کرتارپور یاترا کیلئے 10 ہزار ویزے جاری، پاسپورٹ کی شرط ایک سال تک ختم

اپ ڈیٹ 07 نومبر 2019

ای میل

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کرتار پور راہداری  کے حوالے سے کسی قسم کی منفی سوچ کا سامنا کرنا نہیں چاہتا—تصویر:ڈان نیوز
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کرتار پور راہداری کے حوالے سے کسی قسم کی منفی سوچ کا سامنا کرنا نہیں چاہتا—تصویر:ڈان نیوز

دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ بابا گرونانک کے 550ویں سالگرہ کے موقع پر حکومت پاکستان نے کرتار پور آنے والے سکھ یاتریوں کے لیے خصوصی مراعات کا اعلان کیا ہے۔

ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری نے پاکستان کی جانب سے سکھ زائرین کے لیے اعلان کردہ رعایتوں کا خیر مقدم کیا ہے۔

اس حوالے سے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یاتریوں کے لیے اعلان کردہ ان تمام مراعات کے بارے میں بھارتی حکومت کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ کرتار پور میں بابا گرونانک کی زیارت کے لیے بھارت سے پاکستان آنے والے یاتری اسی روز واپس اپنے ملک چلے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا پانی روکنے کا بھارتی اقدام ’جارحیت‘ تصور کیا جائے گا، ترجمان دفتر خارجہ

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت یاتریوں کی متوقع تعداد 5 ہزار ہے لیکن امید ہے کہ اس سے زیادہ تعداد میں زائرین آئیں گے۔

اس سلسلے میں انہوں نے بتایا کہ مختلف ممالک میں موجود پاکستانی سفارت خانوں نے بھی ہزاروں سکھوں کو گرونانک کے جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لیے ویزے جاری کیے ہیں یوں جاری کردہ ویزوں کی تعدد 10 ہزار ہوگئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مذکورہ تقریبات میں شرکت کے لیے خصوصی طور پر نوجوت سندھو کو ویزا جاری کردیا گیا ہے اور ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کرتارپور راہداری کے حوالے سے کسی قسم کی منفی سوچ کا سامنا کرنا نہیں چاہتا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق حکومت مذہبی سیاحت پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور اس سے عام طرز کی سیاحت کو بھی فائدہ پہنچے گا جبکہ حکومت مستقبل میں اس حوالے سے مزید اقدامات کرنے کے لیے پر عزم ہے‘۔

مزید پڑھیں: چاہے کوئی رافیل رکھے یا کچھ اور، پاکستان اپنا دفاع کرنا جانتا ہے، دفتر خارجہ

کرتارپور راہداری کے حوالے سے انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بابا گرونانک کے جنم دن کے موقع پر پاکستان نے خصوصی طور پر کرتارپور آنے والے یاتریوں کے لیے پیکج تشکیل دیا ہے جس میں سکھ زائرین کے لیے ایک سال کے لیے پاسپورٹ کی شرط ختم کردی گئی ہے۔

علاوہ ازیں پاکستان آنے والے زائرین کی فہرست 10 روز قبل فراہم کرنے اور 20 ڈالر کی سروس فیس میں 9 تا 12 نومبر تک کے لیے استثنیٰ بھی دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا کہ پاکستان نے مقررہ وقت میں راہداری منصوبہ مکمل کیا جس کا افتتاح 9 نومبر کو کردیا جائے گا۔

'بھارت ہندوتوا نظریہ پر عمل پیرا ہے'

ہفتہ وار بریفنگ میں مقبوضہ کشمیر کے بارے میں بات کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ وادی میں اب بھی بھارتی افواج کی جانب سے ظلم و ستم کا سلسلہ جاری ہے جبکہ 98 روز گزرنے کے باجود مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور لاک ڈاؤن نہیں ہٹایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: عافیہ صدیقی سے متعلق میرا بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر چلایا گیا، ترجمان دفترخارجہ

انہوں نے امریکا کی ذیلی کمیٹی برائے جنوبی ایشیا کی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق سے متعلق رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں حالیہ بھارتی اقدامات اور نئے نقشے صرف اور صرف آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی سازش ہیں اور پاکستان ان سیاسی نقشوں کو مسترد کرتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی حکومت پوری طرح ہندوتوا نظریہ پر عمل پیرا ہے۔

'افغانستان میں سفارتکاروں کو ہراساں کیا گیا'

افغانستان میں پاکستانی سفارتکاروں کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا کہ کابل میں سفارتخانے کے عملے کو ہراساں کرنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ سفارتکاروں کی گاڑیوں کو سڑکوں پر روک کر ہراساں کیا جاتا ہے جس پر پاکستانی حکومت نے اس معاملے پر افغان حکومت سے احتجاج کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ افغان حکومت پاکستانی سفارتکاروں کی سیکیورٹی بہتر بنائے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کرتارپور راہداری میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گا، ترجمان دفتر خارجہ

سعودی عرب اور ایران کے معاملات میں پائی جانے والی کشیدگی کے بارے میں ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ ایران کے معاملے میں مفاہمت کا عمل جاری ہے اور امید ظاہر کی کہ اس سے مثبت نتائج ملیں گے۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے ایکشن پلان پر عملدرآمد کے بارے میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کے لیے کوششیں جاری ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کی کاوشوں کو سراہا جائے گا۔

علاوہ ازیں یمن میں جاری تنازع کے حل کے لیے سعودی عرب اور علیحدگی پسندوں کے ساتھ معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے خطے میں موجود تناؤ اور کشیدگی میں کمی آئے گی۔