افغانستان: صدارتی انتخاب کے نتائج ایک بار پھر ملتوی

اپ ڈیٹ 13 نومبر 2019

ای میل

نتائج کے اعلان کی نئی تاریخ نہیں بتائی گئی — فائل فوٹو / رائٹرز
نتائج کے اعلان کی نئی تاریخ نہیں بتائی گئی — فائل فوٹو / رائٹرز

افغانستان میں صدارتی انتخاب کے ابتدائی نتائج دوسری بار ملتوی کر دیے گئے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق افغانستان کے آزاد الیکشن کمیشن (آئی ای سی) کے حکام نے مختلف تکنیکی مسائل کے حوالے دیتے ہوئے کہا کہ انتخاب کے ابتدائی نتائج کا اعلان 19 اکتوبر کو کیا جانا تھا، جنہیں بعد ازاں 14 نومبر تک موخر کردیا گیا تھا۔

تاہم اب اس تاریخ کو بھی آگے بڑھا دیا گیا ہے۔

افغان الیکشن کمیشن کے ترجمان عبدالعزیز ابراہیمی نے بتایا کہ 'بدقسمتی سے تکنیکی مسائل اور دیگر معاملات کی وجہ سے ہم کل انتخابی نتائج کا اعلان نہیں کر پائیں گے۔'

تاہم انہوں نے مزید تفصیلات یا نتائج کے اعلان کی نئی تاریخ نہیں بتائی۔

مزید پڑھیں: افغان صدارتی انتخاب کے دوران 85 شہری جاں بحق ہوئے، اقوام متحدہ

الیکشن کمیشن حکام کی جانب سے جمعرات کو معاملے کو لے کر پریس کانفرنس کیے جانے کا بھی امکان ہے۔

انتخاب کے ابتدائی نتائج ایک بار پھر ملتوی کیے جانے کا حالیہ اعلان الیکشن کمیشن کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں اس کا کہنا تھا کہ اسے چند امیدواروں کی جانب سے فراڈ کا دعویٰ کرتے ہوئے نتائج کے بائیکاٹ اور احتجاج کے اعلان کے بعد ووٹوں کی دوبارہ گنتی اور آڈٹ روکنا پڑا تھا۔

افغان الیکشن کمیشن نے 8 ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشنز پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا عمل ہفتے سے شروع کیا تھا، تاہم اس عمل کو عبداللہ عبداللہ کے حامیوں نے چیلنج کیا تھا۔

اشرف غنی کی اتحادی حکومت میں ملک کے چیف ایگزیکٹو کا عہدہ رکھنے والے عبداللہ عبداللہ پہلے ہی تقریباً 3 لاکھ اضافی ووٹوں کے درست ہونے سے متعل سوالات اٹھا چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ ووٹ پولنگ میں استعمال ہونے والی بائیومیٹرک ڈیوائسز کے ذریعے نہیں ڈالے گئے، لہٰذا انہیں مسترد کیا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان: صدارتی انتخاب کے نتائج تاخیر کا شکار

الیکشن کمیشن حکام نے کہا کہ گزشتہ چند روز میں عبداللہ عبداللہ کے حامی ملک کے 34 صوبوں میں سے 14 میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا عمل رکوا چکے ہیں۔

واضح رہے کہ 28 ستمبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں صدر اشرف غنی اور ان کے حریف عبداللہ عبداللہ کے درمیان کاٹنے کا مقابلہ ہے۔

تاہم نتائج کے ایک بار پھر ملتوی ہونے کے بعد سیاسی غیر یقینی کی صورتحال مزید بگڑنے اور انتخاب پر مزید الزامات کا امکان ہے۔