سال 2018 میں اعلیٰ عدلیہ کے مقبول ترین ریمارکس

ملکی مسائل اور اہم معاملات سے متعلق مقدمات میں معزز چیف جسٹس کے ریمارکس جو ہر خاص و عام میں موضوع بحث بنے رہے۔

اپ ڈیٹ دسمبر 25 2018 02:12pm

2018 میں جہاں ملکی حالات میں بڑے نشیب و فراز دیکھنے کو ملے وہیں ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے معزز چیف جسٹس کی جانب سے اہم ترین ریمارکس بھی سامنے آئے، یہ ریمارکس ہر خاص و عام میں بہت مقبول ہوئے ۔

بہت سے مقدمات میں عدلیہ نے نہ صرف وفاقی حکومت، صوبائی اور شہری حکومتوں اور ان کے عہدیداران و انتظامی امور دیکھنے والی بیوروکریسی کی سرزنش کی بلکہ سیکیورٹی ادارے بھی اس کی زد میں آئے۔

یہ اہم ریمارکس جن مقدمات میں دیئے گئے، ان میں ڈیم کیس، پاناما کیس، بحریہ ٹاؤن، تھر میں بچوں کی ہلاکت، صاف پانی اور دیگر شامل ہیں۔

اعلیٰ عدلیہ کے ایسے ہی کچھ ریمارکس اس رپورٹ میں اپنے قارئین کے لیے جمع کیے گئے ہیں، جو اپنی نوعیت کے اہم اور معروف تصور کیے گئے۔

'کسی بدمعاش کو پاکستان میں نہیں رہنے دوں گا'

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں 30 ستمبر 2018 کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے قبضہ گروپ منشا بم کی گرفتاری اور قبضے سے متعلق محمود اشرف نامی شہری کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) والوں نے بدمعاشی کے ڈیرے بنا رکھے ہیں، کسی بدمعاش کو پاکستان میں نہیں رہنے دوں گا۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں بیرون ملک مقیم پاکستانی محمود اشرف نے ایک درخواست دائر کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ لاہور کے معروف علاقے جوہر ٹاؤن میں 9 پلاٹس پر منشا بم نے قبضہ کر رکھا ہے اور وہ قبضہ گروپ چلا رہے ہیں۔

'آپ کو بھی سرعام 4 تھپڑ مارے جائیں گے'

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں یکم ستمبر کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور ایم پی اے عمران علی شاہ تشدد سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی، جس میں چیف جسٹس نے عمران علی شاہ کی سرزنش کرتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ شہری کو تھپڑ مارنا ناقابل معافی جرم ہے، آپ کو بھی سر عام اسی طرح 4 تھپڑ مارے جائیں گے۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار— فائل فوٹو
چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار— فائل فوٹو

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عمران شاہ آپ آگے آئیں، آپ سے بات کروں گا، آپ نے کیا سوچ کر شہری کو تھپڑ مارا؟ کوئی جانور کو بھی اس طرح نہیں مارتا، تھپڑ کیوں مارا، یہ ناقابل معافی جرم ہے، ایسے نہیں چھوڑیں گے۔

خیال رہے کہ 14 اگست کی شب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں عمران علی شاہ کو ایک شہری داؤد چوہان پر تھپڑوں کی بارش کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، رکنِ صوبائی اسمبلی کے ہمراہ ان کے گارڈز بھی موجود تھے جنہوں نے شہری کو دھمکیاں بھی دی تھیں۔

بعد ازاں ویڈیو پر عوامی ردعمل کے باعث تحریک انصاف سندھ کے صدر فردوس شمیم نقوی نے مذکورہ معاملے پر ڈسپلنری کمیٹی کا فیصلہ آنے تک عمران علی شاہ کی بنیادی رکنیت معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

'ہمارے پاس قانون سازی کا اختیار نہیں'

سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں 10 اپریل کو سماعت کے بعد ضلع کچہری کا دورہ کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا تھا کہ بنیادی حقوق کا حل ہماری اولین ترجیح ہے لیکن ہمارے پاس قانون سازی کا اختیار نہیں لیکن ہمیں مل کر حالات بدلنے کی کوشش کرنی ہے، جن کے پاس یہ اختیار ہے ان کے پاس شاید وقت نہیں کہ وہ قانون سازی کریں۔

’حکم پر عملدرآمد نہ ہوا تو فوجی حکام کو طلب کریں گے‘

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے 15 اگست 2018 کو اصغر خان کیس کی سماعت کے دوران وزارتِ دفاع سے کابینہ کے فیصلے پر عملدرآمد کرکے ایک ماہ کے اندر رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ اگر عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ ہوا تو وزارتِ دفاع کے بجائے فوجی حکام کو عدالت میں طلب کیا جائے گا، قانون سے کوئی بالاتر نہیں تاہم عدالتی حکم پر عملدرآمد ہونا چاہیے۔

’پرویز مشرف واپس آکر دکھائیں کہ وہ کتنے بہادر ہیں‘

12 جون 2018 کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے اصغر خان عملدرآمد کیس کی سماعت ریمارکس دیئے تھے کہ پرویز مشرف کے پاکستان آنے میں جو رکاوٹ تھی وہ ختم کردی، اب یہ ان کی بہادری پر ہے کہ وہ آتے ہیں یا نہیں، پرویز مشرف آئیں اور دکھائیں کہ وہ کتنے بہادر ہیں۔

سماعت کے دوران سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی، میر حاصل بزنجو، عابدہ حسین، غلام مصطفیٰ کھر اور ڈائریکٹر جنرل ( ڈی جی ) ایف آئی اے بشیر میمن و دیگر عدالت میں پیش ہوئے تھے، جہاں دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے تھے کہ اصغر خان عملدرآمد کیس میں مزید تاخیر برداشت نہیں کریں گے، ایک منٹ ضائع کیے بغیر تفتیش مکمل کی جائے۔

'گواہوں کے بعد اب ہمیں ہراساں کیا جارہا ہے'

13 اگست 2018 کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے جعلی اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کہ پہلے گواہوں کو ہراساں کیا جارہا تھا جبکہ اب ہمیں براہ راست ہراساں کیا جارہا ہے۔



ہمارے پاس قانون سازی
کا اختیار نہیں،

چیف جسٹس

دوران سماعت ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) بشیر میمن، انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ امجد جاوید سلیمی، سابق آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے وکیل فاروق ایچ نائیک، اومنی گروپ کے وکیل اور دیگر پیش ہوئے تھے۔

اس دوران گواہان نے عدالت کو بتایا تھا کہ ہم واپس بینکوں میں اپنی نوکریوں پر آگئے ہیں اور اس معاملے میں ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے مکمل تعاون اور مدد کی، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ لوگ سچ بتانے کے بجائے ہمارے پیچھے پڑ گئے ہیں، ہم تو یہاں انصاف کرنے بیٹھے ہیں، ہماری حفاظت اللہ تعالیٰ اور عوام کریں گے، جو ہمارے خلاف بات کرتے ہیں ان کو اپنا خیال نہیں کہ کل وہ خود مجرم ہوسکتے ہیں۔

چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ اب وہ گواہوں کو کال کرکے پریشان نہیں کرتے بلکہ ہمیں کال کرتے ہیں، اب آپ کو ہراساں کرنے کے بجائے، ہمیں ہراساں کیا جارہا ہے، بڑے بڑے وکلا اب اس کیس میں ہمارے سامنے پیش ہوتے ہیں۔

’بچوں کو ڈگری کے نام پر کاغذ ہاتھ میں نہیں پکڑانا‘

اسی روز سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں نجی یونیورسٹیوں سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی جس میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ چند پیسوں کے لیے تعلیمی نظام کا بیڑا غرق کردیا گیا لیکن اب ہم تعلیم پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں اور ادھر کسی کو مال بنانے نہیں دیا جائے گا۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر مجاہد کامران کو مخاطب کرتے ہوئے استفسار کیا تھا کہ مجاہد کامران آپ کس چکر میں پڑ گئے؟ یہ وقت آپ کے پے بیک کا ہے، آپ کو اس عمر میں کتابیں لکھنی چاہیں اور مفت لیکچر دینے چاہیں۔

اس پر مجاہد کامران نے جواب دیا کہ میں تو ملازمت کر رہا ہوں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ چند پیسوں کے لیے تعلیمی نظام کا بیڑہ غرق کردیا، آپ کے کالجز اور ایگزیکٹ میں کیا فرق رہ گیا۔

’پاکستان کو 5 لاکھ عطائی نہیں ڈاکٹر درکار‘

11 جنوری 2018 کو اسلام آباد سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے وجود اور سنٹرل ایڈمیشن پالیسی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس میں پی ایم ڈی سی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے واضح کیا تھا کہ ہم طبی شعبوں میں 4 ممالک سے ٹیکنالوجی اور معیار سے پیچھے مگر تعداد میں برابر ہیں جبکہ طبی مراکز میں 5 لاکھ ڈاکٹرز کی ضرورت ہے۔

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں رجسٹر طبی معالجین کی تعداد ایک لاکھ 64 ہزار اور اسپیشلسٹ ڈاکٹر کی تعداد 47 ہزار سے زائد جبکہ 25 ہزار اسپیشلسٹ ڈاکٹر بیرون ملک ملازمت کر رہے ہیں، جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پاکستان کو پانچ لاکھ عطائی نہیں بلکہ ڈاکٹرز درکار ہیں جو اتنی قابلیت رکھتے ہوں کہ آپریشن کرسکیں۔

'عدالتیں والدین کی طرح ان کا فریضہ انجام دیتی ہیں'

8 جنوری 2018 کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس نے طیبہ تشدد کیس کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی، جس میں ملزم جج راجہ خرم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہائیکورٹ نے طیبہ اور جج کے درمیان راضی نامہ مسترد کردیا تھا اور اب تک 6 گواہان کے بیانات قلمبند ہوچکے ہیں۔

گھریلو ملازمہ طیبہ اور ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم کے درمیان راضی نامہ کے معاملے پر سپریم کورٹ نے طیبہ بی بی تشدد کیس ٹرائل میں تاخیر کا نوٹس لیا تھا، چیف جسٹس نے استفسار کیا تھا کہ ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم او ایس ڈی ہیں یا معطل ہیں، جس پر ان کا کہنا تھا کہ میرے موکل ضمانت پر ہیں۔

چیف جسٹس نے راجہ خرم کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ضمانتیں کیسے ہوتی ہیں، ہمیں سب پتہ ہے، جب والدین ناکام ہوجائیں اور پیسے لے لیں، تو پھر عدالتیں والدین کا کردار ادا کرتے ہوئے ان کا فریضہ انجام دیتی ہیں۔

'نیب کو لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے کا کوئی حق نہیں'

20 اگست 2018 کو سپریم کورٹ لاہو رجسٹری چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں لارجر بینچ نے پنجاب کی 56 کمپنیوں سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو (نیب) کے سربراہ جسٹس (ر) جاوید اقبال کو پراسیکیوٹر جنرل اصغر حیدر کے ہمراہ 27 اگست کو اپنے چیمبر میں طلب کیا تھا۔



ماں ہی قربانی کیوں دیتی ہے
باپ کیوں نہیں؟

چیف جسٹس

سماعت کے دوران نیب میں پیش ہونے والے افراد کی میڈیا پر آنے والی خبروں کا معاملہ زیرِ بحث آیا تھا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نیب کو لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے کا کوئی حق نہیں ہے، کیا نیب یہ چاہتا ہے کہ بیرونِ ملک سے آنے والا سرمایہ کار خوف سے ہی بھاگ جائے۔

سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ نیب میں بھی کالی بھیڑیں موجود ہیں، ملزمان کو نوٹس بعد میں ملتا ہے لیکن اس حوالے سے ٹیلی ویژن چینلز پر خبریں پہلے ہی نشر ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔

چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ اگر کسی تفتیشی افسر یا نیب کے اہلکار کے بارے میں یہ معلوم ہوجائے کہ اس نے میڈیا میں خبر جاری کی ہے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔

’طاقت، پیسہ آجائے تو لوگ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں‘

16 ستمبر 2018 کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے نجی ہسپتالوں میں مہنگے داموں علاج کے خلاف ازخود نوٹس کی سماعت کی، دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ جن کے پاس طاقت اور پیسہ آجاتا ہے وہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔

چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے تھے کہ ڈاکٹر لوگوں کی خدمت نہیں کرسکتے تو ہسپتال بند کردیں، اس پر ڈاکٹر غضنفر علی شاہ نے کہا کہ آپ کی مرضی ہے بند کردیں۔

’ہسپتالوں میں ادویات نہیں، افسر عیاشی کر رہے ہیں‘

28 جولائی 2018 کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پنجاب پبلک سیکٹر کمپنیز سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی تھی، جس میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے ادویات نہیں جبکہ افسران عیاشیاں کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل پنجاب کی نگراں حکومت نے پبلک سیکٹر کمپنیز اور تمام دیگر سرکاری اداروں میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کو مارکیٹ کی بنیاد پر دی جانے والی تنخواہیں معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

'پاکستان آج مثبت انداز میں ٹیک آف کررہا ہے'

28 اکتوبر 2018 کو لاہور میں حضرت داتا گنج بخش کے عرس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر تے ہوئے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا تھا کہ ایسے بزرگوں کی لاہور اور ملک پر رحمتیں ہیں اور ان کا ہمارے لیے ایک ہی پیغام تھا کی دین پر عمل کریں۔

انہوں نے ملک کو پہلی مرتبہ ٹیک آف کی جانب گامزن قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کو کئی چیزوں میں اصلاح کی شدت سے ضرورت ہے۔

'عطاءالحق قاسمی کا بطور چیئرمین پی ٹی وی تقرر بدنیتی کا مظہر'

4 جولائی 2018 کو سپریم کورٹ میں چیئرمین پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کی تقرری پر لیے گئے از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے تھے کہ ’حکومت نے پی ٹی وی کے چیئرمین کے عہدے پر عطاءالحق قاسمی کی تقرری میں بدنیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قوائد و ضوابط کو نظر انداز کیا‘۔

'سندھ حکومت کے ادارے چاہتے ہیں کہ لوگ مرتے رہیں'

26 جون 2018 کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں منچھر جھیل آلودگی سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی جانب سے ریمارکس دیے گئے تھے کہ سندھ میں لکیر کے فقیر کی طرح کام چل رہا ہے جبکہ صوبائی حکومت کے ادارے چاہتے ہیں کہ لوگ مرتے رہیں۔

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

اس موقع پر جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے تھے کہ کھربوں روپے خرچ کرکے بھی سندھ کے لوگوں کو زہر پلارہے ہیں، سندھ حکومت کے ادارے چاہتے ہیں لوگ اسی طرح مرتے رہیں، اگر حساب مانگ لیں تو ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہوا ہوگا، 20 سال سے منصوبے چل رہے ہیں مگر صاف پانی کا قطرہ نہیں مل سکا، نتائج نہ ملے تو ذمہ داران کو جیل بھیجیں گے۔

عدلیہ کو بہتر بنانے میں ناکامی کا اعتراف

29 جون 2018 کو چیف جسٹس نے سپریم کورٹ میں 4 رکنی بینچ کی سربراہی میں ایک درخواست کی سماعت کے دوران اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ بحیثیت سربراہ وہ اپنے ادارے کو بہتر طور پر چلانے میں ناکام ہوئے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ’میں کھلے عام اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ میں اپنے ادارے کو بہتر نہیں بنا سکا‘،

مذکورہ درخواست، ماتحت عدالت میں مقدمات، درخواستوں اور اپیلوں کی سنوائی کے حوالے سے وقت مقرر کرنے اور اس ضمن میں نئے اصول و ضوابط قائم کرنے کے لیے دائر کی گئی تھی۔

’کام نہ کرنے والے ججوں کے خلاف بھی کارروائی ہوگی‘

12 اکتوبر 2018 کو سپریم کورٹ میں ہائی کورٹس کی ذیلی عدالتوں کے حوالے سے سپروائزری کردار سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے تھے کہ کم کیسز کے فیصلے کرنے والے ججز کے خلاف بھی آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی ہوگی۔

چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیئے تھے کہ سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) اب بہت فعال ہے، احتساب کا عمل شروع ہوچکا ہے اور سب ججز کا احتساب ہوگا، لوگ چیخ چیخ کر مررہے ہیں، انصاف نہیں مل رہا۔

’آسیہ بی بی کا فیصلہ دینے والے ججز کسی سے کم عاشق رسولﷺ نہیں‘

یکم نومبر 2018 کو سپریم کورٹ میں نئے انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد کی تعیناتی سے متعلق وفاقی حکومت کی درخواست پر سماعت کے دوران آسیہ بی بی سے متعلق فیصلے پر بھی چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ جس بینچ نے آسیہ بی بی کا فیصلہ دیا وہ کسی سے کم عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں، لوگوں کو ہمارا فیصلہ پڑھنا چاہیے تھا۔

آسیہ بی بی — فائل فوٹو
آسیہ بی بی — فائل فوٹو

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے تھے کہ ہم نے اپنے فیصلے کا آغاز کلمے سے کیا، ہم کسی سے کم عاشق رسول ﷺ نہیں اور نبی پاک ﷺ کی حرمت پر جان بھی قربان کرسکتے ہیں، ہم صرف مسلمانوں کے قاضی نہیں ہیں، اگر کسی پر کیس میں ثبوت نہیں تو ہم کیسے سزا دیں، ہم نے فیصلہ اردو میں اس لیے دیا تاکہ لوگ اسے پڑھ سکیں اور لوگوں کو ہمارے فیصلے کو پڑھنا چاہیے تھا۔

عدالت نے مزید ریمارکس دیئے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان کے بغیر دین مکمل نہیں ہوتا، کیا اب ہر شخص کو اپنے ایمان کا ثبوت دینا پڑے گا، جس بینچ نے آسیہ بی بی کا فیصلہ دیا وہ کسی سے کم عاشق رسول ﷺ نہیں، ہمارے بینچ میں ایسے ججز بھی ہیں جو ہر وقت درود پاک پڑھتے رہتے ہیں، عدالت اپنے فیصلے کو بدل نہیں سکتی۔

خیال رہے کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے توہین مذہب کیس میں مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی سزائے موت کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں بری کرنے کا حکم دیا تھا۔

بعد ازاں عدالت کی جانب سے 57 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ اردو میں جاری کیا گیا تھا، جو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے خود تحریر کیا تھا۔

’پاناما جے آئی ٹی میں خفیہ ایجنسیوں کے نمائندوں کو چوہدری نثار، نواز شریف نے شامل کروایا‘

15 اگست 2018 کو سپریم کورٹ میں جعلی اکاؤنٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے تھے کہ پاناما پیپرز کیس کی تفتیش کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) میں انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے اہلکاروں کو چوہدری نثار اور نواز شریف نے شامل کروایا تھا۔



ہماری اگلی مہم آبادی پر
قابو پانا ہے،

چیف جسٹس

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی میں خفیہ اداروں کے نمائندوں کو انہوں نے شامل نہیں کیا تھا۔

واضح رہے کہ جعلی اکاؤنٹس کیس کی گزشتہ سماعت پر چیف جسٹس کے پوچھنے پر ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے جے آئی ٹی میں شامل تمام ارکان کے نام بتائے تھے، ان ناموں میں بریگیڈیئر ریٹائرڈ نعمان کا نام لینے پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ کون ہے؟ جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ ان کا تعلق ایم آئی سے ہے، چیف جسٹس نے کہا تھا کہ جے آئی ٹی میں ایجنسیوں کے لوگوں کو صرف تڑکا لگانے کے لیے رکھا ہوگا۔


بحریہ ٹاؤن کیس


بحریہ ٹاؤن — فائل فوٹو
بحریہ ٹاؤن — فائل فوٹو

'ناجائز قبضہ کرکے خیرات کے کام نہیں ہوتے'

26 جون 2018 کو اسلام آباد سپریم کورٹ میں چیف جسٹس سرہراہی میں عدالتی فیصلے کے خلاف بحریہ ٹاؤن کی نظرثانی کی درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کراچی کی جانب سے زمین خریدنے والوں سے رقم وصول کرنے کو عدالتی احکامات کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے رقم وصول کرنے سے روک دیا، ساتھ ہی حکم دیا کہ خریدار اپنی رقم سپریم کورٹ کے حکم پر کھولے گئے اکاؤنٹ میں جمع کرائیں۔

اس کے ساتھ ساتھ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بحریہ ٹاؤن کے سربراہ ملک ریاض کو 2 ہفتوں میں 5 ارب روپے اور ذاتی جائیداد کے کاغذات بطور ضمانت جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ناجائز قبضہ کرکے خیرات کے کام نہں ہوتے، بحریہ ٹاون کوئی نیا منصوبہ شروع نہیں کرے گا۔

'بحریہ ٹاؤن کوئی نیا منصوبہ شروع نہ کرے، تمام کام بند کرا دوں گا'

اسی کیس میں بعد ازاں عدالتی فیصلے کے کچھ دیر بعد بحریہ ٹاؤن کے سربراہ ملک ریاض عدالت میں پیش ہوئے، اس موقع پر ملک ریاض نے عدالت کو بتایا کہ جس دن سپریم کورٹ نے بلایا میں حاضر ہوا ہوں، کراچی میں بحریہ ٹاؤن منصوبہ اس لیے بنایا تاکہ پاکستان تیسری دنیا سے پہلی دنیا میں آجائے۔

ملک ریاض نے کہا کہ سپریم کورٹ جو حکم دے عمل کریں گے لیکن عدالت عظمیٰ ایسا فیصلہ نہ دے جس سے ملازمین متاثر ہوں، دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بحریہ ٹاؤن کوئی نیا منصوبہ شروع نہ کرے، تمام کام بند کرا دوں گا۔

'جن کے کھاتے کھل رہے ہیں وہ ہی لوگ از خود نوٹس کے اختیار سے نالاں ہیں'

4 اکتوبر 2018 کو سپریم کورٹ میں بحریہ ٹاؤن کیس کے خلاف نظر ثانی درخواستوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے تھے کہ جن کی زمینوں اور دوسرے معاملات کے کھاتے کھل رہے ہیں وہ ہی لوگ از خود نوٹس کے اختیار سے نالاں ہیں۔



ناجائز قبضہ کرکے خیرات
کے کام نہیں ہوتے،

چیف جسٹس

بحریہ ٹاؤن کیس کے خلاف نظر ثانی درخواستوں کی سماعت کے دوران دلچسپ صورت حال اس وقت سامنے آئی جب چیف جسٹس اور سینئر وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن کے درمیان از خود نوٹس کے حوالے سے مکالمہ ہوا۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ بحریہ ٹاؤن کیس کے خلاف دائر نظر ثانی درخواستوں کی سماعت کررہا تھا، اس دوران اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ عدالت کے 184 (3) کے اختیار سے بہت سے لوگ نالاں ہیں، انہوں نے چیف جسٹس سے کہا تھا کہ پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس لینے کے اختیار سے متعلق آئین کی شق میں ترمیم لانا چاہتی تھی لیکن ایسا نہیں کیا جاسکا۔

اعتزاز احسن نے چیف جسٹس سے استدعا کی تھی کہ عدالت خود آئین کی شق 184 (3) کے تحت اپنے رولز میں ترامیم کرے، وکیل نے دلیل دی تھی کہ از خود نوٹس کیس کے فیصلے پر نظرثانی کی بجائے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق ہونا چاہیے۔

’بحریہ ٹاؤن کو دھوکے سے زمین دی گئی، چاندی دے کر سونا لیا گیا‘

4 اکتوبر 2018 کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے بحریہ ٹاؤن کی نظرثانی کیس کی سماعت کی، دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیئے تھے کہ بحریہ ٹاؤن کراچی کو زمین دھوکے بازی سے دی گئی اور چاندی دے کر سونا لے لیا گیا۔

دوران سماعت وکیل بحریہ ٹاؤن علی ظفر نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن کے پاس ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) کی 18 ہزار کینال زمین ہے، بحریہ ٹاؤن 5 ارب دینے کو تیار ہے اور مزید اقدامات بھی کرے گا۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ بحریہ ٹاؤن کے جہاز میں پھر رہے ہیں اور آپ نے جہاز کو ٹیکسی بنایا ہوا ہے، اس پر علی ظفر نے کہا کہ آپ ہرجانہ طے کردیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم عملدرآمد بینچ ہیں، اس سے ایک پیسہ کم نہیں ہوگا، اگر نہیں دے سکتے تو میرٹ پر بحث کریں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ پر جرمانہ کردیتے ہیں، ہزار ارب دے دیں، جس پر ملک ریاض نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن میں کل سرمایہ کاری 437 ارب روپے کی ہے، ہزار ارب کیسے ادا کروں۔


ڈیمز


زیر تعمیر ڈیم — فائل فوٹو
زیر تعمیر ڈیم — فائل فوٹو

'میں نے تو نیسلے کا پانی پینا ہی چھوڑ دیا'

6 اکتوبر 2018 کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے پینے کے پانی کی مہنگے داموں فروخت کے خلاف از خود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کہ 'میں نے تو نیسلے کا پانی پینا ہی چھوڑ دیا ہے، لوگوں کو پتہ چلنا چاہیے کہ نیسلے کا پانی ٹھیک نہیں'۔

دوران سماعت نیسلے منرل واٹر کمپنی کا فرانزک آڈٹ کروانے کا معاملہ زیر غور آیا، جس میں عدالت نے آڈیٹر جنرل پنجاب کو فوری طلب کیا اور ساتھ ہی نیسلے کمپنی کی چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کو بھی پیش ہونے کا حکم دیا۔

'قوم کی خدمت مقصد نہ ہوتی تو آج اعتزاز احسن کا منشی ہوتا'

15 ستمبر 2018 کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے منرل واٹر کمپنیوں سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران تنبیہ کرتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کہ جس نے اب ڈیم کو روکنے کی کوشش کی اس کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی ہوگی۔

سماعت کے دوران وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ یہ کمپنیاں حکومت کو 25 پیسے فی لیٹر ادا کر کے 50 روپے فی لیٹر پانی فروخت کر رہی ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ دیکھنا ہوگا کہ منرل واٹر میں منرلز ہیں بھی یا نہیں جبکہ پانی بیچنے والی کمپنیاں حکومت کے ساتھ بیٹھ کر پانی نکالنے کا ریٹ طے کر لیں۔

انہوں نے ریمارکس دیئے تھے کہ غریب آدمی آج بھی چھپڑ کا پانی پینے پر مجبور ہے، میں گھر میں خود نلکے کا پانی ابال کر پیتا ہوں کیونکہ میری قوم یہ پانی پی رہی ہے۔

انھوں نے مزید ریمارکس دیئے تھے کہ میں ایک بات بتا دوں ماسوائے قوم کی خدمت میرا کوئی مقصد نہیں، یہ ملک نہ ہوتا تو شاید میں آج اعتزاز احسن کا منشی ہوتا۔

'ڈیمز تعمیر کرنا ججز کا کام نہیں'

31 جولائی 2018 کو چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے ڈیمز کی تعمیر کے لیے فنڈز اکٹھے کر نے سے متعلق مقدمے کی سماعت کی تھی، جس میں ڈیمز کی تعمیر کے لیے جمع ہونے والے فنڈز کی شفافیت پر اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ صرف نگراں کا کردار ادا کرسکتی ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے تھے کہ ملک میں پانی کے ذخائر تعمیر کرنا عدلیہ کا کام نہیں، یہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس نے دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کے لیے عطیات پر مبنی فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا تھا جس میں سب سے پہلے خود انہوں نے 10 لاکھ روپے جمع کروائے تھے، اب تک اس فنڈ میں کروڑوں روپے جمع کروائے جاچکے ہیں۔

’ڈیم بنانے کے لیے اب سپریم کورٹ کردار ادا کرے گی‘

9 جون 2018 کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس ی سربراہی میں لارجر بینچ نے کالا باغ ڈیم سے متعلق کیس کی سماعت کی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ ہم نے پانی کی قلت کے خاتمے کا تہیہ کر لیا ہے، اب سپریم کورٹ ڈیمز بنانے سے متعلق آگے بڑھے گی اور کردار ادا کرے گی۔

آبی قلت کا معاملہ: 'ہم رہیں نہ رہیں ڈیم ضرور بنے گا'

27 جون 2018 کو سپریم کورٹ میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی تھی، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے تھے کہ ہم رہیں نہ رہیں لیکن ڈیم ضرور بنے گا، ساتھ ہی انہوں نے نئے ڈیم کا نام ’ پاکستان ڈیم‘ قرار دیا تھا۔

'ڈیموں کی تعمیر کیلئے پیسہ دینے والوں کے ہاتھ چومنے چاہئیں'

9 جولائی 2018 کو چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ اسلام آباد میں ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس میں سپریم کورٹ نے وزرات خزانہ کی جانب سے ملک میں ڈیم کی تعمیر کے لیے کھولے جانے والے بینک اکاؤنٹ کا نوٹس لیا تھا۔

چیف جسٹس ڈیم کے لیے عطیہ کی گئی رقم دکھاتے ہوئے — فوئل فوٹو
چیف جسٹس ڈیم کے لیے عطیہ کی گئی رقم دکھاتے ہوئے — فوئل فوٹو

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ اسٹیٹ بینک نے اکاؤنٹ کھولنے میں 3 دن لگا دیے، اسٹیٹ بینک ہمیں ایک جگہ سے دوسری جگہ گھماتا رہا جبکہ ’لوگ ڈیم کے لیے پیسے لے کر گھوم رہے ہیں، ڈیم کے لیے پیسے دینے والوں کے ہاتھ چومنے چاہئیں‘۔

’ڈیمز کی تعمیر کیلئے جمع ہونے والے فنڈز کسی کو کھانے نہیں دیں گے‘

6 جولائی 2018 کو چیف جسٹس نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ڈیمز کی تعمیر کے حوالے سے فنڈ اکٹھا کرنے کے معاملے پر ریمارکس دیے تھے کہ ڈیمز کے لیے جمع ہونے والے فنڈز کو کسی کو کھانے نہیں دیں گے اور اس پر پہرا دیا جائے گا، اپنے ریمارکس میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہونے دیں گے کہ کمیشن کے لوگ ان فنڈز سے گاڑی اور گھر خرید لیں۔

'ڈیم فنڈنگ پر بھکاری ہونے کا الزام شرمناک ہے'

11 ستمبر 2018 کو چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے پاکستان کڈنی اور لیور سینٹرز سے متعلق کیس کی سماعت کی تھی جس میں انہوں نے ریمارکس دیئے تھے کہ ڈیم فنڈ ریزنگ پر بھکاری ہونے کا الزام لگایا جا رہا ہے مخالفین کو کچھ نہیں ملا تو ڈیم کی تعمیر پر مخالفت شروع کردی۔

'ریٹائرمنٹ کے بعد ڈیم پر خود پہرہ دوں گا'

8 ستمبر 2018 کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں صحافیوں سے اپنے چیمبر میں غیر رسمی ملاقات میں چیف جسٹس نے کہا تھا کہ 'وزیر اعظم کا پانی سے متعلق بیان خوش آئند ہے، ڈیم کے فنڈ سے متعلق فیصلہ ہماری اجازت سے کیا گیا جبکہ جلد سپریم کورٹ پانی پر بین الاقوامی کانفرنس کروائے گی'۔

انہوں نے کہا تھا کہ 'ملک میں پانی کا مسئلہ حل ہونا چاہیے، لوگ بڑی تیزی سے ڈیم فنڈ کے لیے پیسے دے رہے ہیں، میں ریٹائرمنٹ کے بعد ڈیم پر خود پہرہ دوں گا اور ڈیم پر جھونپڑا بنا کر رہنا پڑا تو رہوں گا'۔

'عوام منرل واٹر کے بجائے نلکوں کا پانی پیئیں'

11 اکتوبر 2018 کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نے پینے کا پانی مہنگے داموں فروخت کے خلاف از خود نوٹس کی سماعت کی، اس دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے عوام سے اپیل کی کہ وہ منرل واٹر پینے کے بجائے نلکوں کا پانی پیئیں۔

ڈیم — فائل فوٹو
ڈیم — فائل فوٹو

'ہم رہیں نہ رہیں ڈیم ضرور بنے گا'

27 جون 2018 کو سپریم کورٹ میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس میں انہوں نے ریمارکس دیئے تھے کہ ہم رہیں نہ رہیں لیکن ڈیم ضرور بنے گا، ساتھ ہی انہوں نے نئے ڈیم کا نام ’پاکستان ڈیم‘ قرار دیا تھا۔

چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیئے تھے کہ میں نے مقدمے میں معاونت کے لیے شمس الملک کو زحمت دے رکھی ہے، شمس الملک عدالت کی اچھے انداز میں معاونت کریں گے۔

'میرے جانے کے بعد ڈیم تحریک کو بند نہ ہونے دیا جائے'

7 دسمبر 2018 کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے واٹر سمپوزیم کی سفارشات پر عملدرآمد سے متعلق کیس کی سماعت کی، اس دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ میرے جانے کے بعد ڈیمز تحریک کو بند نہ ہونے دیا جائے۔

’ڈیمز کی مخالفت کرنے والے کسی اور ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں‘



انتظامیہ کے پاس اہلیت
ہے نہ قابلیت،

چیف جسٹس

12 ستمبر 2018 کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ڈھڈوچہ ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کہ ملک میں ڈیمز کی تعمیر پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا، جو لوگ اس کی مخالفت کر رہے ہیں وہ کسی اور ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے تھے کہ ایک سیاست دان نے کہا کہ ’سپریم کورٹ کو علیحدہ سیاسی جماعت بنالینی چاہیے‘، یہ الفاظ انہیں کہنے کی ضرورت نہیں تھی، انہوں نے ڈیمز کی تعمیر پر تنقید کا ردِ عمل دیتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کہ ڈیمز کی تعمیر بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، ان کی تعمیر میں جو لوگ مخالفت کر رہے ہیں وہ کسی اور ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔

'تھر میں میرے سوا کسی نے آر او پلانٹ کا پانی پینے کی کوشش نہیں کی'

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے 14 دسمبر 2018 کو بولان میں پانی کی قلت سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے تھے کہ تھر میں میرے سوا کسی نے آر او پلانٹ کا پانی پینے کی کوشش نہیں کی، میں جان بوجھ کر خاموش رہا ہوں۔

سپریم کورٹ نے بلوچستان کے علاقے بولان میں پانی کی قلت پر صدر سپریم کورٹ بار امان اللہ کنرانی کی سربراہی میں 2 رکنی کمیشن قائم کرتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کہ کمیشن اپنی تجاویز بنا کر دے کہ پانی کا مسئلہ کیسے ختم ہو سکتا ہے۔


بڑھتی آبادی پر ازخود نوٹس


— فوٹو: اے ایف پی
— فوٹو: اے ایف پی

’کیا ملک اس قابل ہے کہ ایک گھر میں 7 بچے پیدا ہوں؟‘

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے 3 جولائی 2018 کو ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کے خلاف از خود نوٹس کیس کی سماعت کی اور ریمارکس دیئے تھے کہ ہم کس چکر میں پھنس گئے ہیں کہ بچے کم پیدا کرنا اسلام کے خلاف ہے، کیا ملک اس قابل ہے کہ ایک گھر میں 7 بچے پیدا ہوں؟ کیا ملک میں اتنے وسائل موجود ہیں؟

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ ملک میں آبادی تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے، کیا ملک اس قابل ہے کہ ایک گھر میں 7 بچے پیدا ہوں، لوگ مرغیوں کے دڑبے میں بھی اضافی جگہ بناتے ہیں جبکہ ملک میں آبادی کی شرح میں اضافہ بم کی مانند ہے۔

انہوں نے استفسار کیا کہ حکومت نے اب تک کیا پالیسی بنائی ہے اور اس معاملے پر کتنا پیسہ استعمال کیا؟ انہوں نے ریمارکس دیئے کہ آبادی کنٹرول میں بیٹھے لوگ صرف مفت کی تنخواہیں لے رہے ہیں۔

'آبادی کنٹرول کرنے کیلئے بھرپور آگاہی مہم چلائی جائے'

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے 29 نومبر 2018 کو ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی سے متعلق کیس کی سماعت کی، جس میں انہوں نے ریمارکس دیئے تھے کہ ملک میں بھرپور طریقے سے آگاہی مہم چلائی جائے گی۔

’ماں ہی قربانی کیوں دیتی ہے باپ کیوں نہیں؟‘

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے 13 دسمبر 2018 کو آبادی میں اضافے سے متعلق کیس کی سماعت کی تھی اور عدالت نے سیکریٹری ہیلتھ سے 4 ہفتوں میں مکمل ایکشن پلان طلب کیا تھا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ اس کے لیے واک نہ کریں، مٹھی میں دیکھ کے آئیں، چھوٹے چھوٹے بلونگڑے پیدا ہو رہے ہیں۔



کسی بدمعاش کو پاکستان میں
نہیں رہنے دوں گا،

چیف جسٹس

چیف جسٹس نے مٹھی میں صحت کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پتا نہیں وہاں انکیوبیٹرز کام بھی کر رہے ہیں یا نہیں؟ اس معاملے پر ماں ہی قربانی کیوں دیتی ہے باپ کیوں نہیں۔

خیال رہے کہ لا اینڈ جسٹس کمیشن پاکستان کی جانب سے بڑھتی آبادی پر ایک روزہ کانفرنس کا انعقاد 5 دسمبر کو فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں ہوا تھا۔

سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا تھا کہ پاکستان میں دستیاب وسائل بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہیں۔

چیف جسٹس نے مزید کہا تھا کہ پاکستان میں گزشتہ 60 برس کے دوران آبادی کو محدود کرنے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔

'ہماری اگلی مہم آبادی پر قابو پانا ہے'

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے 25 نومبر 2018 کو برطانوی شہر برمنگھم میں ڈیم کی تعمیر کے سلسلے میں فنڈز جمع کرنے کی تقریب کے بعد نجی ٹی وی چینل بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ڈیم کے بعد سپریم کورٹ کی آئندہ مہم پاکستان میں آبادی کے کنٹرول کی مناسبت سے ہوگی۔

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ آبادی کو کنٹرول کرنے سے متعلق آگاہی مہم چلانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ سیکریٹری صحت کیپٹن (ر) زاہد سعید کی سربراہی میں ایک خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق ایک ٹاسک فورس تشکیل دے دی گئی ہے جو اپنی رپورٹ دے گی۔

'50 لاکھ گھر بنتے رہیں گے تب تک کچی آبادیوں کیلئے کچھ کرنا ہوگا'

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے 10 اکتوبر 2018 کو ملک بھر کی کچی آبادیوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس میں چیف جسٹس نے ملک بھر میں کچی آبادیوں کی حالت زار بہتر بنانے کے لیے قانونی مسودے پر چاروں صوبوں سے جواب طلب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک آبادی کی سوسائٹی کو ماڈل بنا کر دیگر آبادیوں کی تعمیر ہوگی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے تھے کہ کچی آبادیوں کی حالت کو بہتر کرنا انتظامیہ کا کام ہے، سہولیات فراہم نہیں کر سکتے تو ان کا متبادل نظام کریں اور اگر انتظامیہ یہ کام نہیں کرتی تو پھر عدالت معاملے کو دیکھے گی۔


بنی گالا کیس


اسلام آباد میں بنی گالا کا ایک منظر — فائل فوٹو
اسلام آباد میں بنی گالا کا ایک منظر — فائل فوٹو

'انتظامیہ کے پاس اہلیت ہے نہ قابلیت'

13 نومبر 2018 کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بنی گالا تجاوزات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، اس دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل پیش ہوئے اور کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے رپورٹ پیش کی تھی۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ اسلام آباد کی انتظامیہ کے پاس نہ اہلیت ہے نہ قابلیت یہ منصوبے پر کس طرح عمل کریں گے۔

’عمران خان کا گھر پہلے ریگولرائز ہوگا تو باقی بھی ہوں گے‘



پرویز مشرف واپس آکر دکھائیں
کہ وہ کتنے بہادر ہیں،

چیف جسٹس

16 اکتوبر 2018 کو چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے بنی گالا میں تجاوزات سے متعلق کیس کی سماعت کی اور ریمارکس دیے کہ وزیرِاعظم عمران خان کا گھر پہلے ریگولرائز ہونا چاہیے، اس کے بعد ہی دیگر گھر ریگولرائز ہوجائیں گے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ بنی گالا کے تحفظ کے لیے پہلا قدم عمران خان نے درخواست دے کر اٹھایا، ریگولرائزیشن کا معاملہ حل ہونے تک نئی عمارتوں کی اجازت نہیں دیں گے۔

انہوں نے ریمارکس میں کہا تھا کہ سب سے پہلے عمران خان کا گھر ریگولرائز ہوگا جس کے لیے وہ جرمانہ ادا کریں گے اور زور دیا تھا کہ ان کے بیان کو سیاسی نہ سمجھا جائے، کیونکہ عمران خان کے بعد باقی شہریوں کو اپنی تعمیرات ریگولرائز کروانے کا کہا جائے گا۔

'وزیراعظم حکم پرعمل کرکے دوسروں کیلئے مثال بنیں'

29 اکتوبر 2018 کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے بنی گالا تجاوزات کیس کی سماعت کی تھی، جس میں انہوں نے وزیرِ اعظم عمران خان کو ہدایت کی تھی کہ وہ پہلے وسل بلور نظام پر عمل کریں اور عدالتی حکم پر عمل کرکے دوسروں کے لیے مثال بنیں۔

'سی ڈی اے سب سے پہلے وزیراعظم کے خلاف اقدام کرے'

5 اکتوبر 2018 کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے بنی گالا تجاوزات اور ماحولیاتی آلودگی کیس کی سماعت کی تھی، جس میں سپریم کورٹ نے راول ڈیم میں رہائشی سوسائٹیز کا فضلہ شامل ہونے سے متعلق رپورٹ ایک ہفتے میں طلب کی تھی۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ پانی میں فضلہ شامل ہونے سے لوگوں میں بڑی خطرناک بیماریاں پھیل رہی ہیں، انہوں نے استفسار کیا تھا کہ عدالت کو بتایا جائے سابقہ حکومت نے جو 4 ٹریٹمنٹ پلانٹ کا منصوبہ بنایا تھا، اس کا کیا ہوا؟ اگر نہیں لگے تو موجودہ حکومت اس کو مکمل کرے۔

'اعظم سواتی کے خلاف آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ٹرائل ہوسکتا ہے'

5 دسمبر 2018 کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میان ثاقب نثار کی سربراہی میں اعظم سواتی ناجائز قبضہ کیس اور آئی جی اسلام آباد تبادلہ کیس کی سماعت ہوئی، جس میں انہوں نے ریمارکس دیئے تھے کہ اعظم سواتی کے خلاف آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ٹرائل ہوسکتا ہے اور سپریم کورٹ 62 ون ایف پر شہادتیں ریکارڈ کرنے کی مجاز ہے۔

بنی گالا میں قائم عمران خان کے گھر کا ایک منظر — فائل فوٹو
بنی گالا میں قائم عمران خان کے گھر کا ایک منظر — فائل فوٹو

دوران سماعت چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیئے تھے کہ 62 ون ایف پر ہم خود بھی شہادتیں ریکارڈ کرسکتے ہیں اور کمیشن بھی مقرر کرسکتے ہیں، جو شہادتیں ریکارڈ کرے گا، سپریم کورٹ 62 ون ایف پر شہادتیں ریکارڈ کرنے کی مجاز ہے۔

یاد ہے کہ اسلام آباد میں وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اعظم سواتی کے فارم ہاؤس میں داخل ہونے اور ان کے گارڈز کو تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام میں 2 خواتین سمیت 5 افراد کو گرفتار کرلیا گیا تھا، جس کے بعد یہ معاملہ سامنے آیا تھا۔

اسی حوالے سے آئی جی اسلام آباد کا بھی مبینہ طور پر تبادلہ کیا گیا تھا جس پر سپریم کورٹ نے 29 اکتوبر کو نوٹس لیتے ہوئے آئی جی کے تبادلے کا نوٹی فکیشن معطل کردیا تھا۔

معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے تھے کہ 'سنا ہے کہ کسی وزیر کے کہنے پر آئی جی اسلام آباد کو ہٹایا گیا ہے'، قانون کی حکمرانی قائم رہے گی، ہم کسی سینیٹر، وزیر اور اس کے بیٹے کی وجہ سے اداروں کو کمزور نہیں ہونے دیں گے۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران معاملے کی باقاعدہ تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا تھا۔

لکھاری ڈان ڈاٹ کام کے اسٹاف ممبر ہیں، ان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ abdul_news1 ہے۔