پی ایس ایل-5 کے فاتح کا فیصلہ، طریقہ کار پر فرنچائزوں میں اختلاف

اپ ڈیٹ 30 مارچ 2020

ای میل

پاکستان سپر لیگ کے پانچویں ایڈیشن کے پوائنٹس ٹیبل پر ملتان سلطانز سرفہرست ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی
پاکستان سپر لیگ کے پانچویں ایڈیشن کے پوائنٹس ٹیبل پر ملتان سلطانز سرفہرست ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی

کورونا وائرس کے سبب قبل از وقت ختم کیے گئے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے پانچویں ایڈیشن کے پلے آف میچز کے مستقبل پر سوالیہ نشان برقرار ہے اور لیگ کے فاتح کے حوالے سے فرنچائزوں میں اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔

کورونا وائرس کے عالمی سطح پر تیزی سے پھیلاؤ کے سبب پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے لیگ کو چار دن قبل ختم کرنے کا فیصلہ کیا لیکن بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر سیمی فائنل اور فائنل کے انعقاد سے قبل ہی لیگ کو ختم کردیا گیا۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: پی ایس ایل سیمی فائنلز اور فائنل غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی

فائنل میچز منعقد نہ ہونے سے لیگ کے فاتح کے حوالے سے سوالیہ نشان لگ چکا ہے کیونکہ موجودہ صورتحال میں آئندہ چند ماہ کھیلوں کے مقابلے منعقد ہونا مشکل نظر آتا ہے۔

وائرس کے سبب بنگلہ دیش کے دورہ پاکستان کے ساتھ ساتھ نیشنل ون ڈے کپ کو بھی غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے۔

لیگ کے فاتح کا فیصلہ نہ ہونے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے نئی مشکل کھڑی ہو گئی ہے جہاں فاتح کا فیصلہ کرنے کے سلسلے میں طریقہ کار کے حوالے سے فرنچائز مالکان میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 'غیر ملکی کھلاڑی میں کورونا وائرس کی علامات کے بعد پی ایس ایل مؤخر کی'

کرک انفو کے مطابق پاکستان سپر لیگ کے قوانین کے تحت اگر کسی وجہ سے ٹورنامنٹ مکمل نہ ہو سکے تو راؤنڈ میچز میں پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست ٹیم کو فاتح قرار دیا جائے گا۔

لیگ کے راؤنڈ میچز میں ملتان سلطانز کی ٹیم 14پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست تھی جبکہ کراچی کنگز کا دوسرا، لاہور قلندرز کا تیسرا اور پشاور زلمی کا چوتھا نمبر تھا۔

اگر اس وبا پر قابو پا لیا جاتا ہے تو پاکستان کرکٹ بورڈ کوئی مناسب وقت دیکھ کر لیگ کے بقیہ تین میچوں کا انعقاد کر سکتا ہے اور صورتحال بہتر ہونے کی صورت میں نومبر میں یہ میچز منعقد ہو سکتے ہیں لیکن اس انعقاد سے قبل کھلاڑیوں اور فرنچائز سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کا اتفاق بورڈ کے لیے بڑا چیلنج ہو گا۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: ایلکس ہیلز نے اپنے حوالے سے زیر گردش خبروں کو غلط قرار دیدیا

ملتان سلطانز کا ماننا ہے کہ انہیں فاتح قرار دیا جانا چاہیے لیکن بقیہ تین فرنچائز میچز کے انعقاد پر مصر ہیں۔

ملتان سلطانز کے باؤلنگ کوچ مشتاق احمد کا ماننا ہے کہ لیگ کے 10 میچوں میں 14پوائنٹس حاصل کرنے والی ان کی فرنچائز کو فاتح قرار دیا جانا چاہیے۔

انہوں نے پریس ٹرسٹ آف انڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ایس ایل کے پانچویں ایڈیشن کا مناسب اختتام ہونا چاہیے اور پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست ٹیم کو فاتح قرار دے کر ایسا کیا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا نہیں ہوتا اور پی سی بی اگر بقیہ چار میچز کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ کرتا ہے تو اس سے اگلے ایڈیشن کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

ملتان سلطانز کے مالک عالمگیر ترین نے پی سی بی کو پی ایس ایل کے پانچویں ایڈیشن کے بقیہ میچز کو دوبارہ منعقد نہ کرانے اور موجودہ صورتحال کے مطابق فاتح کے اعلان کا مشورہ دیا۔

یہ بھی پڑھیں: 'جب خدا نے اتنے حلال جانور بنائے ہیں تو چمگادڑ کیوں کھاتے ہیں'

ان کا کہنا تھا کہ ابھی ہماری پی ایس ایل مینجمنٹ سے اس بارے میں کوئی گفتگو نہیں ہوئی کہ آیا وہ ایونٹ کے بقیہ میچز کا دوبارہ انعقاد کریں گے یا نہیں اور اگر کریں گے تو کب کریں گے۔

عالمگیر ترین نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر میچز کے انعقاد کے لیے کوئی مناسب وقت میسر آ بھی جاتا ہے تو بھی یہ بات یقینی نہیں کہ کون سے کھلاڑی میچز میں شرکت پر آمادہ ہوں گے۔

تاہم ملتان سلطانز کے برعکس پلے آف میں جگہ بنانے والی دیگر تینوں فرنچائزوں نے بقیہ میچز کے انعقاد پر زور دیا۔

پہلی مرتبہ پی ایس ایل کے پلے آف میں جگہ بنانے والی ٹیم لاہور قلندرز کے مالکان میں سے ایک سمین رانا نے کہا کہ سب سے بہتر حل یہی ہے کہ جب بھی موقع میسر ہو تو پہلی فرصت میں ایونٹ کے میچز کا انعقاد کیا جائے۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس کے سبب شیفلڈ شیلڈ منسوخ، نیو ساؤتھ ویلز چیمپیئن قرار

ان کا کہنا تھا کہ پوائنٹس ٹیبل پر موجود سرفہرست ٹیم کو فاتح قرار دینے سے ایونٹ کا مزہ کرکرا ہو جائے گا، اگر ایسا ہی ہے تو پھر ہم کرکٹ کھیل ہی کیوں رہے ہیں، ہر میچ کے فاتح کا فیصلہ ٹاس پر ہی کر لیتے ہیں۔

پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی بھی لاہور قلندرز کے موقف سے متفق نظر آئے اور انہوں نے کہا کہ ہمیں یقیناً فاتح کا فیصلہ کرنا چاہیے، ہمارے غیر ملکی کھلاڑی دوبارہ کھیلنے کیلئے آنے پر تیار ہیں۔

کراچی کنگز کے مالک سلمان اقبال نے بھی پوائنٹس ٹیبل پر موجود سرفہرست ٹیم کو لیگ کا فاتح قرار دینے کے موقف کی مخالفت کی اور کہا کہ جیسے ہی وقت میسر ہو تو پہلی فرصت میں ایونٹ کے میچز کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔