وہ باہمت شخص جو سمندر میں گم ہوکر 438 دن گزار کر زندہ بچ گیا

14 مارچ 2021
— رائٹرز فوٹو
— رائٹرز فوٹو

تصور کریں آپ ایک چھوٹی سی کشتی میں سمندر میں ہوں اور راستہ بھٹک کر مہینوں کے لیے وہاں پھنس جائیں، تو پھر؟

درحقیقت ان حالات میں زندگی کا امکان بہت کم ہوگا اور ہر گزرتے دن کے ساتھ موت یقینی ہوتی جائے گی۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ دنیا میں ایک شخص ایسا بھی ہے جو وسیع و عریض سمندر میں ایک، 2 یا 4 ماہ نہیں بلکہ پورے 13 ماہ تک اپنی چھوٹی سی کشتی میں بھٹکتا رہا اور بچنے میں کامیاب رہا؟

مزید پڑھیں : 6 دہائیوں سے معمہ بنی ہوئی تصویر جس کا راز اب تک معلوم نہیں ہوسکا

جی ہاں یہ ایک حقیقی واقعہ ہے اور اس کا سامنا ایک ماہی گیر جوز سلواڈور ایلویرانگا کو ہوا جو 438 دن تک سمندر میں بھٹکتا رہا۔

17 نومبر 2012 کو جوز سلواڈور اپنے ایک نوجوان ساتھی ازیکیوئل کورڈوبا کے ساتھ مچھلیوں کے شکار کے لیے جنوبی میکسیکو کے ایک گاؤں سے بحر الکاہل سے روانہ ہوا۔

یہ دونوں ماہی گیر سمندر میں 3 گھنٹے تک شکار کرنے کا منصوبہ بناکر روانہ ہوئے تھے، مگر سفر کے آغاز پر چند گھنٹوں بعد ہی طوفان کا سامنا ہوا جو 7 دن تک ان کی کشتی کو دھکیلتا رہا اور وہ اپنے راستے سے بھٹک گئے۔

رائٹرز فوٹو
رائٹرز فوٹو

25 فٹ طویل اس کشتی میں بادبان یا موٹر نہیں تھی تو مشکلات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

جوز سلواڈور کی عمر اس وقت 35 سال تھی جبکہ اس کا ناتجربہ کار ساتھی 22 سال کا تھا، دونوں کو طوفان کا علم پہلے سے تھا مگر وہ اس سے بھی سخت موسم کا سامنا کرچکے تھے۔

یہ بھی پڑھیں : 18 سال تک ایئرپورٹ پر پھنسا رہنے والا مسافر

جوز کے مطابق 'طوفان مسئلہ نہیں تھا درحقیقت مشکل یہ تھی کہ انجن نے جواب دے دیا تھا'۔

سمندری لہریں بہت زیادہ پبھری ہوئی تھیں اور ایک موقع پر ازیکیوئل کورڈوبا پانی میں گرگیا تھا اور جوز نے اس کی جان سر کے بال کھینچ کر بچائی۔

انجن کے ساتھ ساتھ ان ماہی گیروں کو ریڈیو اور مچھلی پکڑنے کے آلات سے محرومی کا بھی سامنا ہوا، کشتی پر کوئی کور نہیں تھا، بس ایک آئس باکس، ایک مچھلی رکھنے والا بڑا صندوق اور ایک بالٹی ان کے پاس تھی۔

جب طوفان تھم گیا تو جوز کو معلوم تھا کہ وہ میکسیکو سے بہت دور جاچکے ہیں، وہ اپنے سروں پر طیاروں کو پرواز کرتے دیکھ رہے تھے مگر مدد کا سگنل دینے کا کوئی سامان موجود نہیں تھا، جس کی وجہ سے سمندر میں پھنسی یہ کشتی 'نادیدہ' ہوگئی۔

یہ بھی جانیں : اس 'آسیب زدہ' ٹرین کے بارے میں کبھی آپ نے سنا ہے؟

جوز نے بتایا 'شروع میں تو ہم نے بھوک کے بارے میں سوچا نہیں تھا، بلکہ پیاس نے ہمیں پریشان کیا ہوا تھا، طوفان کے بعد ہم اپنا پیشاب پینے پر مجبور ہوگئے، ایک ماہ بعد جاکر ہمیں کچھ بارش کا پانی میسر آیا'۔

بغیر کانٹے کے مچھلی کا شکار

اے ایف پی فوٹو
اے ایف پی فوٹو

جوز سلواڈور بچپن سے مچھلی کا شکار کرتا آرہا تھا اور اس صلاحیت نے اسے اور اس کے ساتھی کو زندہ رکھا۔

یہ اسرار بھی پڑھیں : وہ پراسرار بیماری جس نے لاکھوں افراد کو 'زندہ بت' بنادیا تھا

اپنے آبائی ملک ایل سلواڈور میں جوز نے سیکھا تھا کہ مچھلی کو بغیر کانٹے کے صرف ہاتھوں سے کیسے پکڑا جاسکتا ہے اور بحرالکاہل کی گہرائیوں میں مچھلی اس کے پاتھوں سے پھسل جاتی تھی اور انگلیوں میں پھنسانا پڑتا تھا۔

مگر کچھ مچھلیوں کو پکڑنا کافی نہیں تھا، ان کے جسم پانی اور پروٹین کی کمی کا شکار ہورہے تھے بلکہ جوز کو احساس ہوتا تھا کہ حلق سکڑ کر منہ کے قریب پہنچ گیا ہے۔

سورج کی شدید تمازت ان کے جسموں کو جلا دیتی تھی اور آئس باکس کے نیچے چھپ کر کچھ بچت ہوتی تھی۔

یہ دلچسپ داستان بھی جانیں : وہ مجرم جو حقیقی معنوں میں ہوا میں غائب ہوکر اب تک معمہ بنا ہوا ہے

سمندری پرندے ان کی کشتی کے ارگرد جمع ہونے لگے اور وہ اس کو سمندر میں آرام کی ایک غیرمتوقع جگہ تصور کرنے لگے۔

جب جوز نے پہلی بار ایک پرندے کو پکڑا تو ازیکیوئل کورڈوبا خوف کے عالم میں یہ سب دیکھ رہا تھا کیونکہ کسی زندہ مرغی کی طرح جوز نے اس کے ٹکڑے کردیئے تھے، ان پرندوں کے خون سے ان کو زندگی بچانے کا قیمتی سیال بھی ملا۔

جوز کے مطابق ہم ان کے گلے کاٹ کر خون پی لیتے، جس سے حالت بہتر محسوس ہونے لگی، شدید بھوک کے باعث وہ ان کمزور پرندوں کا معدے کو چھوڑ کر ہر حصہ کھالیتے۔

درحقیقت سمندر میں موجود ہر چیز انہیں خوراک کا ذریعہ محسوس ہونے لگی، سمندری کچھوے، چھوٹی شارک مچھلیاں اور سمندری کائی وغیرہ۔

مگر زیادہ تر ان کو خوراک سے محروم رہنے پڑتا جیسے 3 دن میں ایک مچھلی یا 2 پرندے ان کے ہاتھ لگتے۔

مزید پڑھیں : وہ خاتون جو ہر 24 گھنٹے بعد 26 سال پہلے کے 'عہد' میں پہنچ جاتی ہے

جوز نے بتایا 'میں نے اس طرح کے مراحل سے گزرنے والے میکسیکن افراد سے سنا تھا، انہوں کے کیسے خود کو بچایا؟ میں نے خود سے کہا کہ مجھے بزدل نہیں بننا، میں بہت زیادہ دعائیں کرتا تھا اور میں نے خدا سے صبر کی درخواست کی'۔

مگر اس کے ساتھی کا صبر ختم ہوچکا تھا اور وہ بہت زیادہ روتا، اپنی ماں اور پسندیدہ غذا کو یاد کرتا۔

جوز کے مطابق 'میں جس حد تک ہوسکتا تھا اس کی مدد کرتا ہے، میں اسے دلاسہ دیتا، میں اسے بتایا کہ جلد ہمیں بچالیا جائے گا، ہم جلد کسی جزیرے تک پہنچ جائیں گے، مگر کئی بار اس کا رویہ پرتشدد ہوجاتا اور چیخ کر کہتا کہ ہم مرنے والے ہیں'۔

جس دن ازیکیوئل کورڈوبا ہلاک ہوا، بارش ہورہی تھی، دونوں ماہی گیر آئس باکس کے اندر موجود تھے اور دعا کررہے تھے، اس موقع پر ازیکیوئل نے جوز کو کہا کہ وہ اس کی ماں سے مل کر اسے بتائے کہ اس کا بیٹا اب خدا کے پاس ہے۔

ایک اور دلچسپ داستان پڑھیں : 8 چہروں والا وہ شخص جس نے لاکھوں ذہن گھما کر رکھ دیئے

جوز نے بتایا 'ہم نے الوداع کہا، وہ تکلیف میں نہیں تھا بلکہ بہت پرسکون تھا'۔

ساتھی کی موت کے بعد جوز پر حسد کا غلبہ ہوگیا اور اس نے اپنے دوست کی لاش سمندر کی نذر کرنے کے بعد کئی روز تک خودکشی کا سوچا مگر اسے ڈر تھا کہ ایسا کرنے پر اسے جہنم میں جانا پڑے گا۔

ہمت نہیں ہاری

رائٹرز فوٹو
رائٹرز فوٹو

جوز اپنے ساتھی سے 10 سال سے زیادہ عمر کا تھا اور اس کا ماننا تھا کہ وہ بچ جائے گا، جس کی وجہ کھلے سمندر کا اس کا تجربہ تھا مگر وہ خدا پر یقین اور امید کو اہم ترین وجہ مانتا ہے۔

رونگٹے کھڑے کردینے والی کہانی : اپنا ہاتھ کاٹ کر خود کو بچانے والے شخص کی رونگٹے کھڑے کردینے والی داستان

جوز نے خوراک کی تلاش پر توجہ مرکوز کی اور سمندر میں تباہ کن ایام کے دوران بھی خدا سے دعاؤں کا سلسلہ جاری رکھا۔

اسے یاد ہے کہ متعدد مال بردار بحری جہاز اس کے پاس سے گزرے، مگر اسے علم نہیں تھا کہ یہ جہاز اصلی تھے یا اس کا خیال 'میں نے ان کو سگنل دیا مگر کچھ بھی نہیں ہوا، مجھے لگتا کہ خدا نے فیصلہ کرلیا ہے کہ کونسی کشتی مجھے بچائے گی'۔

آخرکار ایک کشتی نے نہیں بلکہ سرزمین نے جوز کی زندگی کو بچایا۔

سمندر میں 438 دن گرنے کے بعد اسے پہاڑیاں نظر آئیں اور اسے لگا کہ وہ بہت قریب ہیں، جس کے بعد اس نے پانی میں چھلانگ لگائی اور اس طرف تیرنے لگا، جس کے بارے میں بعد میں علم ہوا کہ وہ مارشل آئی لینڈز کا حصہ تھیں۔

یہ بھی پڑھیں : جیل توڑ کر فرار ہونے والے قیدیوں کا وہ واقعہ جو اب بھی ذہن گھما دیتا ہے

جوز نے بتایا 'میں پہلے زمین تک پہنچا اور میری کشتی بعد میں، میں لہروں کو محسوس کررہا تھا، میں ریت کو محسوس کررہا تھا اور میں نے ساحل کو محسوس کیا، میں اتنا خوش تھا کہ ریت پر گر کر بے ہوش ہوگیا، مجھے فکر نہیں تھی کہ میں وہاں مرسکتا ہوں، میں جانتا تھا کہ اب مجھے اپنی مرضی کے خلاف مزید مچھلی نہیں کھانی پڑے گی'۔

جوز نے ساحل کے قریب موجود بستی کے لوگوں سے رابطہ کیا، جہاں وہ 29 جنوری 214 کو پہنچا تھا۔

اس بستی میں کوئی بھی اسپینش زبان نہیں جانتا تھا تو ہاتھوں کے اشاروں سے ایک دوسرے سے بات کی، جوز کو پانی دیا گیا جس کو پی کر طبیعت خراب ہوگئی۔

ایسا ہونے پر رہائشیوں نے میئر کے دفتر سے رابطہ کیا اور اسے ایک بڑی شپنگ بوٹ پر بٹھا کر مارشل آئی لینڈز کے سب سے بڑے ہسپتال تک پہنچایا۔

پھٹے پرانے کپڑوں اور بکھرے بالوں کے ساتھ جوز کشتی سے باہر نکلا تو اس کا سامنا کیمروں اور صحافیوںن سے ہوا۔

جووز نے خود کو ایسا قیدی قرار دیا جو رضاکارانہ طور پر ایک سال سے زیادہ عرصے تک قید میں رہا اور اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیسے رویے کا مظاہرہ کرے 'میں بہت خوفزدہ تھا، مجھے لوگوں سے ڈر لگ رہا تھا، اتنے عرصے تک تنہا رہنے کے بعد مجھے بات کرنے کے لیے الفاظ سمجھ نہیں آرہے تھے'۔

شکوک و شبہات

رائٹرز فوٹو
رائٹرز فوٹو

اس حیران کن سفر کی داستان اور جوز کی تصاویر دنیا بھر میں پھیل گئی تھیں اور جب اسے واپس ایل سلواڈور کے لیے طیارے پر روانہ کیا گیا تو صحافی اس کے قریب بیٹھے اس کی تصاویر کھینچنے کی کوشش کررہے تھے۔

جوز کو پروا نہیں تھی کہ صحافیوں کو اس کی کہانی پر یقین ہے یا نہیں، تاہم سائنسدانوں نے بعد میں کہا کہ جوز کا 6 ہزار میل طویل سفر ممکن ہے۔

بعد ازاں جوز نے ایک صحافی جوناتھن فرینکلن کے تعاون سے ایک کتاب 438 ڈیز کو شائع کروایا۔

مزید پڑھیں : قریب المرگ افراد کو کن احساسات کا تجربہ ہوتا ہے؟

اپنے ساتھی کا وعدہ پورا کرتے ہوئے اس نے میکسیکو میں اس کی ماں سے ملاقات کی اور پھر ایل سلواڈور میں منتقل ہوگیا۔

اب وہ سمندر میں داخل ہونے کی ہمت بھی نہیں کرتا اور مچھلیاں نہیں پکڑتا۔

جوز نے بتایا 'میں خوفدہ ہوں، اب بھی ایسی راتیں گزرتی ہیں جب میں سو نہیں پاتا، سمندر مجھے ڈرا دیتا ہے'۔

تبصرے (0) بند ہیں