ویکسین کے معاملے میں پاکستان خطے میں بہت پیچھے ہے، بلاول

اپ ڈیٹ 17 جنوری 2021

ای میل

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام تاریخی مہنگائی کا سامنا کررہے ہیں—فوٹو: ڈان نیوز
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام تاریخی مہنگائی کا سامنا کررہے ہیں—فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ویکسین کے معاملے میں ملک بہت پیچھے ہے، بھارت سمیت دیگر پڑوسی ممالک میں ویکسین موجود ہے لیکن پاکستان نے تاحال کوئی ویکسین درآمد نہیں کی۔

کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جلد لاک ڈاؤن کی وجہ سے پاکستان کو وائرس سے کم نقصان ہوا لیکن لگتا ہے کہ ویکسین کے لیے ہمیں بہت زیادہ انتظار کرنا پڑے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس معاملے میں نجی شعبے کو آگے کرے گی جس کے بعد جس کے پاس پیسہ ہوگا وہی ویکسین لگوا سکے گا۔

مزید پڑھیں: کورونا ویکسین پر جھوٹ نہیں بولا گیا، پہلی سہ ماہی تک ویکسین دستیاب ہوگی، اسد عمر

انہوں نے کہا کہ ویکسین کے متعلق ہمیں کہا گیا تھا کہ جنوری تک اپنی تیاری رکھیں اس لیے ہم نے اپنی تمام تیاری کرلی، لیکن تاحال ویکسین کی فراہمی کے بارے میں کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ آج ہی وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیاتی عمل اسد عمر نے کہا تھا کہ کورونا ویکسین سے متعلق قوم سے کوئی جھوٹ نہیں بولا گیا اور رواں سال کی پہلی سہ ماہی تک ویکسین دستیاب ہوجائے گی'

گزشتہ روز معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ پاکستان نے اب تک کورونا وائرس کی کسی ویکسین کے لیے آرڈر نہیں دیا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ نالائق اور نااہل حکومت کو عام شہری کے مسائل کا علم نہیں ہے جس کے باعث اسٹیل ملز کے 10 ہزار ملازمین کو بے روزگار کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام تاریخی مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ حکومت کی ساری پالیسیاں بھی ناکامی سے دوچار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’حکومت کا عوام کو کورونا وائرس ویکسین مفت فراہم کرنے کا فیصلہ‘

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ کے ہسپتالوں بشمول این آئی سی وی ڈی کو اپنے قبضے میں کرنے کے لیے ایک آرڈیننس جاری کیا گیا جو عدالتی فیصلے کے بھی منافی ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ہسپتالوں کا انتظام سنبھالنے سے قبل انہیں واجبات کا معاملہ حل کرنا تھا لیکن اب تک نہیں ہوسکا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 'اس کے باوجود حکومت نے ناکام بورڈ آف گورننس کا آرڈیننس جاری کیے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'مذکورہ آرڈیننس کی وجہ سے خیبر پختونخوا اور پنجاب کا صحت کا نظام غیر فعال ہوچکا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے سرکاری ہسپتالوں میں شہریوں کو مفت علاج فراہم کیا جارہا تھا لیکن اب اس کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔

علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ آرڈیننس کے بعد مستقل ملازمت کے حامل ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملہ غیر مستقل ملازم ہوجائے گا۔

مزید پڑھیں: کیا فائزر کی ویکسین پاکستان میں کورونا کی وبا روک سکے گی؟

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہسپتالوں کا طبی عملہ پینشن سے بھی محروم ہوجائے گا۔

انہوں نے سندھ میں گیس کی لوڈشیڈنگ پر کہا کہ گیس کی ترسیل اور فراہمی میں سندھ کو ترجیح دینی چاہیے، یہ اس کا بنیادی حق ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ یہ ہی وجہ ہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے وزیر اعظم عمران خان کے وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'یہ ناجائز وزیراعظم کی وجہ سے عوام پریشان ہیں، ملک میں بلیک آؤٹ ہوجاتا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے آج تک جواب نہیں دیا کہ بلیک آؤٹ کیوں ہوا؟ جبکہ ملائیشیا میں پی آئی اے کے طیارے کو تحویل میں لیا گیا کیونکہ لیز کی ادائیگی نہیں کی گئی۔

ایک سوال کے جواب میں بلاول نے کہا کہ پی ڈی ایم جماعتیں 19 جنوری کو الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کرے گی اور مطالبہ کریں گی کہ الیکشن کمیشن، سب سے پہلے پی ٹی آئی کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کو منطقی انجام تک پہنچائے، اس کے بعد جس کو چاہے طلب کرے۔

انہوں نے سینیٹ انتخابات کے متعلق صدارتی ریفرنس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ایک بار پھر ایک ادارے کو متنازع بنانے کی کوشش کی ہے اور اس معاملے میں عدالت کا کوئی کردار نہیں ہے۔