پی ٹی آئی حکومت کا پہلا سال، ٹیکس ریٹرن فائلرز کی تعداد میں 3 گنا اضافہ

اپ ڈیٹ 06 ستمبر 2019

ای میل

حکومت نے بھی ٹیکس ریٹنز جمع کروانے کی حتمی مدت میں ریکارڈ 8 مرتبہ اضافہ کر کے عوام کو آسانی فراہم کی — شٹر اسٹاک
حکومت نے بھی ٹیکس ریٹنز جمع کروانے کی حتمی مدت میں ریکارڈ 8 مرتبہ اضافہ کر کے عوام کو آسانی فراہم کی — شٹر اسٹاک

اسلام آباد: وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ تحریک انصاف کے ایک سالہ دورِ حکومت میں ٹیکس بیس میں واضح طور پر اضافہ ہوا جبکہ اس دوران ٹیکس ریٹرنز فائلرز کی تعداد بھی 3 گنا بڑھ گئی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سمیت متعدد اسکیمز کے نتیجے میں ٹیکس ڈپارٹمنٹ کو ٹیکس دہندگان کی 7 لاکھ 83 ہزار 39 نئی فائلز موصول ہوئیں۔

اس کے علاوہ حکومت نے بھی ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کی حتمی مدت میں ریکارڈ 8 مرتبہ اضافہ کرکے عوام کو آسانی فراہم کی۔

چنانچہ اگر ریونیو کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایف بی آر کو نئے ٹیکس ریٹرنز فائلرز سے 2 ارب 58 کروڑ 30 لاکھ روپے کی رقم حاصل ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی حکومت کا پہلا سال، مہنگائی کی شرح 11.63 تک پہنچ گئی

اس ضمن میں موازنے کی غرض سے وزیراعظم کو مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے آخری سال کے اعداد و شمار دکھائے گئے، جس کے مطابق ٹیکس دہندگان کی مجموعی تعداد میں صرف ایک لاکھ 90 ہزار 391 کا اضافہ ہوا تھا۔

اسی طرح ان ریٹرنز سے حاصل ہونے والا ریونیو بھی کم تھا اور ٹیکس سال 2017 میں محض 71 کروڑ 70 لاکھ روپے حاصل ہوئے۔

تاہم پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں سال 2018 میں ٹیکس ریٹرن فائلرز کی تعداد 25 لاکھ 61 ہزار تک پہنچ گئی جو گزشتہ برس 15 لاکھ 14 ہزار تھی، یعنی اس میں 69.1 فیصد اضافہ ہوا۔

علاوہ ازیں ایف بی آر کی پریزینٹیشن میں حکام نے اہداف میں کمی کیے جانے کے باوجود ریونیو کے سنگین شارٹ فال کا ذکر نہیں کیا جو ایک سال کے دوران 580 ارب روپے تک جا پہنچا۔

مزید پڑھیں: کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 73 فیصد کمی آئی ہے، مشیر خزانہ

بریفنگ میں 3 اہم معاملات کا احاطہ کیا گیا جس میں ٹیکس بیس کی وسعت، جولائی تا اگست میں ریونیو اکٹھا کرنے کی کارکردگی اور ٹیکس دہندگان کو فراہم کی جانے والی سہولیات شامل تھیں۔

چیئرمین شبر زیدی نے وزیراعظم عمران خان کو بتایا کہ رواں برس جولائی اور اگست کے درمیان 579 ارب روپے کا ریونیو اکٹھا کیا گیا جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے دوران ریونیو کلیکشن 505 ارب روپے تھی جس کا مطلب ریونیو میں 14.65 فیصد اضافہ ہوا۔