کورونا وائرس: طبی سامان کی درآمد کیلئے فوریکس کے قوانین میں نرمی

اپ ڈیٹ 26 مارچ 2020

ای میل

اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ضروری طبی سامان کی بروقت دستیابی ضرورت ہے—فوٹو: اے پی پی
اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ضروری طبی سامان کی بروقت دستیابی ضرورت ہے—فوٹو: اے پی پی

اسٹیٹ بینک نے کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر طبی سامان بشمول آلات و ادویات کی درآمدات کے لیے فارن ایکسچینج ریگولیشنز کے قوائد میں نرمی کردی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک کے اعلامیے کے مطابق مرکزی بینک نے کورونا وائرس کے علاج کے لیے طبی آلات، ادویات اور اس سے متعلقہ دیگر اشیا کی درآمد پر کسی حد تک بغیر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تمام محکموں، سرکاری، نجی شعبے کے ہسپتالوں، فلاحی اداروں سمیت کمرشل درآمدکنند گان کو امپورٹ ایڈوانس پیمنٹ اور امپورٹ آن اوپن اکاؤنٹ کی اجازت دی تھی۔

علاوہ ازیں بینکوں کو بین الاقوامی ڈونر ایجنسیوں اور غیر ملکی حکومتوں کے ذریعہ عطیات کیے گئے سامان کی درآمد کے لیے الیکٹرانک امپورٹ فارم (ای ایف ایف) کی منظوری کی اجازت دے دی۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: لاک ڈاؤن کی وجہ سے آئل، گیس کی ترسیل ’ضروری خدمات‘ قرار

واضح رہے کہ مرکزی بینک کا یہ اقدام ملک میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر اٹھایا گیا۔

اسٹیٹ بینک نے کہا کہ وائرس سے نمٹنے کے لیے موثر حکمت عملی کے لیے ضروری سامان کی بروقت دستیابی ضرورت ہے۔

مرکزی بینک نے کہا کہ اس مہلک وائرس کے انتہائی تیزی سے پھیلاؤ کے پیش نظر اسٹیٹ بینک نے یہ اقدامات کیے ہیں تاکہ ضروری آلات کی درآمد بہترین انداز میں ہوسکے۔

علاوہ ازیں کہا گیا کہ ’اسٹیٹ بینک نے ایڈوانس پیمنٹ اور اوپن اکاؤنٹ کے تحت اشیا کی درآمد سے متعلق اپنی فارن ایکسچینج ریگولیشنز میں بھی ترامیم کی ہیں‘۔

واضح رہے کہ حکومت نے گزشتہ روز ٹریژری بلوں کی نیلامی کے ذریعے 552 ارب روپے قرض حاصل کیا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں مزید 150 بیسز پوائنٹس کم کرکے اسے 11 فیصد پر لانے کا فیصلہ کیا تھا۔

مزید پڑھیں: حکومت کی قرض دہندہ، امدادی اداروں سے 4 ارب ڈالر حاصل کرنے کی کوششیں

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں مرکزی بینک نے کہا تھا کہ 'مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں یہ بات سامنے آئی کہ کورونا وائرس کی وبا کے باعث انتہائی غیر یقینی کی صورتحال پائی جاتی ہے کہ یہ کس طرح پاکستان اور عالمی معیشت کو متاثر کرے گا'۔

علاوہ ازیں اسٹیٹ بینک نے ملک میں مہنگائی کے دباؤ میں کمی کا حوالہ دیتے ہوئے شرح سود 75 بیسز پوائنٹس کمی کے ساتھ ساڑھے 12 فیصد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اسٹیٹ بینک نے معاشی اور کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والے صحت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے اقدامات کا بھی اعلان کیا تھا۔

مرکزی بینک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ‘زری پالیسی کمیٹی نے اجلاس میں پالیسی ریٹ 75 بیسز پوائنٹس کم کرکے 12.50 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو اشیائے ضروریات کی قیمتوں میں حالیہ سست روی، قیمتوں کی توقعات میں کمی، عالمی سطح پر تیل کی قیمت میں کمی اور کورونا وائرس کے باعث بیرونی اور ملکی طلب میں سست رفتار سے مہنگائی میں کمی کا عکاس ہے’۔

یہ بھی پڑھیں: معاشی پیکج: پیٹرولیم مصنوعات اگلے 3 ماہ میں مزید سستی ہوں گی، مشیر خزانہ

بیان میں کہا گیا تھا کہ ‘مہنگائی کے حوالے سے توقع ہے کہ اسٹیٹ بینک کی 11 تا 12 فیصد کی پیش گوئی کے اندر رہے گی اور وسط مدتی ہدف میں 5 سے 7 فیصد کی حد میں آجائے گی’۔