھیں: مالی بحران کے باعث سی پیک کے مختلف منصوبے تعطل کا شکار

ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ ہر جانے والی حکومت نئی حکومت کے لیے معاشی بحران چھوڑ کر گئی ہے لیکن ہم ہر نئی حکومت کے آنے پر معاشی بدحالی کا تسلسل توڑنا چاہتے ہیں۔

اسد عمر نے کہا کہ ملک کے اندر اور باہر تمام وسائل پر گزشتہ ڈیڑھ ہفتے کے دوران تفصیلی غور کیا گیا اور وزیر اعظم نے معاشی بحران کے حل کے لیے دوست ممالک سے بھی بات کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 'معاشی صورتحال ابتر ہے، فوری 12 ارب ڈالر درکارہوں گے'

ان کا کہنا تھا کہ عوام جانتے ہیں ملک مشکل مالی حالات سے گزر رہا ہے، معاشی بحالی آسان نہیں بلکہ مشکل چیلنج ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ آئی ایم ایف سے 3 سال کے لیے 7 سے 8 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کی بات کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا ہدف صاحب استطاعت لوگ ہیں اور کوشش ہے کہ کمزور طبقے کا سخت فیصلوں پر کم سے کم اثر پڑے۔

ضرور پڑھیں: ‘آمدنی اٹھنی خرچہ روپیہ’؛ پاکستانی معیشت کا اصل مسئلہ

اسد عمر نے کہا کہ ہمارے پاس وقت نہیں اور مسائل کے حل کے لیے تمام ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے ایک سے زیادہ متبادل ذرائع تلاش کرنا ہوں گے۔

رواں سال 25جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد اقتدار میں آنے والی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار میں آتے ہیں ملک کی معاشی صورتحال کو ابتر قرار دیتے ہوئے آئی ایم ایف سے قرض کا عندیہ دیا تھا۔

اسد عمر نے اگست میں دیے گئے ایک انٹرویو میں ملک کی اقتصادی حالت کو ابتر قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ قومی خزانے کے لیے 6 ہفتوں میں 12 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں: روپے کی گرتی ہوئی قدر

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ چین اور آئی ایم ایف بیل آؤٹ پیکیج پاکستان کے لیے ناگزیر ہوچکا ہے کیونکہ پاکستان کے زرِمبادلہ کے ذخائر مسلسل تنزلی کا شکار ہیں اور کرنٹ اکاؤنٹ حسارہ بھی بڑھ رہا جبکہ اسٹیٹ بینک کو روپے کی قدر میں کمی کرنا پڑی۔

علاوہ ازیں موڈیز نے بھی گزشتہ ماہ سرمایہ کاری کی ابتر صورتحال کی وجہ سے پاکستان کی رینکنگ منفی کردی تھی۔

پاکستان کا آئی ایم ایف سے یہ پہلا رابطہ نہیں ہوگا، ماضی میں بھی اسلام آباد معاشی صورتحال بہتر کرنے کے لیے عالمی مالیاتی ادارے کے پاس جاچکا ہے اور 1980 کی دہائی سے لے کر اب تک آئی ایم ایف سے 12 مرتبہ قرضہ لیا جاچکا ہے۔