سندھ کی 6 احتساب عدالتوں میں کرپشن کے 250 سے زائد مقدمات زیرِ التوا

25 اگست 2019

ای میل

وکلا، پراسیکیوشن اور عدالتی ذرائع نے ایک دوسرے کو مقدمات میں تاخیر کا ذمہ دار قرار دیا — فوٹو: نیب ویب سائٹ
وکلا، پراسیکیوشن اور عدالتی ذرائع نے ایک دوسرے کو مقدمات میں تاخیر کا ذمہ دار قرار دیا — فوٹو: نیب ویب سائٹ

کراچی : قومی احتساب بیورو ( نیب) کی جانب سے صوبہ سندھ کی 6 احتساب عدالتوں میں دائر کیے گئے بدعنوانی کے 257 مقدمات سست روی اور عدالتی صلاحیتوں کی کمی کے باعث زیرِ التوا ہیں۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق پراسیکیوشن اور عدالتی ذرائع سے جمع کیے گیے اعداد و شمار کے مطابق کراچی کی 4 احتساب عدالتوں میں 178 ریفرنسز، حیدرآباد کی عدالت میں 42 اور سکھر میں واقع احتساب عدالت میں 37 ریفرنسز زیرِ التوا ہیں۔

نیب نے مذکورہ ریفرنسز سیاستدانوں، وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتی اداروں کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ عہدیداران، ریئل اسٹیٹ ٹائیکونز ان کے رشتے دار، مبینہ فرنٹ مین اور مددگاروں کے خلاف دائر کیے تھے۔

یہ ریفرنسز عہدے کے مبینہ غلط استعمال، بدعنوانی اور حکومت کی جانب سے شروع کی گئی اسکیموں کی اشتہاری مہمات میں کرپشن میں ملوث ہونے، آمدنی کے معلوم ذرائع کے علاوہ جمع شدہ اثاثہ جات، کمرشل اسٹیٹ زمینوں سے متعلق فراڈ اور بڑے پیمانے پر عوام کو دھوکا دینے سے متعلق جرائم کے الزام میں عائد کیے گئے تھے۔

مزید پڑھیں: چیئرمین نیب کی حکام کو 10 ماہ میں میگا کرپشن کیسز نمٹانے کی ہدایت

رواں برس جون تک کراچی کی احتساب عدالت نمبر ایک میں 45، احتساب عدالت نمبر 2 میں 51، احتساب عدالت نمبر 3 اور 4 میں 51، 51 ریفرنسز زیر التوا تھے۔

اسی طرح حیدرآباد کی احتساب عدالت میں 42 اور سکھر کی احتساب عدالت میں 37 ریفرنسز زیر التوا ہیں۔

سندھ کی 6 احتساب عدالتوں میں زیرِ التوا مذکورہ 257 مقدمات میں سے 24 نئے ریفرنسز نیب کی جانب سے رواں سال کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران دائر کیے گئے تھے۔

دیگر 230 ریفرنسز گزشتہ 2 دہائیوں میں دائر کیے گئے تھے اور مختلف وجوہات کے باعث زیر التوا ہیں۔

پرانے ریفرنسز میں سال 2005 میں دائر کیے گئے 2 ریفرنسز بھی شامل ہیں جو نیب میں نے سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے شروع کی گئی انسداد بدعنوانی مہم کے تحت دائر کیے گئے تھے جنہیں متنازع نیشنل ریکنسیلیشن آرڈیننس ( این آر او) کے ذریعے ختم کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: چیئرمین نیب سمیت متعدد افراد کو 'بلیک میل کرنے والے گروہ' کے خلاف ریفرنس دائر

بعدازاں سپریم کورٹ کی جانب سے این آر او کو کالعدم قرار دینے کے بعد ان ریفرنسز کو دوبارہ شروع کیا گیا تھا۔

کراچی کی احتساب عدالت نمبر ایک نے 2018 میں 9 اور جون 2019 تک اتنے ہی مقدمات کا فیصلہ کیا۔

احتساب عدالت نمبر 2 نے 2018 میں 5 اور 2019 میں اب تک 7 مقدمات کا فیصلہ کیا جبکہ عدالت نمبر 4 نے 2018 میں 12 اور 2019 میں اب تک 13 مقدمات کے فیصلے کیے۔

تاہم احتساب عدالت نمبر 3 کی جانب سے زیر التوا مقدمات کے اعداد و شمار موجود نہیں تھے۔

بلیم گیم

قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے سیکشن 16-اے کے تحت احتساب عدالتوں کو ریفرنس دائر ہونے کے 30 دن کے اندر مقدمے کی سماعت مکمل کرنی ہوتی ہے۔

وکلا، پراسیکیوشن اور عدالتی ذرائع نے ڈان سے انٹرویوز کے دوران ایک دوسرے کو بدعنوانی کے مقدمات میں تاخیر کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

انہوں نے کہا کہ نیب کے تفتیشی افسران کی جانب سے سست پراسیکیوشن اور وکیلِ دفاع کی جانب سے تاخیر کے روایتی حربے مقدمات کے التو کی اصل وجوہات ہیں۔

عدالتی عہدیدار نے کہا کہ ’ ایک عرصے سے درجنوں مقدمات زیرِ التوا ہیں کیونکہ نیب کے اکثر تفتیشی افسران کی نااہلی کی وجہ سے ٹرائل انتہائی سست روی سے ہوتا ہے‘۔

مزید پڑھیں: شرمیلا فاروقی نے شرجیل میمن سے برآمد بوتلوں میں 'شہد' کا دعویٰ جھوٹا قرار دیدیا

انہوں نے مزید کہا کہ ’ ابتدائی طور پر ریفرنسز دائر کیے جاتے جو فوٹو کاپی کیے گئے دستاویزات پر مشتمل ہوتے ہیں جو بعدازاں سماعت کے دوران قابل قبول نہیں ہوتے لہذا تفتیشی افسران تقریبا روزانہ اصل دستاویزات کے لیے سماعت ملتوی کروانے کی کوشش کرتے ہیں‘۔

ذرائع نے کہا کہ تفتیش کاروں نے ہر ریفرنس میں کئی افراد کو پراسیکیوشن کے گواہان کے طور پر نامزد کیا ہے لیکن اکثر مرتبہ تفتیشی افسران انہیں گواہی کے لیے عدالت میں پیش کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ اس لیے ہر سماعت پر گواہ یا اصل دستاویزات موجود نہیں ہوتے جس کا نتیجہ التوا کی صورت میں نکلتا ہے‘۔

عدالتی ذرائع نے حال ہی میں احتساب عدالت کے جج کی جانب سے جاری کیے گئے ایک تفصیلی فیصلے کا حوالہ دیا جو تفتیشی افسران کی جانب سے شواہد پیش کرنے میں ناکامی سے برہم تھے۔

یہ بھی پڑھیں: نیب ایگزیکٹو بورڈ نے مزید 4 ریفرنسز دائر کرنے کی منظوری دے دی

دوسری جانب پراسیکیوشن نے وکیل دفاع کو غیر ضروری تاخیر کا ذمہ دار ٹھہرایا، انہوں نے کہا کہ ’ ایک مرتبہ جب مششتبہ شخص اپنا وکیل لے آئے تو وہ کسی چھوٹے مسئلے پر درخواستیں دائر کرکے جس حد تک ممکن ہوسکے ٹرائل میں تاخیر کے لیے ہر حربہ اپناتا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ تقریبا ہر کیس میں وکیل دفاع اپنے موکل کو جیل میں موجود ہسپتالوں میں علاج کی بہتر سہولیات میں کمی کے باعث جیل کے باہر کسی ہسپتال منتقل کرنے کی درخواست دائر کرتا ہے‘۔

پراسکیوٹر نے کہا کہ وہ ڈپریشن، ہائپر ٹینشن، ذیابیطس جیسے طبی مسائل کو انتہائی سنگین مسائل قرار دیتے ہیں جن سے ان کے موکلوں کی زندگی خطرے میں پڑسکتی ہے، بعدازاں ملزمان علاج یا چیک اپ کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت حاصل کرتے ہیں۔

وہ پاکستان پیپلزپارٹی کے سابق وزار ڈاکٹر عاصم حسین اور شرجیل انعام میمن کے مقدمات کا حوالہ دے رہے تھے۔

عدالتی صلاحیت کا فقدان

اسٹیک ہولڈرز نے کہا کہ 30 دن میں سماعت مکمل کرنے میں تاخیر کی ایک وجہ عدالتی صلاحیتوں کا فقدان ہے کیونکہ موجودہ عدالتوں پر پہلے سے مقدمات کا دباؤ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ مقدمات کی تعداد کم ہوسکتی ہے لیکن ہر کیس دستاویزاتی اور عینی شواہد کی جانچ پڑتال پر مشتمل ہوتا ہے جسے ججز کے لیے 30 دن میں مکمل کرنا ممکن نہیں ہے‘۔

گزشتہ برس سندھ ہائی کورٹ نے وزارت قانون کو سندھ میں مزید 3 احتساب عدالتوں کے قیام کی ہدایت کی تھی۔

تاہم اس وقت پاکستان مسلم لیگ(ن) کی وفاقی حکومت نے ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی تھی کہ مزید عدالتوں کے قیام کی ضرورت نہیں اور سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا حکم معطل کردیا تھا۔

مزید پڑھیں: کرپشن کیس: شرجیل میمن ضمانت پر جیل سے رہا

وکلا کا کہنا ہے کہ ٹرائل کی رفتار میں رکاوٹوں کی وجہ سے ملزم کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے جسے مہینے جیل میں رہنا پڑتا ہے۔

یہی وجہ تھی کہ متعلقہ احتساب عدالتوں کو ڈاکٹر عاصم اور شرجیل میمن کے خلاف کرپشن کیسز کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

تاخیر کی وجہ سے ملزمان کو بھی فائدہ ہوا جب حال ہی میں سندھ ہائی کورٹ نے شرجیل میمن کو حکومت کی جانب سے آگاہی اشتہارات میں مبینہ کرپشن کے الزام کیس کی سماعت میں تاخیر کے باعث ضمانت بعد از گرفتاری دے دی۔

ایک عہدیدار نے کہا کہ ’ عدالتوں کی تعداد بڑھانے کی بجائے روازنہ کی بنیاد پر سماعت کی ہدایات لازمی طور پر دوسرے مقدمات پر اثر انداز ہوتی ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ عدالتوں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہی قانون کے مطابق آسان سماعتوں کو یقینی بنانے کا واحد حل ہے۔