حکومت سندھ کا کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے معاملے پر تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا اعلان

اپ ڈیٹ 20 اکتوبر 2020

ای میل

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ—تصویر: ڈان نیوز
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ—تصویر: ڈان نیوز

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری سے متعلق معاملے کی تحقیقات کے لیے وزرا پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا اعلان کردیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ جو کچھ ہوا اس کی انکوائری لازمی ہے، رفقا کے ساتھ صلاح مشورے سے فیصلہ کیا ہے کہ حکومت سندھ اس معاملے کی تحقیقات کرے گی جس میں 3 سے 5 وزرا شامل ہوں گے تاہم ابھی ناموں کو حتمی شکل نہیں دی گئی۔

کراچی میں وزیراعلیٰ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم پولیس اور اداروں سے پوچھیں گے اور معاملے کے حقائق سامنے لائیں گے جبکہ اس کمیٹی میں وہ ارکان ہوں گے جن کا اس معاملے میں کوئی کردار نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری وفاقی حکومت کی ایما پر ہوئی، ناصر حسین شاہ

انہوں نے کہا کہ کمیٹی سب کو تفتیش کے لیے بلا کر حکومت کے لیے ایک نقطہ نظر تشکیل دے گی اور اس سے پہلے کوئی بات کرنا مناسب نہیں ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا 18 اکتوبر کو ہونے والا جلسہ کراچی کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ تھا، جلسے کے موقع پر مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے مزار قائد پر حاضری دی اور وہاں نعرے بازی ہوئی جو مناسب نہیں تھی لیکن یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا تھا اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے یہی چیزیں دیکھی گئی تھیں اور انہوں نے مزار کے تقدس کو پامال کیا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ سیاسی معاملہ نہیں تھا، لیکن پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی نے آکر پولیس کو مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی لیکن انہیں سمجھایا گیا کہ قانون کے تحت ایسا نہیں ہوسکتا جس کے بعد ان اراکین کے ساتھ قائد اعظم بورڈ کے رکن نے درخواست دی اور ایک مرتبہ پھر سمجھایا گیا کہ اس حوالے سے درخواست مجیسٹریٹ کو دی جاتی ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پولیس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی لیکن پولیس دباؤ میں نہیں آئی، پولیس کو ڈرانا اور دھمکانا منتخب نمائندوں کا کام نہیں ہوتا۔

مزید پڑھیں: گرفتار کیپٹن (ر) محمد صفدر کی ضمانت منظور

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کوئی غلط کام کرنے کے لیے پولیس کو نہیں کہے گی، ہم رات کو جلسے سے شرکت کرکے واپس چلے گئے اور صبح پتا چلا کہ کیا ہوا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاقی وزرا کی بوکھلاہٹ عیاں تھی اور انہیں کوئی غیر قانونی کام کرنا تھا اس لیے ایک شخص سے درخواست دلوائی جس کے ساتھ پی ٹی آئی کے رہنما کھڑے تھے جس میں وقاص نامی شخص نے کہا کہ مجھے جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی تو اگر یہ شخص وہاں موجود تھا تو کیا کسی منصوبہ بندی سے تھا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اگر کسی جماعت کا کوئی ایونٹ ہو اس میں دوسری جماعت کا شخص گیا ہو تو اس کا مطلب کوئی سازش کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے میٹنگ کرکے منصوبہ بندی کی کہ اپنے مذموم مقاصد کے لیے قائد اعظم کے مزار کو استعمال کرنا ہے، ان کو ذرا سی بھی شرم ہے کہ اپنی غلط حرکتوں کے لیے کیا کیا چیز استعمال کرتے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ مزار قائد پر جو کچھ نامناسب ہوا اس پر قانون کے مطابق ایکشن ہونا لیکن غیر قانونی طور پر قائداعظم کے مزار کا استعمال کرتے ہوئے انہوں نے 506 بی کا مقدمہ درج کروایا۔

یہ بھی پڑھیں: علی زیدی کی 'آئی جی سندھ کے اغوا' سے متعلق خبروں کی تردید

مراد علی شاہ کے مطابق ان افراد کا ارادہ یہی تھا کہ جلسے میں کوئی تخریب کاری کی جائے۔

انہوں نے کہا وقاص نامی شخص نے ایف آئی آر میں کہا کہ وہ ساڑھے 4 بجے مزار قائد پر موجود تھا لیکن اس کے فون نمبر سے یہ ٹریس آؤٹ ہوا کہ وہ 4:45 سے لے کر 4:52 تک یہ صاحب بقائی میڈیکل یونیورسٹی ہسپتال کے ٹاور کے قریب موجود تھے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ اگر کوئی عام شہری مقدمہ درج کرواتا ہے تو اس کے ساتھ پی ٹی آئی کی پوری ٹیم عدالت میں کیوں گئی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ خود وزیراعظم اپنی بوکھلاہٹ میں اداروں کو ملوث کرتے ہیں، یہ ملک کو کس جانب لے کر جارہے ہیں، مہنگائی کا ایک طوفان برپا ہے،سندھ کو این ایف سی کا حصہ نہیں دیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو کچھ یہ کررہے ہیں ملک کے مفاد میں نہیں ہے ملک کے مفاد میں یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ختم ہو اور درست طریقے سے جمہوریت لائی جائے جس کے لیے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کام کررہی ہے۔

مزید پڑھیں: کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری وفاقی حکومت کی ایما پر ہوئی، ناصر حسین شاہ

یاد رہے کہ 18 اکتوبر کو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے جلسے کے سلسلے میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت کراچی آئی تھی جس نے مزار قائد پر حاضری دی تھی، اس دوران کیپٹن (ر) صفدر اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنان نے ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگائے تھے۔

بعد ازاں شام ہونے والے جلسے کے چند گھنٹوں بعد کراچی کے ایک ہوٹل سے مسلم لیگ (ن ) کے رہنما کیپٹن(ر) صفدر کو مزار قائد کے تقدس کی پامالی سے متعلق مقدمے پر گرفتار کرلیا گیا تھا۔

حکومت سندھ کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے رہنما کی گرفتاری وفاقی حکومت کی ایما پر ہونے کا الزام عائد کیا تھا جنہیں بعد میں عدالت نے ضمانت پر رہا کردیا تھا۔

پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے وزرا کمیٹی کو مسترد کردیا

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی پریس کانفرنس کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اراکین صوبائی اسمبلی حلیم عادل شیخ اور خرم شیر زمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کی تحقیقات کے لیے وزرا کمیٹی کی تشکیل کو مسترد کر دیا۔

حلیم عادل شیخ نے حکومت سندھ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپنے سیاسی مخالفین کو مقدمہ میں شامل کیا جاتا ہے اور وقاص خان کو جھوٹے مقدمے میں شامل کیا گیا اور اس مقدمے میں 3 ہزار افراد شامل تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں وقاص خان کو سلام پیش کرتا ہوں کیونکہ پی ٹی آئی کا کارکن ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کی پریس کانفرنس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے کارکن کو دھمکیاں دی گئیں تو مقدمہ درج کروانے کے لیے ہم وہاں گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے یہ ایف آئی آر کیوں درج کی ہے اس کا جواب ایس ایچ او سے لے لیں، ہم نے تین درخواستیں جمع کرائی تھیں، ایک درخواست مزار قائد، دوسری راجا اظہر اور ایک وقاص خان کی درخواست تھی۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا دال میں کچھ کالا ہے، مریم بی بی آپ ان کو سندھ میں اچھی نہیں لگتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کیپٹن (ر) صفدر کی ضمانت ہوئی لیکن اس کا اعلان جوڈیشل مجسٹریٹ کے بجائے مریم نواز نے کی جو اس نوعیت کا پہلا کیس ہے۔

حلیم عادل شیخ کا کہنا تھا کہ عدالت میں وکلا بحث کر رہے تھے اور سماعت جاری تھی لیکن مریم نواز نے اعلان کیا کہ ضمانت ہوگئی ہے اور ہم گھر واپس جارہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے وکلا سے کہہ دیا ہے کہ ایم آئی ٹی میں درخواست دیں جبکہ ضمانت کی منسوخی کے لیے بھی عدالت جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صفدر کو جیل بھیجے بغیر عدالت سے کیوں رہا کیا گیا، اس کی بھی انکوائری ہوگی۔

حلیم عادل شیخ کا کہنا تھا کہ وزرا کمیٹی کے بجائے معاملے کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی قائم کی جائے۔

اس موقع پر خرم شیرزمان نے کہا کہ نالائق اعلی کی پریس کانفرنس سے مایوسی ہوئی، وزیراعلیٰ کبھی توماسک پہن کرہاتھ جوڑ رہا ہوتا ہے تو کبھی کچھ اورایکٹنگ کر رہا ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جلسے کے لیے بسوں میں لوگوں کو بھر بھر کر لایا گیا اور 60 سے 70 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، اگر کورونا وائرس کے کیسز بڑھ گے تو وزیر اعلیٰ کے خلاف ایف آئی آر درج کر وادی جائے گی، جتنی کرپشن سندھ میں ہے گنیزبک آف ورلڈ ریکارڈ بک میں بھی نہیں ہے۔

خرم شیر زمان کا کہنا تھا کہ یہ جلسے کرنے سے ایک دن قبل تک بازار، ریسٹورنٹس اور اسکول سیل کر رہے تھے، اس صوبے میں پینے کا پانی نہیں ہے، ایک ہسپتال ہے جو کرپشن سے بھرا پڑا ہے، یہ پیسہ عوام کا پیسہ ہے، کورونا وائرس کے دوران ہسپتال کروڑ پتی بن گئے جبکہ یہ ہسپتال عوام کو ایک پیراسیٹامول تک نہیں دیتے۔

وزیراعلیٰ سندھ کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا کہ محمد زبیر کے بیان پر خاموش ہے، ہمت ہے تو کھل کر سامنے آئے، ہم نے تو یہ مؤقف رکھا تھا کہ قائد اعظم منیجمنٹ بورڈ نے جو درخواست دی ہے اس پر ایف آئی آر کاٹ دیں لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے کیپٹن (ر) صفدر کو گرفتار کر وایا اور میں اس پر ان کو داد دیتا ہوں۔