ملک بھر میں چہلم امام حسینؓ عقیدت و احترام سے منایا گیا

ای میل

جلوس کے راستوں پر موبائل فون کی سروس بھی جزوی طور پر معطل کی گئی —فائل فوٹو: اے ایف پی
جلوس کے راستوں پر موبائل فون کی سروس بھی جزوی طور پر معطل کی گئی —فائل فوٹو: اے ایف پی

ملک بھر میں میں رسول اکرم ﷺ کے نواسے حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ان کا چہلم روایتی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔

اس سلسلے میں ملک کے مختلف شہروں میں مجالس کا اہتمام کیا گیا جبکہ بڑی تعداد میں لوگ جلوسوں میں بھی شریک ہوئے۔

کراچی میں مرکزی جلوس نشتر پارک سے علامہ شبر زیدی، ناصر علی اور علی رضا کی سربراہی میں برآمد ہوا جس کی گزرگاہوں میں واک تھرو گیٹ نصب کیے گئے اور سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے اس کی نگرانی بھی کی گئی۔

جلوس کے راستوں پر موبائل فون کی سروس بھی جزوی طور پر معطل رہی اور کراچی سمیت سندھ بھر میں ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد کی گئی تھی۔

چہلم حضرت امام حسین ؓ کے موقع پر پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے اور اس سلسلے میں 5 ہزار 313 اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں یومِ عاشور عقیدت و احترام سے منایا گیا، سیکیورٹی کے سخت انتظامات

عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام مکاتبِ فکر کی عبادت گاہوں، مجالس، امام بارگاہوں اور مساجد کے اطراف جامع تلاشی، موبائل پیٹرولنگ اور موٹر سائیکل پر گشت میں اضافہ کیا گیا تھا۔

حفاظتی اقدامات کے پیشِ نظر ایم اے جناح روڈ کو کنٹینرز لگا کر مکمل طور پر سیل کیا گیا تھا اور جلوس کے راستے میں آنے والی تمام دکانوں کو بھی مکمل طور پر تلاشی لیے جانے کے بعد ایک روز قبل ہی بند کردیا گیا تھا۔

اس کے ساتھ بم ڈسپوزل آلات اور سراغ رساں کتوں کی مدد سے جلوس کے راستوں کی سخت تلاشی بھی لی گئی تھی۔

جلوس کے شرکا نے امریکا، اسرائیل اور بھارت کے جھنڈے بھی نذر آتش کیے جبکہ ایک سیکیورٹی اہلکار کا کہنا تھا کہ شرکا نے ماضی کی طرح لاپتہ افراد کے حوالے سے کوئی احتجاج نہیں کیا۔

نشتر پارک سے برآمد ہونے والا مرکزی جلوس مقررہ راستوں سے گزرتا ہوا حسینیہ ایرانیاں کھارادر میں اختتام پذیر ہوا۔

ڈی آئی جی ایسٹ عامر فاروقی کا کہنا تھا کہ چہلم پرامن ماحول میں ہوا اور جلوس میں شرکا کی تعداد عاشورہ کے برابر تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم نے ریپڈ رسپانس فورس (آر آر ایف) اور اسپیشل سیکیورٹی یونٹ (ایس ایس یو) کی خدمات بھی حاصل کرلی تھی اس کے ساتھ رینجرز کی بھی بھاری نفری تعینات تھی'۔

ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) رینجرز سندھ میجر جنرل عمر احمد بخاری نے چہلم کے جلوس کا معائنہ کیا اور سیکیورٹی انتظامات کا بھی جائزہ لیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی رینجرز کا کہنا تھا کہ چہلم کے حوالے سے کوئی خطرہ نہیں تھا لیکن موجودہ صورت کو دیکھتے ہوئے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور اس صورت حال میں ہم نے معمول کی سیکیورٹی کے انتظام نہیں کیا۔

انہوں نے شہر میں سیکیورٹی کی صورت حال کو اطمینان بخش قرار دی اور کہا کہ رینجرز، دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے مکمل حکمت عملی کے ساتھ تیار ہے۔

سندھ کے دیگر علاقوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے بھر میں سیکیورٹی کی صورت حال بہتر تھی اور عوام کو خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہاں دہشت گردی نہیں پنپ سکتی۔

میجر جنرل عمر بخاری نے کہا کہ 'ہم شہر کی صورت حال سے آگاہ ہیں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی جاری رہے گی اور رینجرز اپنے فرائض انجام دیتی رہے گی'۔

پشاور کے داخلی و خارجی راستوں کی نگرانی

پشاور میں چہلم امام حسین کے سلسلے میں امام بارگاہ علمدار میں مجلس برپا ہوئی اور نماز ظہرین کی ادائیگی کے بعد امام بارگاہ آخوندآباد سے جلوس برآمد ہوا جو مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا اسی امام بارگاہ پر اختتام پذیر ہوا۔

سٹی پولیس نے چہلم امام حسین کے لیے خصوصی سکیورٹی پلان ترتیب دیا تھا جس کے مطابق 4 ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکار تعینات کیے گئے جبکہ شہر کے تمام داخلی و خارجی راستوں کی نگرانی بھی سخت کی گئی تھی۔

علاوہ ازیں سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے بھی جلوس کی نگرانی کی گئی، حفاظتی اقدامات کے پیشِ نظر پولیس اہلکاروں کو خصوصی کارڈز جاری کیے گئے تھے۔

مزید پڑھیں: ملک بھر میں9 محرم الحرام کے جلوس سخت سیکیورٹی میں اختتام پذیر

پشاور کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) آپریشن کے مطابق شہر میں داخل ہونے والے تمام افراد کی کڑی نگرانی کو ممکن بنایا گیا اور اندرون شہر قائم ہوٹلوں اور سرائے کی بھی وقتا فوقتا تلاشی لی گئی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ تمام اہم اور حساس مقامات پر باوردی اور سادہ لباس پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے اور تمام اونچی عمارتوں پر ماہر نشانہ باز اہلکار بھی تعینات تھے۔

لاہور میں 10 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات

لاہور میں چہلم حضرت امام حسینؓ کے ساتھ ساتھ عرس داتا علی ہجویری کا آخری روز تھا جس کے لیے سیکورٹی اداروں نے ان دونوں مواقع کی مناسبت سے فول پروف سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے تھے۔

لاہور میں جلوس مقررہ راستوں سے گزر اختتام پذی ہوا—فوٹو: اے پی
لاہور میں جلوس مقررہ راستوں سے گزر اختتام پذی ہوا—فوٹو: اے پی

ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) آپریشنز لاہور اشفاق خان کے مطابق شہر میں مجموعی طور پر 10 ہزار سے زائد پولیس افسران و جوانوں نے فرائض سر انجام دیے اور اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ سمیت تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ رکھا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں مرکزی جلوس کی سیف سٹیز اتھارٹی کے کیمروں کے ذریعے مسلسل نگرانی کی گئی اور شہر میں ڈبل سواری پر پابندی رہی، اس کے ساتھ جلوس کی فضائی نگرانی اور روف ٹاپ سیکیورٹی کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: محرم الحرام کے جلوس کیلئے سیکیورٹی کے انتظامات مکمل

لاہور میں چہلم کا مرکزی جلوس حویلی الف شاہ سے شروع ہوکر مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا کربلا گامے شاہ پر اختتام پذیر ہوا جس میں شرکا کو 3 سطح سیکیورٹی کے ذریعے جسمانی تلاشی کے بعد ہی داخل ہونے کی اجات دی گئی۔

جیکب آباد میں سخت حفاظتی انتظامات

سندھ کے دیگر شہروں کے ساتھ ساتھ جیکب آباد میں بھی چہلم کی مناسبت سے سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے اور اس سلسلے میں 1800 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔

ضلع جیکب آباد میں 35 ماتمی جلوس برآمد ہوئے جن کی گزرگاہوں کی نگرانی کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئے تھے۔

اس کے علاوہ 3 مانیٹرنگ روم قائم کرنے کے ساتھ ساتھ شہر کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر چیکنگ کے لیے چوکیاں قائم کی گئی تھیں۔