جب ایک ملزم نے آسیب کے قبضے کے باعث قتل کرنے کا دعویٰ کیا

07 جون 2021
— رائٹرز فائل فوٹو
— رائٹرز فائل فوٹو

ایڈ اور لورین وارن ایک بار پھر ایک دہشتناک کہانی پردہ اسکرین پر بیان کرنے کے لیے لوٹ آئے ہیں۔

دی کونجیورنگ : دی ڈیول میڈی می ڈو اٹ دنیا کے مختلف ممالک میں ریلیز کی جاچکی ہے جس کے ٹریلر بھی چونکا دینے والے ہیں۔

مزید پڑھیں : قریب المرگ افراد کو کن احساسات کا تجربہ ہوتا ہے؟

فلم کی کہانی کتنی افسانوی ہے اس بارے میں تو آپ ہی فیصلہ کرسکتے ہیں مگر اس فلم کا پلاٹ ایک حقیقی واقعے کے گرد گھومتا ہے جو اتنا ہی دنگ کردینے والا ہے۔

کونجیورنگ سیریز کو دیکھنے والوں کو علم ہوگا کہ اس میں دکھائے جانے والے مرکزی کردار یعنی ایڈ اور لورین وارن حقیقی زندگی کے کرداروں سے ماخوذ ہیں۔

فلم کا ایک سین، اسکرین شاٹ
فلم کا ایک سین، اسکرین شاٹ

یہ جوڑا امریکا سمیت دنیا بھر میں ماورائی واقعات کی تحقیقات کے لیے جانا جاتا تھا اور ان کے مختلف کیسز کو ہی اس سیریز کی فلموں کا حصہ بنایا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : جیل توڑ کر فرار ہونے والے قیدیوں کا وہ واقعہ جو اب بھی ذہن گھما دیتا ہے

کونجیورنگ 1 اور 2 بھی ایسے ہی کیسز پر مبنی تھیں مگر تیسری فلم کے لیے جس کیس کا انتخاب کیا گیا وہ امریکا کی تاریخ کا بھی اس طرز کا پہلا واقعہ تھا۔

کیا ہوا تھا؟

اصلی آرنی جانسن عدالت میں جاتے ہوئے، اے پی فوٹو
اصلی آرنی جانسن عدالت میں جاتے ہوئے، اے پی فوٹو

1981 میں ریاست کنیکٹیکٹ کے ایک چھوٹے قصبے میں ایک قتل ہوا جو امریکی تاریخ کے فوجداری مقدمات میں بے نظیر حیثیت رکھتا ہے۔

یہ بھی جانیں : 6 دہائیوں پرانا ‘آسیب زدہ’ معمہ حل کرلیا گیا

فیئر فیلڈ کاؤنٹی میں ایک نوجوان وکیل ایک ایسے جوان ملزم کی نمائندگی عدالت میں کررہا تھا جس کا کہنا تھا کہ اس نے اپنے مالک مکان کا قتل آسیب کے قبضے میں ہونے کی وجہ سے کیا۔

19 سالہ آرنی جانسن پر 40 سالہ ایلن بونو کے قتل کا الزام تھا جو امریکا سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا اور اس مقدمے کو'دی ڈیول میڈ می ڈو اٹ' کا نام دیا گیا۔

رونگٹے کھڑے کردینے والی کہانی : اپنا ہاتھ کاٹ کر خود کو بچانے والے شخص کی رونگٹے کھڑے کردینے والی داستان

اس مقدمے نے ایڈ اور لورین وارن کی توجہ بی کھینچ لی تی جو پہلے ہی 'آسیب زدہ' مقامات والے متعدد معاملات کی تحقیقات کرچکے تھے۔

فلم میں مقدمے کی بجائے زیادہ توجہ آرنی کی گرل فرینڈ کے چھوٹے بھائی پر آسیب کے قبضے کو بنیاد بنایا گیا ہے۔

ایک اور دلچسپ داستان پڑھیں : 8 چہروں والا وہ شخص جس نے لاکھوں ذہن گھما کر رکھ دیئے

یعنی فلم میں وارن خاندان کے خیالات کو بیان کیا گیا ہے مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ ملزم کے دفاع کی بنیاد پر کیس کا فیصلہ کیا ہوا۔

16 فروری 1981 کو ہونے والے اس قتل کے بارے میں پولیس کا کہنا تھا کہ الکحل پر ہونے والے اس تنازع پر ملزم نے چاقو کے متعدد وار کرکے 40 سالہ شخص کو قتل کردیا تھا۔

مزید پڑھیں : وہ خاتون جو ہر 24 گھنٹے بعد 26 سال پہلے کے ‘عہد’ میں پہنچ جاتی ہے

اس وقت قصبے میں پولیس کی سربراہی کرنے والے ان اینڈرسن نے کہا کہ یہ کوئی غیرمعمولی جرم نہیں تھا، ایک شخص مشتعل ہوا اور پر بحث کا نتیجہ قتل نکلا، مگر ملزم کے مؤقف نے اسے دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنادیا۔

آرنی جانسن کو اس دن جائے واردات سے 2 میل دور گرفتار کیا گیا تھا اور اس کا کہنا تا کہ اسے واقعے کے بارے میں کچھ یاد نہیں۔

یہ بھی جانیں : 3 بڑے بحری حادثات میں بچ جانے والی 'دنیا کی خوش قسمت ترین خاتون'

اس دن وہ اپنی منگیتر ڈیبی گلاٹیز، اس کی 9 سالہ کزن میری اور اپنی چھوٹی بہن وانڈا کے ساتھ موجود تھا۔

ڈیبی نے پولیس کو بتایا کہ قاتلانہ ملے سے قبل نشے میں دھت ایلن بونو وہاں آیا، جس کے لیے وہ کتوں کو پرورش دینے کا کام کرتی تھی، اس نے میری کو دبوچ لیا اور چھوڑنے سے اننکار کردیا۔

یہ دلچسپ داستان بھی جانیں : وہ مجرم جو حقیقی معنوں میں ہوا میں غائب ہوکر اب تک معمہ بنا ہوا ہے

آرنی نے مداخلت کی اور کسی جانور کی طرح آوازیں نکالنے لگا اور پر چاقو نکال کر متعدد وار کیے۔

ڈیبی کے مطابق اس واقعے کئی ماہ قبل ہی اس کے منگیتر کے رویے میں عجیب تبدیلیاں آئی تیں، وہ اکثر گر جاتا، غرانے لگتا، عجیب و غریب مناظر دیکھتا، جس کے بعد اسے کچھ یاد نہیں رہتا۔

یہ بھی پڑھیں : دنیا کا خوش قسمت ترین انسان جو خود کو بدقسمت قرار دیتا ہے

ایسا ہی رویہ اس کے چھوٹے بھائی میں بی 1980 کے موسم گرما میں نظر آیا تا جب وہ اس جوڑے کے کرائے کے گھر میں داخل ہوا۔

11 سالہ ڈیوڈ کو ایک بوڑھا شخص اس گھر میں نظر آتا تھا جو اسے واٹر بیڈ پر دھکیلتے ہوئے ہوشیار رہنے کا کہتا اور جلد اس بچے کا رویہ عجیب ہوگیا، راتوں کو چلانا، خراشیں، زخم جسم پر نظر آنے لگے، جس کے بعد خاندان نے وارن فیملی سےمدد کے لیے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔

حقیقی ایڈ اور لورین وارن، فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
حقیقی ایڈ اور لورین وارن، فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا

وارن فیملی کا کہنا تھا کہ انہوں نے وہاں جو دیکھا وہ بہت پریشان کردینے والا تھا، کیتھولک چرچ کی تفتیش کے مطابق ڈیوڈ پر کسی آسیب نے قبضہ کرلیا تھا۔

یہ اسرار بھی پڑھیں : وہ پراسرار بیماری جس نے لاکھوں افراد کو ‘زندہ بت’ بنادیا تھا

لورین وارن نے 2007 میں اس کیس کے حوالے سے شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا 'یہ صرف ایڈ اور میرا ماننا نہیں تھا بلکہ چرچ کے اراکین بھی اس کا حصہ تھے اور ہمیں حیران کن واقعات کا سامنا ہوا'۔

ان کا تو دعویٰ تھا کہ ایک موقع پر وہ بچہ ہوا میں اڑنے لگا۔

یہ بھی جانیں : اس ‘آسیب زدہ’ ٹرین کے بارے میں کبھی آپ نے سنا ہے؟

1981 میں عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران ایڈ وارن نے کہا تھا کہ وہ اور ان کی بیوی نے ڈیوڈ کے اندر '43 آسیب' دیکھے تھے۔

مگر وہاں کے پادری نکولس گریسو نے پیپل میگزین کو بتایا کہ چرچ کی جانب سے معاملے کی تحقیقات کی گئی مگر آسیب نکالنے کا کوئی عمل نہیں ہوا جبکہ متاثرہ خاندان نے ڈیوڈ کے نفسیاتی ٹیسٹ بھھی جمع نہیں کرائے تھے۔

یہ بھی پڑھیں : 18 سال تک ایئرپورٹ پر پھنسا رہنے والا مسافر

اس قتل کے مقدمے کی سماعت اکتوبر 1981 میں شروع ہوئی اور اس کے وکیل مارٹین مائننیلا نے میڈیا کو بتایا کہ اس کا ماننا ہے کہ مقتول کے جسم میں چاقو کے وار اتنے گہرے ہیں جو انسانی ہاتھوں سے ممکن نہیں، جبکہ آسیب کے قبضے کے دفاع کا خیال وارن فیملی نے دیا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مقدمے کی سماعت کے موقع پر فلمی اسٹوڈیوز نے اس کیس میں بہت زیادہ دلچسپی ظاہر کی تھی، جس کی تصدیق لورین وارن نے بھی ایک انٹرویو کے دوران کی۔

مزید پڑھیں : 6 دہائیوں سے معمہ بنی ہوئی تصویر جس کا راز اب تک معلوم نہیں ہوسکا

تاہم جج نے وکیل دفاع کے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح کے بیانات غیرمتعلقہ اور غیرسائنسی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ مقدمے کے دوران آسیب کے قبضے کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا گیا اور 24 نومبر کو جیوری نے آرنی جانسن کو قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے 10 سے 20 سال قید کی سزا سنائی، تاہم اسے 5 سال بعد رہا کردیا گیا۔

دنگ کردینے والی داستان : وہ باہمت شخص جو سمندر میں گم ہوکر 438 دن گزار کر زندہ بچ گیا

آرنی جانسن اور ڈیبی نے 1984 میں شادی کرلی تھی، اس وقت آرنی جیل میں تھا اور آسیب کے اپنے مؤقف پر قائم تھا۔

انٹرنیٹ بدل دینے والی داستان پڑھیں : وہ تصویر جس نے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی دنیا میں انقلاب برپا کردیا

2007 میں ڈیبی کے ایک اور بھائی کارل نے کہا تھا کہ عدالتی سماعت کے دوران جو کچھ بھی کہا گیا اس میں سے بیشتر جھوٹ تھا، انن کے خاندان کی مجبوریوں کا فائدہ وارن فیملی نے اٹھایا۔

حیران کن اسرار کا راز جانیں : مخصوص ساحلوں پر بہہ کر آنے والے انسانی پیروں کا حیران کن اسرار

تاہم لورین وارن نے جن کے شوہر کا انتقال اسی سال ہوا تھا، نے اس کی تردید کی تی۔

تبصرے (0) بند ہیں