سرحد پار سے سیکیورٹی فورسز کی چوکیوں پر حملے، ایف سی اہلکار شہید، دو زخمی

اپ ڈیٹ 06 اگست 2020

ای میل

دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان سے دہشت گردوں نے بنشاہی سیکٹر میں پاکستانی چوکیوں پر مارٹر گولوں اور بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔ فائل فوٹو:ے ایف پی
دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان سے دہشت گردوں نے بنشاہی سیکٹر میں پاکستانی چوکیوں پر مارٹر گولوں اور بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔ فائل فوٹو:ے ایف پی

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ سرحد پار سے دہشت گردوں اور افغان بارڈر پولیس کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کی چوکیوں پر حملوں کے مختلف واقعات میں فرنٹیئر کورپس کا ایک جوان شہید اور دو زخمی ہوگئے۔

5 اگست کو جاری ہونے والی پریس ریلیز میں کہا گیا کہ 'افغانستان سے کام کرنے والے دہشت گردوں' نے بدھ کی سہ پہر بنشاہی سیکٹر میں پاکستانی چوکیوں پر مارٹر اور بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔

ان کا کہنا تھا کہ شام کے وقت افغان بارڈر پولیس کی چوکیوں سے پاکستان کی سیکیورٹی فورسز پر بھی فائرنگ کی گئی۔

مزید پڑھیں: پاک افغان سرحد: فائرنگ کے نتیجے میں 3 شہری جاں بحق

دفتر خارجہ نے افغان فورسز کی 'بلا اشتعال جارحانہ کارروائی' کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ اسی دن ہوا جب افغان فوج سے درخواست کی گئی کہ وہ 'سرحد پار سے فائرنگ کے معاملات پر تبادلہ خیال' کے لیے بنشاہی میں اجلاس منعقد کریں۔

بیان میں پڑوسی ملک کی 'دہشت گردوں کو فراہم کی جانے والی واضح حمایت' کی بھی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ اس طرح کے اقدامات ممالک کے درمیان تعاون کے طریقہ کار کے لیے 'نقصان دہ' ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ 'پاکستان سرحد پار دہشت گردوں کے منظم حملوں کا بھرپور جواب دینے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے'۔

دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے کہا کہ ملک سرحد پار سے کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

یہ واقعہ چمن میں فرینڈشپ گیٹ بارڈر کراسنگ کے مقام پر مشتعل ہجوم اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والے تصادم کے ایک ہفتہ بعد سامنے آیا۔

اس واقعے میں سرحد کے دونوں اطراف ہلاکتیں ہوئی تھیں اور اس احتجاج کے لیے دونوں ممالک نے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پاک-افغان سرحد کے قریب فائرنگ کے 2 واقعات، پاک فوج کے 4 جوان شہید

دفتر خارجہ نے شہری آبادی پر فائرنگ کے افغانستان کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فوج نے افغان فورسز کی فائرنگ کا جواب دیا تھا، 'پاکستانی فورس نے پہلے فائرنگ نہیں کی اور صرف اپنے دفاع میں جواب دیا'۔

دریں اثنا وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے بتایا کہ بعض لوگوں نے زبردستی چمن کی سرحد عبور کرنے کی کوشش کی تھی اور اسی دوران افغان سرحد سے فائرنگ کی گئی۔

یہ واقعہ کورونا وائرس کی وجہ سے پیدل چلنے والوں کی راہداری پر پابندی کے خلاف احتجاج کے بعد چمن بارڈر کراسنگ پر فرنٹیئر کور کے دفاتر اور ایک سنگرودانی مرکز پر اچانک ہجوم نے حملہ کرنے کے بعد کیا، اس جھڑپ میں چار افراد ہلاک اور کم از کم 20 زخمی ہوگئے تھے۔

افغان حکام نے دعوی کیا تھا کہ گولہ باری سے اسپن بولدک میں سرحد کے اطراف میں 15 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔