کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کے 11 کھرب 13 ارب روپے کہاں خرچ ہوں گے؟

اپ ڈیٹ 06 ستمبر 2020

ای میل

ملک کا سب سے بڑا شہر مختلف مسائل سے دوچار ہے—فائل فوٹو: فیس بک
ملک کا سب سے بڑا شہر مختلف مسائل سے دوچار ہے—فائل فوٹو: فیس بک

وزیراعظم عمران خان نے کراچی کے لیے 11 سو 13 ارب (11 کھرب 13 ارب) روپے کے پیکج کا اعلان تو کردیا تاہم کتنی رقم کہاں خرچ ہوگی یہ تفصیلات بھی اب سامنے آگئی ہیں۔

یاد رہے کہ عمران خان نے گزشتہ روز (5 ستمبر) کراچی کا دورہ کیا، جس کا مقصد بارش کے بعد آفت زدہ قرار دیے گئے ملک کے اس سب سے بڑے شہر کے مسائل کے حل کے لیے ترقیاتی پیکج کا اعلان کرنا تھا۔

وزیراعظم کے اس دورے کے شیڈول میں 2 مرتبہ تبدیلی ہوئی تاہم ہفتے کو جب وزیراعظم عمران خان کراچی پہنچے تو وزیراعلیٰ سندھ، جن کا تعلق پاکستان پیپلزپارٹی سے ہے، وہ انہیں ایئرپورٹ لینے پہنچے اور ان کا استقبال کیا۔

مزید پڑھیں: 'وفاق و حکومت سندھ کا 1100 ارب روپے مختص کرنا کراچی کی ترقی کیلئے اچھا آغاز ہے'

بعد ازاں وزیراعظم نے گورنر ہاؤس میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی تھی، جس میں گورنر، وزیراعلیٰ سمیت عسکری حکام نے بھی شرکت کی تھی۔

اجلاس کے بعد وزیراعظم نے پریس بریفنگ میں کراچی کے لیے 1100 ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا تھا۔

وزیراعظم کی جانب سے اسے 'تاریخی' پیکج کہا گیا تھا جس کا عنوان 'کراچی ٹرانسفارمیشن پلان' رکھا گیا ہے۔

اس پیکج کی سامنے آنے والی تفصیلات میں اس کی مجموعی رقم 11 سو 13 ارب روپے رکھی گئی ہے۔

جسے 5 اہم شعبوں میں خرچ کرنے کے لیے تقسیم کیا گیا ہے۔

ڈان اخبار کی ایک رپورٹ میں اس پیکج کی تفصیلات کے بارے میں بتایا گیا کہ 92 ارب روپے پانی کی فراہمی کے منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ 267 ارب روپے سالڈ ویسٹ منیجمنٹ، برساتی پانی کی نکاسی اور دوبارہ آبادکاری کے منصوبوں پر خرچ ہوں گے۔

11 کھرب 13 ارب کے پیکج میں سیوریج ٹریٹمنٹ پلان کے لیے 141 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

مزید یہ کہ سڑکوں کے منصوبوں کے لیے 41 ارب روپے جبکہ ماس ٹرانزٹ، ریل اور روڈ ٹرانسپورٹ منصوبے کے لیے 572 ارب روپے رکھے ہیں۔

کراچی کے لیے پیکج کے اعلان کے موقع پر وزیراعظم نے کہا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ منصوبوں کے حوالے سے ایک سال کے عرصے میں پہلا مرحلہ جبکہ 3 سال میں دیگر تمام مراحل مکمل کرلیے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم عمران خان کا کراچی کیلئے 11 سو ارب روپے کے پیکج کا اعلان

وزیراعظم نے اعلان کیا تھا کہ اب جو بھی فیصلے کیے جائیں گے اس کی نگرانی پرووِنشل کوآرڈینیشن اینڈ امپلمینٹیشن کمیٹی (پی سی آئی سی) کرے گی۔

علاوہ ازیں سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس 11 کھرب 13 ارب روپے کے پیکج کا خیرمقدم کیا تھا لیکن ساتھ ہی دعویٰ کیا تھا کہ صوبائی حکومت اس میں 800 ارب روپے دے گی جبکہ وفاقی کا شیئر 300 ارب روپے کا ہے۔

کراچی کے ضلع غربی کے دورے پر انہوں نے کہا تھا کہ ہم وفاقی حکومت کی طرف سے کراچی کی ترقی کے لیے 300 ارب روپے کی فنڈنگ کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'سندھ حکومت اس ترقیاتی پیکج میں 800 ارب روپے دے گی'۔