قومی اسمبلی میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور

اپ ڈیٹ 18 مئ 2021
—فائل/فوٹو: ڈان نیوز
—فائل/فوٹو: ڈان نیوز

قومی اسمبلی میں اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جاری وحشیانہ کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فلسطینیوں سے اظہار یک جہتی کے لیے قرار داد متفقہ طورپر منظور کرلی گئی۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے پیش کی گئی قرار داد میں کہا گیا کہ 'یہ ایوان اسرائیل کی نسل پرست حکومت کی طرف سے فلسطینی عوام کے خلاف بڑھتے ہوئے مظالم پر گہرے تشویش کا اظہار کرتا ہے'۔

مزید پڑھیں: 'غزہ کی صورتحال پر جنرل اسمبلی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے، جہاں فیصلے ویٹو نہیں ہوسکتے'

متفقہ قرار داد میں واضح کیا کہ 'اسرائیل کی طرف سے منظم اور ادارہ جاتی مظالم اور فلسطین کے عوام کو محکوم بنانے کی شدید مذمت کرتے ہیں'۔

حکومت اور اپوزیشن کی متفقہ قرارداد میں کہا گیا کہ 'فلسطین کے عوام کی املاک پر قبضہ، ان کو بے دخل کرنے اور ان کی نسل کشی کرنے کی بھی مذمت کرتے ہیں'۔

قرار داد کے ذریعے 'نسلی پرست حکومت کی جانب سے جبری بے دخلی کے ذریعے آباد کاری کی توسیع کو مسترد کیا گیا اور اس کو فورتھ جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 49 کی خلاف ورزی قرار دیا گیا'۔

قومی اسمبلی سے متفقہ طور پر منظور ہونے والی قرار داد میں کہا گیا کہ 'فلسطین کے عوام کی ان کے حق خود ارادیت کے لیے جاری جدوجہد کی حمایت کرتے ہیں'۔

قرارداد میں فلسطینیوں کے حق کے خلاف کیے جانے والے مختلف اقدامات کو بھی مسترد کردیا گیا۔

قومی اسمبلی میں متفقہ طور پر قرارداد کے ذریعے اعادہ کیا گیا کہ فلسطین کے بہادر اور مزاحم عوام کے ساتھ پاکستان اپنی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

قبل ازیں قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف شہباز شریف نےایوان میں فلسطین میں جاری جرائم کے خلاف متفقہ مذمتی قرارداد پیش کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور عالمی برادری نے اقدامات نہ کیے اور ہم نے متحرک کردار ادا نہ کیا تو نہ صرف یہ پورا علاقہ خطرات میں گھر جائے گا بلکہ ہمیں ہماری نسلیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل، بھارت کے عزائم ناپاک اور دونوں میں بے پناہ مماثلت ہے، شہباز شریف

بعد ازاں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے خطاب میں فلسطینیوں کی ہر ممکن حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کرتے ہوئے متفقہ قرارداد پیش کرنے کو سراہا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ بحیثیت وزیرخارجہ پاکستان اس ایوان کو مبارک باد پیش کروں گا کہ آج آپ نے میرے ہاتھ مضبوط کیے ہیں اور متفقہ قرار داد سے لیس کرکے مجھے بھیج رہے ہیں، اس سے یقیناً پاکستان کا وقار بلند ہوگا اور پاکستان کی ترجمانی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان نے اپنا مؤقف دو ٹوک الفاظ میں پیش کردیا ہے، اس مؤقف کو سراہا گیا ہے، اس مؤقف کی تعریف کی گئی ہے۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ فلسطین میں جارحیت ہوئی ہے اور مسلسل جاری ہے ہم نے اس کی مذمت کی ہے اور کریں گے۔

تبصرے (0) بند ہیں