سندھ میں صنعتی شعبے کو ترقی دینے کی ضرورت، عالمی بینک

اپ ڈیٹ 07 دسمبر 2018

ای میل

عالمی بینک کے وفد نے چیئرمین پی اینڈ ڈی سندھ سے ملاقات کی—فائل فوٹو
عالمی بینک کے وفد نے چیئرمین پی اینڈ ڈی سندھ سے ملاقات کی—فائل فوٹو

کراچی: عالمی بینک کے وفد نے تجویز دی ہے کہ صوبہ سندھ کو سرمایہ کاری سے متعلق ماحول فراہم کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ صنعتی شعبے کو ترقی دینے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

عالمی بینک کی جانب سے یہ تجویز چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ (پی اینڈ ڈی) بورڈ سندھ محمد وسیم سے ملاقات میں دی۔

پاکستان میں عالمی بینک کے ’بزنس ریفارمز ایڈوائزری اسکوپنگ مشن‘ نے سندھ میں کاروباری اصلاحات کی پیش رفت پر تبادلہ خیال کے لیے پی اینڈ ڈی چیئرمین سے ملاقات کی، اس ملاقات میں تمام متعلقہ اسٹیٹ ہولڈرز اور سندھ بورڈ آف انویسٹمنٹ (ایس بی آئی) بھی شامل تھے۔

مزید پڑھیں: خدمات پر سیلز ٹیکس کی وصولی میں سندھ سب سے آگے

اس موقع پر محمد وسیم نے سندھ کو مزید کاروبار دوست صوبہ بنانے کے لیے مسلسل اور باہمی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔

ملاقات میں کاروبار کی رجسٹریشن، تعمیراتی اجازت سے متعلق اصلاحات اور جائیداد رجسٹریشن کی اصلاحات کے لیے صوبائی پورٹل قائم کرنے کے معاملے پر بھی غور کیا گیا۔

اس کے علاوہ کاروبار کے حوالے سے سرکاری اور نجی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مخصوص موضوعات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ میں سیلز ٹیکس کی وصولی 44 فیصد تک بڑھ گئی

واضح رہے کہ اس وقت کاروباری اصلاحات کا 'اسپرنٹ' 3 جاری ہے اور عالمی بینک کی کاروبار کرنے کی رپورٹ میں پاکستان کی بہتری ہوئی ہے۔

اس رپورٹ میں پاکستان نے 11 درجے ترقی کرتے ہوئے 147 سے 136 ویں پوزیشن حاصل کرلی ہے۔


یہ خبر 07 دسمبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی