سپریم کورٹ کا ڈاکٹرز کو فوری حفاظتی کٹس کی فراہمی کا حکم

اپ ڈیٹ 07 اپريل 2020

ای میل

سپریم کورٹ نے ڈاکٹرز کو روزانہ کی بنیاد پر تمام تر سہولیات کی فراہمی کا حکم دیا— فوٹو بشکریہ سپریم کورٹ ویب سائٹ
سپریم کورٹ نے ڈاکٹرز کو روزانہ کی بنیاد پر تمام تر سہولیات کی فراہمی کا حکم دیا— فوٹو بشکریہ سپریم کورٹ ویب سائٹ

سپریم کورٹ نے بلوچستان میں ڈاکٹرز کے احتجاج پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو کورونا وائرس کا علاج کرنے والے ڈاکٹرز کو فوری طور پر حفاظتی کٹس کی فراہمی کی ہدایت کردی۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے کورونا وائرس کی صورتحال میں ہسپتالوں کی بندش اور سہولیات سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

مزید پڑھیں: قیدیوں کی رہائی کے فیصلے کالعدم قرار، رہائی پانے والوں کی دوبارہ گرفتاری کا حک

دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بلوچستان میں ڈاکٹروں کے حوالے سے کیا اطلاعات ہیں، پولیس وین بھر کر ڈاکٹروں کو لے کر گئے تھے۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے بتایا کہ تمام ڈاکٹرز کو بعد میں چھوڑ دیا گیا تھا جس پر چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ ڈاکٹرز کے مطالبات کیا تھے؟

اعلیٰ عدلیہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ عدالت کے مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ کٹس فراہم نہ کرنے پر ڈاکٹرز احتجاج کر رہے ہیں، ڈاکٹروں اور طبی عملے کو کٹس فراہم نہ کی گئیں تو ان کی زندگی کو خطرات لاحق ہو جائیں گے۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ کابینہ نے ڈاکٹرز کے مطالبات کی منظوری دے دی ہے جس پر عدالت نے حکم دیا کہ جتنی کٹس اور سہولیات دستیاب ہیں، ڈاکٹرز کو وہ سب فراہم کریں۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: ’تمام حکومتی اقدامات صرف کاغذوں میں ہیں عملی طور پر کچھ نہیں ہورہا‘

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ڈاکٹرز کو جو بھی چیزیں چاہیئیں انہیں وہ روزانہ کی بنیاد پر فراہم کریں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل کے مطابق گرفتار ہونے والے ڈاکٹرز کی مستقلی کا معاملہ تھا، کچھ ڈاکٹرز صورتحال پر حکومت کو بلیک میل کرنا چاہتے تھے جبکہ کچھ ڈاکٹرز کے پاس حفاظتی کٹس نہیں لیکن وہ فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ڈاکٹرز کی اکثریت بہترین فرائض سر انجام دے رہی ہے، ڈاکٹرز اس وقت فرنٹ لائنز سولجر ہیں۔

انہوں نے استفسار کیا کہ ڈاکٹرز کو کنٹریکٹ کے بجائے مستقل کیوں نہیں کیا جاتا، حکومت کا کام کنٹریکٹ بھرتیاں کرنا نہیں ہوتا مستقل ملازمت دینا ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے زیر سماعت قیدیوں کی رہائی کے تمام فیصلے معطل کردیے

عدالت نے مزید استفسار کیا کہ بلوچستان حکومت کو کورونا وائرس کے تدارک کے لیے کتنے پیسے ملے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ بلوچستان حکومت کو 44 کروڑ 30 لاکھ روپے ملے ہیں اور 11 کروڑ 80 لاکھ روپے ابھی تک خرچ ہوئے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت نے ہسپتالوں کی اوپی ڈیز بند ہونے پر سوال اٹھایا تھا اور میری اس سلسلے میں ڈاکٹر ظفر مرزا سے بات ہوئی ہے اور میں صحت کے شعبے میں حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات پر بریفنگ دینا چاہتا ہوں۔

اٹارنی جنرل بلوچستان نے کہا کہ حکومت کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، اوپی ڈیز میں لوگ اکھٹے ہو جاتے ہیں لیکن باقی ہر طرح کے مریضوں کے لیے ایمرجنسی کھلی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جیلوں میں قرنطینہ مراکز قائم کرنے، نئے قیدیوں کی اسکریننگ کرنے کا حکم

اس موقع پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پیسہ حقداروں تک پہنچنا چاہیے اور دریافت کیا کہ حکومت بے روزگاروں کی کیا مدد کر رہی، حکومت کو گراؤنڈ پر جاکر لوگوں کی مدد کرنی ہوگی۔

جسٹس عطا بندیال نے لوکل گورنمنٹ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مقامی حکومتیں ہوتیں تو لوگوں کی نچلی سطح پر مدد ہوتی، لیکن حکومت نے مقامی حکومتوں کو خود غیر مؤثر کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں بھی مقامی حکومت غیر موثر ہے، پنجاب میں بھی مقامی حکومت غیر موثر ہے، ہمیں ملک کو چلانا ہے، حکومت کو کام کرنا ہوگا۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس کی دوسری ویکسین کی انسانوں پر آزمائش

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کورونا کی وبا سے لڑنے کے لیے ہنگامی قانون سازی کی ضرورت ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ وبا سرحدوں اور ان داخلی راستوں سے ائی جن پر حکومت قرنطینہ سینٹر بنانے میں ناکام رہی۔

عدالت نے تفتان، چمن، طور خم کے مقام پر فوری طور پر قرنطینہ بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ان قرنطینہ سینٹرز میں ہزار لوگوں کی گنجائش رکھی جائے جبکہ انفرادی رہائش کے لیے پانی کی سپلائی اور صاف ٹوائلٹس بھی فراہم کیے جائیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ قرنطینہ سینٹرز میں ایمرجنسی میڈیکل سینٹرز بنائے جائیں جن میں علاج کی تمام سہولیات فراہم کی جائیں جبکہ وہاں رکھے گئے لوگوں کو انسانی حقوق اور خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: ’جو تاجر پہلے لوگوں کی مدد کرتے تھے، وہ اب خود محتاج ہوگئے ہیں‘

عدالت نے حکومت کو ایک ماہ میں سرحدوں پر قرنطینہ سینٹرز بنانے اور مکمل فعال کرنے کا حکم دے دیتے ہوئے کہا کہ ایک ماہ میں حکومت عدالت میں پیش رفت رپورٹ جمع کرائے اور اگر عدالتی حکم پر عمل نہ کیا گیا تو توہین عدالت کی کاروائی کی جائے گی۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ حکومت کے لیے آٹے اور چینی کا مسئلہ بنا ہوا ہے اور حکومت خود اپنے لیے مسائل کھڑے کر رہی ہے۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت کو کریڈٹ دینا چاہیے کہ انکوائری رپورٹ پبلک کی، پاکستان آگے بڑھ رہا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ملک کو بڑے بڑے لوگ نقصان پہنچا رہے ہیں اور جسٹس عطا بندیال نے کہا کہ پیسہ حقداروں تک پہنچنا چاہیے۔

مزید پڑھیں: کابل گوردوارے پر حملہ: بھارتی میڈیا کی پاکستان سے متعلق 'شر انگیز' رپورٹس مسترد

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ہسپتالوں میں تمام محکموں میں ملازمین کو مستقل بنیادوں پر رکھیں، سپریم کورٹ میں ملازمین کی مستقلی کے حوالے سے مقدمات بھرے پڑے ہیں، نا جانے ہائی کورٹس اور نچلی عدالتوں میں کیا حالات ہوں گے۔

چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے آنا چاہئیں انہیں کنٹریکٹ پر رکھ لیتے ہیں، پاکستان میں یہ کیا ہو رہا ہے؟

انہوں نے کہا کہ حکومتوں کا کام یہ نہیں ہوتا، ایسے نہیں چلتیں حکومتیں، ایک حکومت آتی ہے اپنے ملازمین رکھتی اور دوسری آکر انہیں نکال دیتی ہے، پھر ملازمیں مستقل ہونے کے لیے عدالتوں میں گھومتے ہیں کام کچھ نہیں کرتے۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ پارلیمنٹ کو ہر وقت سیشن میں رہنا چاہیے، پارلیمنٹ کو نئے قانون بنانے چاہیئیں۔

یہ بھی پڑھیں: پالپا اور پی آئی اے انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کامیاب، معاہدے پر دستخط

انہوں نے کہا کہ کورونا کی وبا کے لیے پنگامی قانون سازی کی ضرورت ہے، قانون بنتے ہوئے رکنے نہیں چاہئیں، عدالتوں کا کام قانون بنانا نہیں بلکہ یہ پارلیمنٹ کا کام ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ احساس پروگرام کے تحت جن تین تین کروڑ لوگوں کو پیسے دیے جا رہے ہیں وہ کون لوگ ہیں؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ جو لوگ خط غربت سے نیچے ہیں انہیں پیسے دیں گے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیسے معلوم ہوگا کہ پیسے غریب لوگوں تک پہنچ گئے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام سے ڈیٹا لیا ہے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کرکے احساس پروگرام رکھا گیا ہے اور اس پروگرام کو غیر ملکی ادارے نے منظور کیا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وقت بہت اہم ہے، گھڑی چل رہی ہے، ایک ایک منٹ اہم ہے، وقت کے ساتھ چلیں ورنہ پیچھے رہ جائیں گے۔

مزید پڑھیں: نجی ہسپتالوں کے مالکان کا وزیراعلیٰ سندھ کو لاک ڈاؤن میں توسیع کا مشورہ

عدالت نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ احساس پروگرام کی تقسیم میں شفافیت کو یقینی بنائے، یہ پاکستانی عوام نے پیسہ دیا ہے تاکہ غریب آدمی آرام سے زندگی گزار سکیں، یہ پیسہ ایسے لوگوں تک نہیں پہنچنا چاہیے جو پہلے اچھی زندگی گزار رہے ہیں۔

عدالت نے حکومت کو مزید حکم دیا کہ وہ احساس پروگرام کے تحت تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیں۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ پاکستان میں وینٹی لیٹرز تیاری کے مراحل میں ہیں، حکومت اس حوالے سے تمام وسائل فراہم کرنے کو یقینی بنائے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں بریفنگ کے لیے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے نمائندے اور اور ڈاکٹر ظفر مرزا کو لانا چاہتا ہوں۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل نے مزید بتایا کہ ابھی صرف دوسرے ممالک جانے کی اجازت ہے، ملک میں آنے کی نہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اپ کہہ رہے ہیں لوگ نہیں آرہے جبکہ لوگ روزانہ آرہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اس سے بدترین وقت کبھی نہیں دیکھا، انور مقصود

عدالت نے کورونا وائرس کے حوالے سے تمام تر اعدادوشمار طلب کیے تو اٹارنی جنرل نے درخواست کی کہ کیس ملتوی کیا جائے، اعداد و شمار کل پیش کر دیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اعداد و شمار کا ہمیں کچھ فائدہ نہیں، معلوم ہونا چاہیے کونسی چیز کہاں اور کس کالونی میں استعمال ہو رہی ہے۔

عدالت نے حکم دیا کہ ڈاکٹرز کو کنٹریکٹ کی بجائے مستقل طور ہر بھرتی کیا جائے اور احساس پروگرام کو بلدیاتی اداروں کے ذریعے عمل میں لایا جائے۔

تاہم اس موقع پر اٹارنی جنرل کی استدعا پر سپریم کورٹ نے احساس پروگرام سے متعلق پیرا کو حکم نامے سے نکال دیا اور کیس سماعت پیر تک ملتوی کردی۔

مزید پڑھیں: مس انگلینڈ نے کورونا مریضوں کی خاطر ہسپتال میں ملازمت اختیار کرلی

عدالت نے کہا کہ وفاقی، صوبائی اور گلگت بلتستان حکومتوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ ہسپتالوں میں حفاظتی اقدامات فوری طور پر اٹھائے جائیں اور ہسپتالوں، گلی محلوں میں اسپرے کو یقینی بنایا جائے۔

سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں مزید کہا کہ ہسپتالوں کے فضلے کو بہتر طریقے سے تلف کیا جائے جبکہ ڈاکٹروں اور طبی عملے میں کٹس کے حوالے سے کوئی خدشات نہیں ہونے چاہیئیں۔