افغانستان: طالبان کے حملے میں 21 افغان کمانڈوز ہلاک

اپ ڈیٹ 17 جولائ 2019

ای میل

طالبان نے کمانڈوز کو گھیرے میں لے لیا اور چند گھنٹے تک لڑائی جاری رہی—فائل فوٹو: ڈان نیوز
طالبان نے کمانڈوز کو گھیرے میں لے لیا اور چند گھنٹے تک لڑائی جاری رہی—فائل فوٹو: ڈان نیوز

افغانستان کے جنوبی صوبے بادغیس میں طالبان کے حملے میں 21 افغان کمانڈوز ہلاک ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق صوبائی گورنر عبدالغفور ملک زئی نے بتایا کہ طالبان نے اسپیشل فورسز کے اہلکاروں پر گھات لگا کر حملہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا اور طالبان تمام اہم معاملات پر رضامند ہوگئے، زلمے خلیل زاد

انہوں نے بتایا کہ طالبان نے افغان کمانڈوز پر حملہ صوبہ بادغیس کے ضلع ابکماری میں کیا۔

صوبائی گورنر نے بتایا کہ دیگر سیکیورٹی فورسز سے رابطہ کیے بغیر ہی افغان کمانڈوز کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے مذکورہ ضلع میں اتارا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان نے کمانڈوز کو گھیرے میں لے لیا اور چند گھنٹے تک لڑائی جاری رہی۔

عبدالغفور ملک زئی نے بتایا کہ بدقسمتی سے 21 کمانڈوز ہلاک ہوئے اور دیگر پکڑ لیے گئے۔

دوسری جانب افغان وزارت دفاع نے واقعے سے متعلق تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

مزید پڑھیں: افغانستان میں طالبان کا فوجی اڈے پر حملہ، 12 افراد ہلاک

بادغیس کے صوبائی قونصل کے سربراہ عبدالعزیز نے بتایا کہ طالبان کے حملے میں 29 افغان کمانڈوز ہلاک ہوئے جبکہ دیگر زندہ پکڑے گئے کمانڈوز کو قتل کردیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ صوبہ گوہر سے چار ہیلی کاپٹرز کے ذریعے تقریباً 40 کمانڈوز کو صوبہ بادغیس میں آپریشن کے لیے اتارا گیا لیکن جیسے ہی انہیں اتارا گیا تو طالبان نے حملہ کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بعد ازاں 11 کمانڈوز کو بچالیا گیا‘۔

طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 30 افغان کمانڈوز کو ہلاک کیا گیا۔

خیال رہے کہ امریکا اور طالبان کے مابین گزشتہ چند ماہ سے مراحلہ وار مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔

مزید پڑھیں: طالبان اور امریکا کے مابین مذاکرات کے نئے دور کا آغاز

دونوں فریقین کے مابین افغانستان میں 18 سال سے جاری جنگ ختم کرنے کے لیے دو اہم نکات زیر بحث رہے جس میں افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا سمیت طالبان اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ افغانستان کی سرزمین کو دہشت گردوں کی آماجگاہ نہیں بننے دیں گے جو عالمی حملے کرسکے۔

29 جنوری کو افغان امن عمل کے لیے امریکا کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے کہا تھا ہے کہ امریکا اور طالبان حکام افغانستان سے دہشت گردوں کو باہر نکالنے، تمام امریکی فوجیوں کے انخلا، جنگ بندی اور کابل-طالبان مذاکرات جیسے تمام اہم معاملات پر راضی ہوگئے ہیں۔

خیال رہے کہ مائیک پومپیو نے 26 جون کو افغانستان کے غیر اعلانیہ دورے میں صدر اشرف غنی سے ملاقات میں طالبان سے جاری امن مذاکرات اور ستمبر میں افغان صدارتی انتخاب سے قبل سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: طالبان کو افغان حکومت کے ساتھ 'سنجیدہ مذاکرات' کرنے چاہئیں، اشرف غنی

مائیک پومپیو نے افغانستان میں 7 گھنٹے گزارے اور ان کا یہ مختصر دورہ امریکی حکام اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کے ساتویں مرحلے کے آغاز سے قبل سامنے آیا۔