مریم نواز سے چوہدری شوگر ملز کے مالیاتی امور کی تفصیلات طلب

اپ ڈیٹ 01 اگست 2019

ای میل

نیب کی تحقیقات میں شریف خاندان کے ساتھ مریم نواز کی چوہدری شوگر ملز میں شراکت داری کا انکشاف سامنے آیا تھا—فائل فوٹو: ڈان نیوز ٹی وی
نیب کی تحقیقات میں شریف خاندان کے ساتھ مریم نواز کی چوہدری شوگر ملز میں شراکت داری کا انکشاف سامنے آیا تھا—فائل فوٹو: ڈان نیوز ٹی وی

لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز مبینہ منی لانڈرنگ اور آمدنی سے زائد اثاثوں کی تحقیقات کے حوالے سے جاری قومی احتساب بیورو (نیب) کی تفتیش کے سلسلے میں حکام کے سامنے پیش ہوئیں۔

انہوں نے چوہدری شوگر ملز کی مشتبہ ٹرانزیکشنز کے سلسلے میں 45 منٹ تک نیب ٹیم کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ نیب ٹیم نے چوہدری شوگر ملز کے بڑے شیئر ہولڈر ہونے کی حیثیت سے ان کے اکاؤنٹ سے ترسیلات زر اور ٹرانزیکشن کے حوالے سے پوچھ گچھ کی۔

یہ بھی پڑھیں: نیب کا مریم نواز کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں، منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا آغاز

مریم نواز نے ٹیم کو بتایا کہ اس سلسلے کی تمام تر تفصیلات پاناما پیپر کیس کی تحقیقات کرنے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹ میں دستیاب ہیں۔

ذرائع نے انکشاف کیا کہ مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت کے دوران جنوری 2018 میں مالی امور کی نگرانی کرنے والے شعبے نے منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت چوہدری شوگر ملز کی بھاری مشتبہ ٹرانزیکش کے حوالے سے نیب کو آگاہ کیا تھا۔

بعدازاں اکتوبر 2018 میں نیب کی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ نواز شریف، مریم نواز، شہباز شریف اور ان کے بھائی عباس شریف کے اہلِ خانہ، ان کے علاوہ امریکا اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے کچھ غیر ملکی اس کمپنی میں شراکت دار ہیں۔

مزید پڑھیں: ایون فیلڈ ریفرنس میں جعلی 'ٹرسٹ ڈیڈ' جمع کرانے پر مریم نواز 19 جولائی کو طلب

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ چوہدری شوگر ملز میں سال 2001 سے 2017 کے درمیان غیر ملکیوں کے نام پر اربوں روپے کی بھاری سرمایہ کاری کی گئی اور انہیں لاکھوں روپے کے حصص دیے گئے۔

جس کے بعد وہی حصص متعدد مرتبہ مریم نواز، حسین نواز اور نواز شریف کو بغیر کسی ادائیگی کے واپس کیے گئے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ کمپنی میں بھاری سرمایہ کاری کے لیے غیر ملکیوں کا نام اس لیے بطور پراکسی استعمال کیا گیا کیوں کہ شریف خاندان کی جانب سے سرمایہ کاری کے لیے استعمال کی جانے والی رقم قانونی نہیں تھی۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ یوسف عباس اور مریم نواز نے تحقیقات میں شمولیت اختیار کی لیکن سرمایہ کاری کرنے والے غیر ملکیوں کو پہچاننے اور رقم کے ذرائع بتانے سے قاصر رہے اور مریم نواز نوٹس میں بھجوائے سوالوں کے علاوہ کسی سوال کا جواب نہیں دے سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: احتساب عدالت نے مریم نواز کے خلاف نیب کی درخواست خارج کردی

خیال رہے کہ نیب نے مریم نواز کو 8 اگست کو دوبارہ طلب کرتے ہوئے ان سے چوہدری شوگر ملز میں شراکت داری کی تفصیلات، غیر ملکیوں اماراتی شہری سعید سید بن جبر السویدی، برطانوی شہری شیخ ذکاؤ الدین، سعودی شہری ہانی احمد جمجون اور اماراتی شہری نصیر عبداللہ لوتا سے متعلق مالیاتی امور کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

اس کے ساتھ مریم نواز سے بیرونِ ملک سے انہیں موصول اور بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر/ٹیلیگرافگ ٹرانسفر کی تفصیلات بھی طلب کی گئیں ہیں۔