طالبعلم کے ساتھ مبینہ بدفعلی: مفتی عزیز الرحمٰن دو بیٹوں سمیت گرفتار

مبینہ بدفعلی کا گرفتار ملزم—تصویر: ٹوئٹر
مبینہ بدفعلی کا گرفتار ملزم—تصویر: ٹوئٹر

پنجاب پولیس نے مدرسے کے طالب سے مبینہ بدفعلی کی وائرل ویڈیو کا مقدمہ درج ہونے کے بعد جامعہ منظور الاسلامیہ کے برطرف عہدیدار مفتی عزیز الرحمٰن اور ان کے دو بیٹوں کو گرفتار کرلیا۔

سی آئی اے ماڈل ٹاؤن کے ڈی ایس پی حسنین حیدر کی سربراہی میں ٹیم نے میانوالی میں چھاپا مار کر مفتی عزیز الرحمٰن کو گرفتار کیا۔

پولیس ملزم کو لاہور منتقل کرنے کے بعد ایک سے 2 روز میں عدالت میں پیش کردے گی۔

میانوالی سے مرکزی ملزم کو گرفتار کرنے کے بعد پولیس نے مفتی عزیز الرحمٰن کے ایک بیٹے عتیق الرحمٰن کو کاہنہ کے ایک مدرسے جبکہ دوسرے بیٹے کو لکی مروت سے گرفتار کیا۔

یہ بھی پڑھیں:طالبعلم کے ساتھ مبینہ بدفعلی: مفتی عزیز الرحمٰن کے خلاف مقدمہ درج

کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ مفتی عزیزالرحمٰن کے دو بیٹوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، جو مدرسے میں اپنے شاگردوں سے بدفعلی میں ملوث تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملزمان الطاف الرحمٰن اور عتیق الرحمٰن متاثرین کو ان کے والد مفتی عزیزالرحمٰن کے خلاف مقدمے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیوں میں بھی ملوث ہیں۔

ملزمان کو مقدمہ درج کرنے کے بعد گرفتار کرلیا گیا۔

علاوہ ازیں پولیس کی جانب سے دیگر ملزمان لطیف الرحمٰن اور عبداللہ کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے جارے رہے ہیں۔

دوسری جانب انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس انعام غنی نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ 'ہم مجرم کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں'۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس اس معاملے کو ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر دیکھے گی، ملزم سے تفتیش کرے گی، سائنسی اور پروفیشنل تحقیقات کر کے مقدمہ چلایا جائے گا اور ملزم کو عدالت سے سزا دلوائی جائے گی۔

آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ 'ہم چاہتے ہیں ہمارے بچے ان استحصال کرنے والوں سے اور مستقبل کے لیے ہمارا معاشرہ محفوظ رہے'۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں مفتی عزیز الرحمٰن کو ایک لڑکے سے مبینہ بدفعلی کرتے دیکھا گیا تھا۔

بعدازاں طالبعلم کی شکایت پر مفتی عزیز الرحمٰن کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 377 (غیر فطری جرائم) اور دفعہ 506 (مجرمانہ دھمکی دینے کی سزا) کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا تھا۔

17 جون کو درج پہلی انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کے مطابق متاثرہ طالب علم نے بتایا کہ اسے جامعہ منظور الاسلامیہ میں 2013 میں داخلہ ملا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ امتحانات کے دوران مفتی عزیز الرحمٰن نے ان پر اور ان کے دوست طالب علم پر امتحان کے دوران کسی اور کو امتحان دلانے کا الزام لگایا تھا اور ساتھ ہی مجھ پر وفاق مدارس میں 3 سال تک امتحانات دینے پر پابندی عائد کردی گئی۔

مزید پڑھیں: ریپ کیسز کے تیز ٹرائل کیلئے خصوصی عدالتوں کے قیام کا منصوبہ تاخیر کا شکار

شکایت کنندہ نے مزید کہا تھا کہ انہوں نے مفتی عزیز الرحمٰن سے معاف کردینے کی التجا کی لیکن مفتی عزیز الرحمٰن نے کہا کہ اگر جنسی حرکتوں سے انہیں 'خوش' کردوں تو کچھ سوچ سکتے ہیں۔

شکایت کنندہ نے مزید کہا تھا کہ ان کے پاس جنسی زیادتی کا نشانہ بننے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا، مفتی عزیز الرحمٰن نے دعویٰ کیا تھا کہ ان پر پابندی ختم ہوجائے گی اور امتحانات میں بھی پاس ہو جاؤ گے۔

شکایت کنندہ کے مطابق 'تین سال گزر گئے اور اس عرصے میں ہر جمعے کو بدفعلی کرتے لیکن مجھ پر پابندی ختم ہوئی نہ امتحانات میں پاس ہوا بلکہ مزید بلیک میل کرنا شروع کردیا مدرسے کی انتظامیہ کو شکایت کی تو انہوں نے ماننے سے انکار کردیا کہ مفتی عزیز الرحمٰن 'بزرگ اور نیک سیرت شخص' ہیں بلکہ انتظامیہ نے الٹا مجھے ہی جھوٹا قرار دے دیا۔

شکایت کنندہ نے بتایا تھا کہ اس کے بعد مفتی عزیز الرحمٰن کی بدفعلی کی ریکارڈنگ پیش کی اور وفاق المدارس العربیہ کے ناظم کو دکھائی جس کے بعد مفتی عزیز الرحمٰن نے مجھے جان سے مار دینے کی دھمکیاں دیں۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر وائرل مفتی عزیز الرحمٰن نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ انہیں اس معاملے میں گھسیٹا جارہا ہے اگر وہ 'ہوش میں' تھا تو لڑکا موبائل فون کا استعمال کرتے ہوئے انہیں بتائے بغیر کیسے ویڈیو بنا سکتا تھا۔

مفتی عزیز الرحمٰن نے کہا تھا کہ یہ ایک سازش ہے تاکہ انہیں مدرسے سے ہٹایا جائے۔

تبصرے (0) بند ہیں