کراچی: احتساب عدالت نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن سمیت 12 ملزمان پر سندھ کے محکمہ اطلاعات میں 5 ارب 76 کروڑ روپے کی بد عنوانی کے خلاف دائر ریفرنس میں فردِ جرم عائد کردی۔

شرجیل انعام میمن اور سندھ کے محکمہ اطلاعات کے دیگر افراد کے خلاف محکمے میں مبینہ بدعنوانی کے حوالے سے احتساب عدالت میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر ریفرنس کی سماعت ہوئی۔

احتساب عدالت کی جانب سے شرجیل انعام شمیت اس ریفرنس میں نامزد تمام ملزمان پر فردِ جرم عائد کی گئی اور کمرہ عدالت میں موجود ملزمان کو فردِ جرم پڑھ کر سنائی گئی۔

مزید پڑھیں: نیب ریفرنس: شرجیل میمن نے نیب میمو چیلنج کردیا

نیب کی جانب سے دائر ریفرنس میں نامزد تمام ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کیا۔

مذکورہ ریفرنس کی سمانت بند کمرے میں ہوئی جہاں میڈیا نمائندوں کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

ملزم عاصم سکندر، ریاض منیر، انعام اکبر اور محمد حنیف کی جانب سے فردِ جرم پر اعتراضات عدالت میں جمع کرادیئے گئے جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا کہ جو دستاویزات قانون کے مطابق فراہم کی جانی تھیں وہ نہیں کی گئیں۔

احتساب عدالت نے کیس کی کارروائی 3 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر استغاثہ کے گواہان کو طلب کر لیا۔

سیاسی بنیادوں پر مقدمات درج کیے گئے، شرجیل میمن

احتساب عدالت کے باہر شرجیل انعام میمن نے میڈیا نمائندوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ نیب کی جانب سے دائر ریفرنس میں ان کے خلاف ٹھوس شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں نے محکمہ اطلاعات کی جانب سے اشتہارات میرٹ کی بنیاد پر دیئے تھے، جس میں کوئی بدعنوانی نہیں کی گئی، میرے خلاف سیاسی بنیادوں پر مقدمات درج کیے گئے‘۔

سندھ کے محکمہ اطلاعات میں کرپشن — کب کیا ہوا؟

خیال رہے کہ سابق صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن، اس وقت کے صوبائی سیکریٹری اطلاعات، ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن ڈپارٹمنٹ اور دیگر پر 15-2013 کے دوران سرکاری رقم میں 5 ارب 76 کروڑ روپے کی خرد برد کا الزام ہے۔

سابق صوبائی وزیر پر الزام ہے کہ انہوں نے مذکورہ رقم صوبائی حکومت کی جانب سے آگاہی مہم کے لیے الیکٹرونک میڈیا کو دیے جانے والے اشتہارات کی مد میں کی جانے والی کرپشن کے دوران خرد برد کی۔

یہ بھی پڑھیں: 'شرجیل میمن کیخلاف کروڑوں کے غبن کی انکوائری'

شرجیل انعام میمن نے 2015 میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرلی تھی اور تقریباً 2 سال تک بیرون ملک رہنے کے بعد جب وہ گزشتہ برس 18 اور 19 مارچ کی درمیانی شب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچے، تو انہیں قومی احتساب بیورو (نیب) کے اہلکاروں نے ایئرپورٹ سے ہی گرفتار کرلیا تھا۔

تاہم 2 گھنٹے پوچھ گچھ کرنے اور ضمانتی کاغذات دیکھنے کے بعد نیب راولپنڈی کے اہلکاروں شرجیل میمن کو رہا کردیا تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس مارچ میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے 20 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض شرجیل میمن کی حفاظتی درخواست ضمانت منظور کی تھی۔

یہ بھی یاد رہے کہ 23 اکتوبر 2017 کو سندھ ہائی کورٹ نے نیب کی اپیل پر شرجیل انعام میمن سمیت دیگر ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی جس کے بعد نیب کی ٹیم نے انھیں عدالت سے باہر آتے ہی گرفتار کرلیا تھا۔

بعدِ ازاں سابق صوبائی وزیر سمیت 12 ملزمان کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں ضمانت کے لیے درخواستیں دائر کی گئی تھی جنہیں چیف جسٹس احمد علی ایم شیخ کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے مسترد کردیا تھا۔

یاد رہے کہ 25 نومبر 2017 کو شرجیل میمن نے سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت کی درخواست مسترد کرنے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

4 دسمبر 2017 کو ہونے والی سماعت بغیر کسی کارروائی کے ملتوی کردی گئی تھی جس میں ممکنہ طور پر ان کے اور دیگر شریک ملزمان کے خلاف فردِ جرم عائد کی جانی تھی۔

سماعت سے قبل شرجیل میمن کے وکیل کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ سابق صوبائی وزیر کی طبیعت نا ساز ہے اور انہیں طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے۔

13 دسمبر 2017 کو ہونے والی سماعت کے دوران احتساب عدالت نے شرجیل انعام میمن کی طبی سہولیات کی تشخیص کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیتے ہوئے اس میں نیورولوجسٹ، نیورو فیزیشنز اور دیگر ڈاکٹروں کو شامل کرنے کی ہدایت جاری کی تھی جبکہ سیکریٹری صحت کو بھی اس حوالے سے جواب جمع کرنے کی ہدایت کی تھی۔

23 دسمبر 2017 کو شرجیل میمن اور دیگر ملزمان کی جانب سے احتساب عدالت میں درخواست دائر کی گئی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ نیب حکام نے اپنی رپورٹ میں ملزمان کی گرفتاری سے متعلق عدالت کو گمراہ کیا تاہم ان کی گرفتاری کے اقدامات کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔

شرجیل انعام میمن کی جانب سے دائر درخواست کے بعد عدالت نے ملزمان پر فردِ جرم عائد کرنے کی کارروائی آئندہ سماعت تک مؤخر کردی تھی۔

سابق صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن سمیت دیگر ملزمان کی جانب سے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں سپریم کورٹ میں بھی دائر کی گئیں تھیں جنہیں 2 جنوری 2018 کو عدالتِ عظمیٰ نے کو مسترد کردیا تھا۔