بھارتی اسپانسرڈ فتنۃ الہندوستان اور فتنۃ الخوارج عوام مخالف پروپیگنڈا کررہے ہیں، آرمی چیف سید عاصم منیر کا 17 ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب، آئی ایس پی آر
اپ ڈیٹ21 اکتوبر 202507:02pm
خیبرپختونخوا کی پولیس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کردارادا کررہے ہے، بلٹ پروف گاڑیاں پولیس جوانوں کاتحفظ یقاینی بنانے کے لیے دی گئی تھیں، وزیر مملکت برائے داخلہ کا ویڈیو بیان
دہشت گرد سیاست سے روکنا چاہتے ہیں لیکن وہ قتل غارت گری سے خوف زدہ نہیں ہوں گے اور اپناآئینی کردار ادا کرتے رہیں گے، سرفراز بگٹی کا بلوچستان اسمبلی کے اجلاس سے خطاب
پائپ لائن بچھانے والے عملے کی اطلاع پر سیکیورٹی فورسز کا قریبی جنگل میں فتنۃ الخوارج کے ٹھکانے پر آپریشن، دہشت گرد پائپ لائن پچھانے والی ٹیم پر حملے کا ارادہ رکھتے تھے، سیکیورٹی ذرائع
پاکستان سے فتنۃ الہندوستان کا خاتمہ کرکے دم لیں گے، بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کے مذموم عزائم کامیاب نہیں ہوں گے، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات میں گفتگو
مارے گئے دہشت گرد کانسٹیبل جمال الدین اور ڈرائیور کانسٹیبل زاہد کو شہید کرنے سمیت قتل، اقدام قتل، بھتہ خوری اور دہشتگردی کے دیگر مقدمات میں مطلوب تھے۔ سی ٹی ڈی
گرفتار خود کش بمبار کے انکشافات اس بات کا ثبوت ہیں کہ افغان طالبان کم عمر نوجوانوں کی ذہن سازی کر رہے ہیں، ان نوجوانوں کو افواج پاکستان کے خلاف دہشتگردانہ سر گرمیوں پر اُکسایا جاتا ہے، سیکیورٹی ذرائع
فتنۃ الہندوستان کا دہشت گرد جمیل عرف ٹیٹک پنجگور اوربلیدہ سمیت متعدد علاقوں میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں سرگرم تھا، 2022 میں پنجگور ہیڈکوارٹر پر حملے سمیت کئی کارروائیاں میں بھی ملوث رہا، ذرائع
حملے کے دوران 3 خواتین اور 2 بچے جل کر جاں بحق ہوگئے، خارجی دہشتگرد گل بہادر گروپ نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کی، خارجی گل بہادر افغان طالبان کی سرپرستی میں افغانستان میں چھپا ہوا ہے، سیکیورٹی ذرائع
دہشت گردوں نے بارودی مواد سے بھرے رکشہ کے ذریعے حملے کی کوشش کی، چوکی میں موجود پولیس کے بہادر جوانوں نے بروقت اور مستعدانہ کارروائی کرتے ہوئے دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنائے، سیکیورٹی ذرائع
میر علی میں خوارج کی سیکیورٹی کیمپ پر حملے کی کوشش ناکام، خودکش بمبار سمیت 4 دہشت گرد مارے گئے، دتہ خیل میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں کمانڈر محبوب سمیت 6 خوارج ہلاک ہوئے، لکی مروت میں 8 خوارج مارے گئے۔ سیکیورٹی ذرائع
فتنۃ الخوارج کی جانب سے پاک-افغان سیز فائر کا فائدہ اٹھاکر دراندازی کی کوشش کی گئی تھی، ہلاک خوارج افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے آئے تھے، سیکیورٹی ذرائع
جھڑپیں 13 سے 15 اکتوبر کے درمیان ہوئیں، شمالی وزیرستان میں فائرنگ کے تبادلے میں 18 دہشت گرد ، جنوبی وزیرستان اور بنوں میں 8، 8 دہشت گرد مارے گئے، آئی ایس پی آر
جو بات ریاست قبول کرنے کو تیار نہیں وہ یہ ہے کہ عسکریت پسندی میں اضافے کا براہ راست سیاسی عدم استحکام سے تعلق ہے جبکہ تمام الزامات بیرونی قوتوں پر ڈال دینا بھی کافی نہیں ہے۔
ابتدائی حملے میں 3 خوارج کو جہنم واصل کیا گیا، ایک دہشت گرد نے باردو سے بھری گاڑی اسکول کی دیوار سے ٹکرائی، بقیہ 2 دہشت گردوں کو کلیئرنس آپریشن کے دوران انجام تک پہنچایا گیا۔
حسن خیل پولیس نے دہشتگرد حملہ بہادری سے پسپا کر دیا، مزید 3 دہشت گردوں کو گھیر لیا گیا، مقابلہ جاری، فورسز کی مزید نفری روانہ کر دی گئی، سی سی پی او پشاور
خیبرپختونخوا میں کچھ لوگ قیام امن کی راہ میں رکاوٹ ہیں، گزشتہ دور میں ہر روز دہشتگردی کے واقعات ہوتے تھے، بانی اور پی ٹی آئی دہشتگردوں کے ہر فورم پر حامی رہے، عطا تارڑ کی میڈیا سے گفتگو
آج افغان حکومت کے اعلیٰ حکام دہلی میں بیٹھ کر بیان دے رہے ہیں، اگر افغانستان نے ان کا آلہ کار بننے کی کوشش کی تو انہیں بھی جواب دیا جائے گا، خواجہ آصف
پولیس ٹریننگ سینٹر پر 7 سے 8 دہشت گردوں نے بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا،ایک دہشتگرد نے خود کو دھماکے سے اڑالیا، جوابی کارروائی میں دو دہشتگرد مارے جاچکے ہیں، ڈی پی او
ریاست پاکستان اور اس کے عوام کو کسی فرد واحد کی خواہش کی بھینٹ نہیں چڑھایا جاسکتا، وہ فرد تن تنہا انتہائی غیر ذمہ داری سے دہشت گردی کو پاکستان اور بالخصوص خیبرپختونخوا میں واپس لایا، پریس کانفرنس
مارا گیا دہشت گرد راشدین عرف ملنگ 4 سی ٹی ڈی اہلکاروں کی شہادت کا ماسٹر مائنڈ تھا، دہشت گرد خالد عثمان بھی سی ٹی ڈی اور پولیس پر حملوں میں ملوث تھا، سی ٹی ڈی
مصدقہ انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر ضلع اورکزئی کے علاقے جمال مایہ میں کارروائی کی گئی، شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد بھارت کے حمایت یافتہ تمام 30 خوارج مارے گئے، آئی ایس پی آر
دہشت گردی کا سر نہ کُچلا تو سب کی محنت رائیگاں چلی جائے گی، وقت آگیا ہے کہ ہم مزید انتظار نہیں کرسکتے، آگ اور پانی کا کھیل مزید نہیں چل سکتا، شہباز شریف کا وفاقی کابینہ اجلاس سے خطاب