کورونا وائرس: ملک میں ایک ماہ کے دوران متاثرین کی تعداد 1193 تک جاپہنچی

ای میل

کورونا وائرس کا پاکستان میں پہلا کیس 26 فروری کو سامنے آیا تھا—فائل فوٹو: رائٹرز
کورونا وائرس کا پاکستان میں پہلا کیس 26 فروری کو سامنے آیا تھا—فائل فوٹو: رائٹرز

دنیا بھر میں ہزاروں اموات کا باعث بننے والا مہلک کورونا وائرس پاکستان میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے اور ایک ماہ کے دوران یہاں کیسز کی تعداد 1100 سے تجاوز کرگئی جبکہ 9 افراد جان کی بازی بھی ہار چکے ہیں۔

26 فروری 2020 کو پاکستان میں وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا تھا اور آج ایک ماہ مکمل ہونے تک ملک میں کورونا وائرس کے مزید نئے کیسز سامنے آنے سے تعداد 1193 ہوگئی ہے۔

اس عالمی وبا نے دنیا بھر میں تباہی مچا دی ہے اور 23 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور 5 لاکھ سے زائد متاثر ہوچکے ہیں۔

پاکستان کے کیسز پر نظر ڈالیں تو اس ایک ماہ کے عرصے میں سندھ میں سب سے زیادہ 421 کیسز رپورٹ ہوئے، جس کے بعد پنجاب کے کیسز کی تعداد 408 ہے۔

اسی طرح بلوچستان میں 131 کیسز اور خیبرپختونخوا میں 123 کیسز ہیں جبکہ اسلام آباد میں یہ تعداد 25 تک پہنچ چکی ہے۔

گلگت بلتستان میں 84 اور آزاد جموں کشمیر میں ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔

سندھ

سندھ میں جمعرات کو کورونا وائرس کے 8 نئے کیسز سامنے آئے۔

محکمہ صحت سندھ کی جانب سے بتایا گیا کہ کراچی میں 7 نئے کیسز مقامی سطح پر منتقلی کے سامنے آئے جبکہ ایک نیا کیس حیدرآباد سے رپورٹ ہوا جس کی برطانیہ کی سفری تاریخ موجود ہے۔

نئے آنے والے کیسز کے بعد تعداد کے بارے میں محکمہ صحت سندھ نے بتایا کہ کراچی میں کیسز کی تعداد 153، دادو میں ایک اور حیدرآباد میں 2 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں جس میں 14 صحت یاب ہوئے اور ایک کا انتقال ہوا جبکہ 141 زیر علاج ہیں۔

اسی طرح محکمہ صحت سندھ کا کہنا تھا کہ باقی دیگر کیسز میں 265 وہ زائرین ہیں جو تفتان سے سکھر آئے ہیں۔

یہاں یہ بات واضح رہے کہ شہر قائد میں سامنے آنے والے مجموعی کیسز میں 102 مقامی سطح پر منتقلی کے ہیں۔

پنجاب

ادھر پنجاب میں بھی 12 نئے کیسز کی تصدیق ہوگئی۔

محکمہ صحت پنجاب کے ترجمان قیصر آصف نے بتایا کہ صوبے میں 12 نئے کیسز سے مجموعی تعداد 335 ہوگئی۔

مریضوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ڈیرہ غازی خان سے 176، ملتان سے 12 زائرین میں وائرس کی تشخیص ہوئی۔

اس کے علاوہ ترجمان کے مطابق 83 افراد لاہور، 21 گجرات، 8 گوجرانوالہ، 19 جہلم، 4 راولپنڈی، 3 ملتان، 3 فیصل آباد جبکہ منڈی بہالدین، نارووال، رحیم یار خان، سرگودھا سے ایک ایک مریض سامنے آیا۔

بعد ازاں ترجمان نے مزید کیسز سامنے آنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں کورونا وائرس کے 405 کنفرم مریض ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی جی خان کے 207 زائرین، ملتان سے 22 زائرین، لاہور میں 103، گجرات میں 22، گوجرانوالہ میں 8، جہلم میں 19، راولپنڈی میں 12، فیصل آباد میں 3، منڈی بہاوالدین اور میانوالی میں 2، 2 جبکہ نارووال، رحیم یار خان، سرگودھا، اٹک اور بہاولنگر میں ایک، ایک افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔

قیصر آصف نے مزید ایک مریض کے جاں بحق ہونے کی بھی تصدیق کی۔

انہوں نے کہا کہ لاہور میں ایک مریض چند روز قبل میو اور دوسرا آج نجی ہسپتال مین جاں بحق ہوا جبکہ ایک مریض کا انتقال راولپنڈی میں ہوا تھا، یوں صوبے میں کورونا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 3 ہوگئی ہے۔

چند گھنٹے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ٹوئٹ میں مزید 3 کیسز سامنے آنے کی تصدیق کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈیرہ غازی خان کے قرنطینہ میں 207، ملتان کے قرنطینہ میں 19، لاہور میں 103، گجرات میں 22، گوجرانوالہ میں 8، جہلم میں 19، راولپنڈی میں 14، ملتان میں 3، فیصل آباد میں 3، منڈی بہاوالدین میں 3، میانوالی میں 2 جبکہ نارووال، رحیم یار خان، سرگودھا، اٹک اور بہاولنگر میں ایک، ایک افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

بلوچستان

اگر آج (جمعرات) 26 مارچ کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو ابھی 12 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

بلوچستان میں سامنے آنے والے کیسز سے متعلق ترجمان صوبائی حکومت لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ مزید 12 کیسز سے متاثرین کی تعداد 131 ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایک ہزار 455 افراد کے نمونے لیے گئے اور ابھی 165 افراد کے نتائج آنا باقی ہیں۔

لیاقت شاہوانی کے مطابق 2033 افراد کی اسکرینگ کی جاچکی ہے جبکہ تفتان قرنطینہ میں 277 جبکہ آر ڈی اے قرنطینہ میں 111 افراد موجود ہیں۔

خیبر پختونخوا

محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے مطابق صوبے میں کورونا وائرس کے مزید 2 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد یہاں متاثرین کی تعداد 123 ہوگئی ہے۔

اسلام آباد

علاوہ ازیں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی مزید کیسز رپورٹ کیے گئے۔

سرکاری ویب سائٹ کے اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد میں مزید 5 کیسز سامنے آئے جس کے بعد تعداد 20 سے بڑھ کر 25 تک پہنچ گئی۔

گلگت بلتستان

ادھر گلگت بلتستان میں بھی نئے کیسز کے آنے کا سلسلہ نہ تھم سکا۔

اس حوالے سے بھی سرکاری اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو وہاں گلگت بلتستان کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا اور یہ 81 سے بڑھ پر 84 ہوگئے۔

پاکستان میں ایک ماہ میں 9 اموات

پاکستان میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاک 18 مارچ کو سامنے آئی جبکہ اسی روز دوسری موت کی بھی تصدیق کردی گئی۔

18 مارچ کو خیبرپختونخوا کے وزیر صحت تیمو جھگڑا نے مردان میں پہلے شخص کے کورونا وائرس کی وجہ سے انتقال کرجانے کے بارے میں آگاہ کیا۔

بعد ازاں کچھ ہی دیر میں انہوں نے ہنگو میں دوسرے فرد کی موت کی تصدیق کی۔

20 مارچ کو ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں وائرس سے ایک مریض کا انتقال ہوا تو اس طرح تعداد 3 تک جا پہنچی۔

22 مارچ کو خیبرپختونخوا میں ہی ایک اور مریض کے انتقال کی خبر سامنے آئی تو کچھ ہی دیر بعد گلگت بلتستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کا علاج کرنے والا ڈاکٹر اسی عالمی وبا کا شکار ہوکر جان کی بازی ہار گیا۔

اگلے ہی دن یعنی 23 مارچ کو بلوچستان حکومت کی جانب سے صوبے میں کورونا وائرس کا پہلا مریض دم توڑ گیا۔

جہاں ایک طرف متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ سامنے آرہا تھا وہیں 24 مارچ کو پنجاب میں بھی پہلی ہلاکت سامنے آگئی۔

پنجاب میں ہونے والی یہ موت ملک میں مقامی سطح پر منتقل ہونے والے کیس سے پہلا انتقال تھا۔

علاوہ ازیں 25 مارچ کو بھی ملک میں ایک اور موت کی تصدیق ہوئی اور راولپنڈی میں 50 سالہ خاتون دم توڑ گئیں۔

26 مارچ کو لاہور کے نجی ہسپتال میں ایک مریض جان کی بازی ہار گیا جس کے بعد صوبے میں کورونا وائرس سے 3 اور ملک میں مجموعی طور پر 9 اموات ہوگئیں۔

پاکستان میں ایک ماہ کے کیسز پر ایک نظر

پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو کراچی میں سامنے آیا۔

  • 26 فروری کو ہی معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ملک میں مجموعی طور پر 2 کیسز کی تصدیق کی۔

  • 29 فروری کو ڈاکٹر ظفر مرزا نے ملک میں مزید 2 کیسز کی تصدیق کی، جس سے اس وقت تعداد 4 ہوگئی تھی، 3 مارچ کو معاون خصوصی نے کورونا کے پانچویں کیس کی تصدیق کی۔

  • 6 مارچ کو کراچی میں کورونا وائرس کا ایک اور کیس سامنے آیا، جس سے تعداد 6 ہوئی۔

  • 8 مارچ کو شہر قائد میں ہی ایک اور کورونا وائرس کا کیس سامنے آیا۔

  • 9 مارچ کو ملک میں ایک ہی وقت میں سب سے زیادہ کورونا وائرس کے 9 کیسز کی تصدیق کی گئی تھی۔

  • 10 مارچ کو ملک میں کورونا وائرس کے 3 کیسز سامنے آئے تھے جن میں سے دو کا تعلق صوبہ سندھ اور ایک کا بلوچستان سے تھا، جس کے بعد کیسز کی مجموعی تعداد 19 جبکہ سندھ میں تعداد 15 ہوگئی تھی۔

بعد ازاں سندھ حکومت کی جانب سے یہ تصحیح کی گئی تھی 'غلط فہمی' کے باعث ایک مریض کا 2 مرتبہ اندراج ہونے کے باعث غلطی سے تعداد 15 بتائی گئی تھی تاہم اصل تعداد 14 ہے، اس تصحیح کے بعد ملک میں کورونا کیسز کی تعداد 10 مارچ تک 18 ریکارڈ کی گئی۔

  • 11 مارچ کو اسکردو میں ایک 14 سالہ لڑکے میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی، جس کے بعد مجموعی تعداد 19 تک پہنچی تھی۔

  • 12 مارچ کو گلگت بلتستان کے ضلع اسکردو میں ہی ایک اور کیس سامنے آیا تھا جس کے بعد ملک میں کورونا کے کیسز کی تعداد 20 تک جاپہنچی تھی۔

  • 13 مارچ کو اسلام آباد سے کراچی آنے والے 52 سالہ شخص میں کورونا کی تصدیق کے بعد تعداد 21 ہوئی تھی، بعدازاں اسی روز ڈاکٹر ظفر مرزا نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران تفتان میں مزید 7 کیسز سامنے آنے کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ پاکستان میں مجموعی طور پر کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 28 ہوگئی۔

  • 14 مارچ کو سندھ و بلوچستان میں 2، 2 نئے کیسز کے علاوہ اسلام آباد میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا جس کے بعد ملک میں مجموعی کیسز کی تعداد 33 ہوگئی۔

  • 15 مارچ کو اسلام آباد اور لاہور میں ایک ایک، کراچی میں 5، سکھر میں 13 کیسز سامنے آئے جس کے بعد ملک بھر میں مجموعی تعداد کیسز کی تعداد 53 ہوگئی تھی۔

  • 16 مارچ کو ملک میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں اچانک بہت تیزی سے اضافہ ہوا تھا اور سندھ میں تعداد 35 سے بڑھ کر 150 جبکہ خیبرپختونخوا میں نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد ملک میں مجموعی تعداد 184 تک جا پہنچی تھی۔

  • 17مارچ کو ملک کے چاروں صوبوں سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس کے مزید کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد ملک میں مجموعی تعداد 237 تک پہنچ گئی تھی۔

  • 18 مارچ کو پاکستان میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت خیبرپختونخوا میں سامنے آئی جبکہ کچھ ہی دیر بعد ہی عالمی وبا سے دوسری موت کی بھی تصدیق کردی گئی، اس کے علاوہ اسی روز صوبے میں مزید 64 کیسز سامنے آنے کے بعد تعداد 301 تک ہوگئی تھی۔

  • 19 مارچ کو بھی کورونا وائرس کے مزید کیسز آنے کا سلسلہ نہ رک سکا اور چاروں صوبوں سمیت گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کے مجموعی طور پر 152 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد اس روز تعداد 448 تک جاپہنچی۔

  • مارچ کی 20 تاریخ کو اس عالمی وبا سے کراچی میں پہلی ہلاکت سامنے آئی، جس کے بعد ملک میں مجموعی ہلاکتیں 3 ہوگئی جبکہ اسی روز نئے مریضوں کے سامنے آنے سے متاثرین کی تعداد 495 تک ہوگئی۔

  • 21 مارچ کو پاکستان میں تصدیق ہونے والے کورونا وائرس کے کیسز میں صوبہ سندھ سے 39، پنجاب سے 56، بلوچستان سے 12، خیبرپختونخوا سے 8 جبکہ گلگت بلستان سے 34 نئے کیسز شامل تھے، جس کے بعد ملک میں متاثرہ افراد کی تعداد 600 سے تجاوز کر گئی تھی۔

  • 22 مارچ کو ملک میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز میں اضافے کے ساتھ مجموعی تعداد 799 تک پہنچ چکی تھی، جس میں پنجاب میں مزید 73، سندھ میں مزید 60، بلوچستان میں 4 کیسز جبکہ گلگت بلتستان میں مزید 16 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، اس کے ساتھ گلگت بلتستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ ایک ڈاکٹر جبکہ خیبرپختونخوا میں ایک وائرس سے متاثرہ خاتون کی موت کے بعد مجموعی اموات 5 ہوگئی تھیں، سندھ میں ایک شخص کے صحتیاب ہونے کی اطلاع بھی سامنے آئی تھی۔

  • 23 مارچ کو بھی ملک میں کورونا وائرس کے مزید کیسز رپورٹ ہوئے اور بلوچستان سے پہلی ہلاکت بھی سامنے آئی اسی روز ملک بھر میں فوج تعینات کرنے کی منظوری بھی دی گئی، تاہم اگر اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو اس روز یہ تعداد 878 تک پہنچ گئی تھی۔

  • مارچ کی 24 تاریخ کو پنجاب میں پہلی ہلاکت سامنے آئی جو ملک میں مقامی سطح پر منتقل ہونے والا کیس تھا، اس کے علاوہ مختلف صوبوں اور علاقوں میں نئے کیسز سامنے آنے کے بعد اس روز تک متاثرین 990 ہوگئے تھے۔

  • 25 مارچ کو پاکستان میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی جبکہ اس روز بھی ملک میں ایک اور موت سامنے آئی جس کے بعد ملک میں اموات 8 ہوگئیں۔

کورونا وائرس سے متعلق اپ ڈیٹ کے لیے یہاں کلک کریں اور تفصیلی خبریں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں